Wednesday, 20 November, 2019
سیا سی کشمکش: فوجی مداخلت نہیں ہوگی

سیا سی کشمکش: فوجی مداخلت نہیں ہوگی
جنرل مرزا اسلم بیگ

 

پاکستان پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت کے دور میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو متفقہ آئین دیا اور قوم کے نظریہ حیات کا تعین کیا:پاکستان کا نظام حکومت جمہوری ہوگا جس کی بنیادیں قرآن و سنہ کے اصولوں پر قائم ہوں گی۔

 استحکام جمہوریت کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک مضبوط قومی سیاسی جماعت بنایا اور نظریاتی اثاثے کو مضبوط اور مستحکم رکھنے کیلئے قومی نظریاتی کونسل قائم کی۔ وفاق کی بنیادیں مستحکم ہوئیں لیکن پانچ سال کے اندر اندر یہ نظام درہم برہم کر دیا گیا۔ گیارہ سال کے بعد جب دوبارہ جمہوری نظام بحال ہوا تو اقتدارمحترمہ بے نظیر بھٹو کے ہاتھوں میں تھا۔ اس نوجوان قیادت سے جو امیدیں وابستہ تھی وہ آپس کی چپقلش کی نذر ہو گئیں۔ سیاسی نظام مفلوج ہوا نظریاتی قدریں بے توقیر کر دی گئیں اور پھر ایک ایسا دور آیا کہ نہ جمہوریت رہی اور نہ نظریات۔ ہمارا دینی قبیلہ سیاست اور نظریات کے معاملے سے لا تعلق ہوکر تمام قومی معاملات سے الگ ہوگیا جس کے سبب غیر متعلقہ نظریات نے اپنے لئے جگہ بنا لی ہے ۔آج کی موجودہ کشمکش میں سیاست اور نظریات کا یہی الجھائو قومی سلامتی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

پیر16مئی کو منعقد ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس سے امید بندھی تھی کہ بالآخر حکومت اور حزب اختلاف سیاسی معاملات کو پارلیمنٹ کے فورم پر حل کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں لیکن وزیراعظم کی تقریر کے بعد حزب اختلاف نے اچانک پارلیمنٹ کے اجلاس سے واک آئوٹ کر کے قوم کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔حزب اختلاف کے اس عمل سے ملک میں نظریاتی ٹکرائوکھل کر سامنے آگیا ہے کہ اعتدال پسند پاکستانی قوم کو سیکولر اور روشن خیال بنادو۔ سیکولر خیال کے حامل لوگ اب پاکستان کے مقتدر اداروں اور حکومتی حلقوں میں اکثریت میں ہیں۔ یہ تصور انہی لوگوں کے ذہنوں میں راسخ ہے جو ناجائز دولت اور رسوخ کے مالک بھی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اسی طرح سیکولر ہوجائے جس طرح بنگلہ دیش ہوا ہے۔
 
یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ اگر دبائو اور انتشار کے ذریعے سے حکومت گرانے کی کوشش کی گئی تو بہت ہی خطرناک صورت حال پیدا ہو جائے گی اور بنگلہ دیش جیسی کامیابی بھی حاصل نہ ہو سکے گی کیونکہ بنگلہ دیش کا محل وقوع ہم سے بہت مختلف ہے۔بنگلہ دیش کے اطراف میں سیکولر بھارت ہے اوردوسرے ممالک بھی سیکولر ہیں۔لیکن پاکستان کے ایک طرف انقلابی ایران اور دوسری جانب انقلابی افغانستان ہے جس کے پاکستان میں اثرات نمایاں نظر آتے ہیں اورپاکستان کے اپنے اندر انتہائی مذہبی راسخ العقیدہ گروہ موجود ہے جو اس وقت فعال نہیں ہے اور وہ سیاسی معاملات سے اپنے آپ کو الگ رکھے ہوئے ہے۔ اس کا حکومت بنانے اور بگاڑنے میں کوئی کردار نہیں لیکن اگر کہیں وہ فعال ہو گیا اوریہ طبقہ جاگ گیا تو پڑوسی ممالک کی مداخلت سے اس خطے میں نہایت خوفناک جنگ ہوگی جو انڈونیشیا کی 1965-66 کی خانہ جنگی سے کہیں زیادہ خوفناک ہوگی اور اس کے نتیجے میں خدانخواستہ پاکستان کو یوگوسلاویہ جیسی صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

  شاید ہمارے دشمنوں کی سازشیں بھی یہی ہیں۔ انہی سازشوں نے کتنے ہی مسلم ممالک کو گذشتہ تیس(30) سال میں تباہ کیا ہے۔ عراق، شام، افغانستان، لیبیا ،یمن اور صومالیہ کاحشر دیکھیں ۔سوڈان کو دوحصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔شاید ہی کوئی ملک بچا ہو اور اب ایٹمی پاکستان ان کا ہدف ہے۔یہ وہ خطرناک سازش ہے جس سے ہماری عسکری قیادت پوری طرح واقف ہے۔ عسکری قیادت اور اس کی انٹیلی جنس یہ دیکھتی ہے کہ کس طرح سے ہماری جڑوں میں دشمنوں نے گھر بنا لئے ہیں۔ اسی لئے ہماری عسکری قیادت نے اعلان کردیا ہے کہ ان سازشوں میں مت الجھو اور اپنے سیاسی مسائل مل بیٹھ کر حل کرو ۔پاناما لیکس ایک سازش ہے۔ لہذا اس سازش کو بے نقاب کرنے کیلئے ٹرمز آف ریفرنس مل بیٹھ کر طے کرنالازم ہے تاکہ مجرموں کی گرفت ہو سکے۔ 

 اپوزیشن کو غلط فہمی ہے کہ 1980اور 1990کی دہائیوں کی طرح باہر سے اشارہ ملے گا اورفوج سیاسی معاملات میں مداخلت کرے گی ، اب ایسا نہیں ہوگا کیونکہ فوج کو احساس ہے کہ اگر مداخلت ہوتی ہے تو رہا سہا سسٹم بھی بکھر جائے گا۔ عدلیہ نے بھی ماضی کے نظریہ ضرورت کو ختم کر دیا ہے۔ انہیں بھی احساس ہے کہ وہ ماضی میں اس نظریے کے تحت فوجی حکومتوں کو تحفظ فراہم کرتی رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ اسی ٹوٹے پھوٹے جمہوری نظام کو مضبوط بنانا ہے اور اسی میں ہماری فلاح اور ہمارا مستقبل ہے۔ ہمیں اپنی کمزوریاں دور کرنا ہیں۔ اس نظام کو توڑ کرتبدیلی لانے کے نتیجے میں تباہی ہوگی۔ اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے اگرجرم ثابت ہوجائے تووزیراعظم کو ہٹائیں حکومت بدلیں۔جمہوری طریقہ یہی ہی اور سلامتی کا راستہ بھی یہی ہے۔

پارہ چنارکی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں فرقہ وارانہ اختلافات ہیں نظریاتی اختلافات نہیں ۔ جب وہاں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھی تو حکومت کا کنٹرول ختم ہو گیا۔پانچ سال تک پاکستان کے ساتھ اس کے راستے بندرہے وہاں کے لوگوں نے افغانستان اور ایران سے آئے ہوئے لوگوں کی مدد سے اپنی حکومت بنا لی۔ مجبورا پاک فوج نے بھرپور کاروائی کر کے اس علاقے کو پاکستان میں دوبارہ شامل کیا ہے ۔اس کام میں پاک فوج کو تقریبا دس ماہ لگے ہیں اور بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اسی طرح اگر خدانخواستہ پاکستان کے ایک بڑے علاقے میں افراتفری پھیلتی ہے تو کون اسے سنبھالے گا۔فوج کہاں کہاں حالات کو سنبھالے گی۔اس سازش کو حقیقت کا رنگ دینے میں ہمارے اپنے ہی لوگ مصروف ہیں۔ ان کو عقل کے ناخن لینا چاہئیں۔پاکستان کے آئین کی حدود میں حزب اختلاف اور حکومت مل بیٹھ کر ٹرمز آف ریفرنس(TORs) طے کریں۔ عدلیہ نے اپنی شرائط بتا دی ہیں ۔مجرموں کی نشاندہی اور احتساب لازم ہے۔

 اس طرح ملک میں سیاسی استحکام تو آجائے گا جمہوریت مضبوط ہوگی لیکن قوم کے نظریاتی اثاثے کو تقویت نہیں ملے گی۔ کام بڑا آسان ہے صرف چند مضبوط فیصلوں کی ضرورت ہے جوپارلیمنٹ کے اختیار میں ہے۔ پہلا فیصلہ یہ کرنا ہوگا کہ قومی نظریاتی کونسل میں تبدیلی لائی جائے۔ اس کی سربراہی کسی دینی عالم کے ہاتھ میں نہ ہو بلکہ پارلیمنٹ کسی اعتدال پسند دیندار پڑھے لکھے فرد کا انتخاب کرے جس کی سربراہی میں منتخب ماہرین قانون(Jurists) معاشرتی سائنسدان (Social Scientists) فلاحی کارکن اور نوجوان ہوں جو اس بات کو یقینی بنائیں کہ دین کی بنیادی تعلیم جس میں فرقوں کا اختلاف نہ ہو ۔پہلی جماعت سے لے کر آٹھویں جماعت تک لازم قرار دیاجائے تاکہ فارغ التحصیل ہونیوالے  ہر طالب علم کو ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنی شناخت حاصل ہو۔ جہاں تک مجھے علم ہے اس طرح کا دینی نصاب تعلیم قومی نظریاتی کونسل کے پاس موجود ہے لیکن اس پر عمل درآمد کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔1988ء  کے بعد جو بھی حکومت آئی ہے اس نے دینی نصاب تعلیم کو آہستہ آہستہ ختم کر دیا ہے۔ ہم نماز روزہ اورحج ضرور ادا کرتے رہے لیکن ہماری نوجوان نسل اپنی شناخت کھوتی جارہی ہے۔ یہی ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے جو ہماری موجودہ پارلیمنٹ کیلئے بڑا چیلنج ہے۔ اگر یہ تبدیلی منظور نہیں ہے تو آئین بدل دو ۔پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بجائے عوامی جمہوریہ پاکستان بنا دو کیونکہ اس طرح سے آدھا تیتر آدھا بٹیر نظریہ حیات ہمیں تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔
مصنف پاک فوج کے سابق سربراہ اور دفاعی وتزویراتی مطالعہ سے متعلق ایک تھنک ٹینک '' فرینڈز''کے چیئر مین ہیں

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  60306
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
محنت سے عاری، مایوسی کے پیکر، خود سے تنگ لوگوں کی زبان سے یہ جملہ اکثر سننے کو مل جاتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ؟ ملک کو ستر سال ہو چکے ہیں اور تمام مسائل اسی طرح کھڑے ہیں؟ تعلیم، صفائی، ٹرانسپورٹ
تاریخ کے صفحات پر سید الشہداء حضرت امام حسین ؑ کا موقف اور نقطہ نگاہ آج بھی اپنی پوری رعنائیو ں کے ساتھ رقم ہے۔ چنانچہ جب حاکم مدینہ کی طرف سے یزید کی بیعت کے لئے دباؤ ڈالا گیا
کسی بھی تحریک اور جدوجہد کے لئے عمومی طور پر تین عناصر درکار ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ تحریک کے آغاز کے وقت حالات کا منظر نامہ کیسا ہے اور کس نوعیت کے مسائل درپیش ہیں؟ دوسرا یہ کہ تحریک کے مقاصد اور اہداف کیا ہیں؟
پاکستانی قوم اس وقت جن باغیانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ساتھ اندرونی سیاسی انتشار اور خلفشار سے دو چار ہے وہ نہایت افسوسناک ہے، اس سے ملک و ملت کے استحکام اور بقا اور ملی یکحہتی کو سخت نقصان پہنچا ہے

مقبول ترین
سابق وزیراعظم کو گاڑی کے ذریعے جاتی امرا سے لاہور ایئر پورٹ کے حج ٹرمینل پہنچایا گیا، ایئر پورٹ پر کارکنان کی بڑی تعداد حج ٹرمینل کے باہر موجود تھی جنہوں نے نواز شریف کے حق میں نعرے بازی کی، نواز شریف کی گاڑی کے ساتھ
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ عدلیہ طاقتور اور کمزور کےلیے الگ قانون کا تاثر ختم کرے۔ ہزارہ موٹروے فیز 2 منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں کنٹینر
لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالتے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 4 ہفتے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی جبکہ عدالت کی طرف سے کوئی گارنٹی نہیں مانگی گئی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکنوں نے دھرنے دے کر سڑکیں بلاک کردیں۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے ’پلان بی‘ کے تحت ملک بھر میں دھرنوں کا سلسلہ

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں