Sunday, 31 May, 2020
صدی کا سودا: صہیونی سو(100) دا

صدی کا سودا: صہیونی سو(100) دا

 

تحریر: سید ثاقب اکبر

2017 سے صدی کا سودا(Deal of the Century) کے تذکرے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے نزدیک یہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کا حتمی اور جدید حل ہے۔ ہم اسے صدی کا سودا کے بجائے صہیونی سو(100)دائو پر مشتمل ایک پُر فریب جال خیال کرتے ہیں۔ 

اس ڈیل کے نقوش اور خطوط وقفے وقفے سے سامنے آتے رہے ہیں تاہم ہماری رائے ہے کہ اس کا نقطۂ آغاز مئی 2017میں منعقد ہونے والی ریاض میں اسلامی کانفرنس تھی جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرمائی۔ وہاں شاہ وسلطان، ملوک و شیوخ، صدور و وزرا جناب ڈونلڈ ٹرمپ کے حضور کورنش بجا لا رہے تھے، تلواریں تھام کر رقص ہو رہا تھا، زریں اور گراں بہا تحائف کی بارش جاری تھی۔ نئے سے نئے سینکڑوں ارب ڈالر پرمشتمل سودوں پر دستخط کیے جارہے تھے۔ صدر ٹرمپ ایک ادائے دلربایانہ سے سارے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ جام سے جام ٹکراتے تھے اور ساتھ ہی امریکی صدر اپنے اسلحے کے خوبصورت ہونے کا ذکر بھی کیے جا رہے تھے۔ وہ بالکل مدہوش نہ تھے، پوری طرح ہوش میں تھے اور اسلحہ بیچنے کے لیے طرح طرح کی ادائیں دکھا رہے تھے۔ 

اس کے بعد وہ ریاض سے اسرائیل پہنچے، یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ سعودی عرب سے کوئی فلائٹ سیدھا اسرائیل جا پہنچی لیکن دور بدل رہا تھا، نئی سینچری کی نئی ڈیلیں ہو رہی تھیں۔ صدر ٹرمپ ان دنوں اسرائیل پہنچے جب مظلوم فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے محروم کر کے 69برس پہلے اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اُس وقت یہ کردار برطانیہ نے نبھایا تھا جس کے سامراجی نقشوں کو نئی آدرشوں سے سجا کر امریکا ان پر عمل پیرا ہے اور انھیں آگے بڑھانے کی کوششوں کی سربراہی کررہا ہے۔ اُس وقت فلسطینی یوم نکبہ منا رہے تھے، وہی یوم نکبہ جو ان کی دربدری کی یاد دلاتا ہے، ان کی مظلومیت کا قصہ دہراتا ہے اور اپنے گھروں میں واپسی کے لیے اُن کی امنگوں کو تازہ کرتا ہے۔ 

اس موقع پر امریکی صدر نے ایک ایسی بات کہہ دی جسے عالمی سیاست میں تعجب سے سنا گیا اور شاید بہت سے لوگوں کے لیے یہ کوئی انہونی تھی کیونکہ ساری دنیا سے اُس کے خلاف ردعمل سامنے آیا۔ بات یہ تھی کہ ابھی تک اقوام متحدہ، یورپی یونین اور دیگر عالمی ادارے مسئلہ فلسطین کے لیے جس ’’حل‘‘ کو قبول کیے ہوئے تھے، وہ دو ریاستی حل تھا۔ اسرائیل میں کھڑے ہو کر پہلی دفعہ ایک امریکی صدر نے کہا کہ ہم ایک ریاستی حل پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے ایک ریاستی حل کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل رہے گا، فلسطین نہیں رہے گا۔ 

اُس کے بعد امریکا کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ وہ اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کر دے گا۔ پھر دسمبر 2017 میں امریکا نے پوری دنیا کی مخالفت کے باوجود یہ کام کر دکھایا۔ یہ سب اقدامات صدی کے سودے پر عملدرآمد کی پیش رفت کو ظاہر کررہے تھے ۔حال ہی میں امریکا کی طرف سے جولان ہائیٹس جو شام کا قانونی حصہ ہیں، کو اسرائیل کا علاقہ قبول کر لیا گیا ہے، اسے بھی ڈیل آف دی سینچری کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔

صدی کے سودے کی جو دیگر شقیں سامنے آئی ہیں اُن کے مطابق بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت اور اس کے مشرق میں موجود شہر ’’ابو دیس‘‘ کو فلسطین کا نیا دارالحکومت بنایا جانا ہے۔ فلسطینی ’’ریاست‘‘ کو مغربی کنارے کا کچھ حصہ دیا جائے گا اور غزہ کی پٹی بھی اس فلسطین کا حصہ قرار پائے گی۔ یاد رہے کہ مغربی کنارے اور غزہ کی سرحدیں آپس میں نہیں ملتیں۔ اس کے لیے صرف ایک راستہ دیا جائے گا جس کی نگرانی اسرائیل کرے گا۔ فلسطین کی اپنی کوئی فوج نہیں ہوگی اور فلسطین کی ’’سیکورٹی کی ذمہ دار ‘‘اسرائیلی فوج ہوگی۔ فلسطین کی پولیس کو چھوٹے ہتھیار رکھنے کی اجازت ہوگی، یہ ہتھیار بھی اسرائیل کی اجازت سے ہی رکھے جا سکیں گے۔ حماس، جہاد اسلامی جیسے گروہ اپنا تمام تر اسلحہ سودا کروانے والوں کے سامنے رکھ دیں گے۔ درۂ اردن اسرائیل کی حاکمیت میں آ جائے گا۔ مشرقی بیت المقدس کے عرب محلے جن میں قدیمی شہر شامل نہیں ہیں فلسطینی حکومت کے حوالے ہوں گے، اصل بیت المقدس جس میں الاقصیٰ بھی شامل ہے، اسرائیلی دارالحکومت کا حصہ قرار پائے گا۔ اس نئی ڈیل میں دربدر فلسطینیوں کی واپسی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ علاوہ ازیں وہ ناجائز بستیاں جو عرب سرزمینوں پر اسرائیل نے بیرونی ممالک سے آنے والے یہودیوں کے لیے بنائی ہیں اس ڈیل کے مطابق وہ جائز قرار پا جائیں گی اور اسرائیل کا’’قانونی‘‘ حصہ ہو جائیں گی۔ اسرائیل جسے ابھی تک اقوام متحدہ نے غیر نسلی اور جمہوری ملک کا عنوان دے رکھا ہے ،صدی کے سودے میں اسے ایک یہودی ریاست کے طور پر قبول کر لیا جائے گا۔ ڈیل کے مطابق صحرائے سینا جو فلسطین کا نہیں ہے بلکہ مصر کی مملکت کا حصہ ہے، کے ایک علاقے میں فلسطینیوں کو منتقل کیا جائے گا۔ اس طرح وہ اپنے آباء کی سرزمین سے نکل کر وہاں آباد کاری شروع کریں گے۔ 

منصوبے کے مطابق جب محمود عباس یا ان کی جگہ ان جیسا فلسطینی نمائندہ اس ڈیل پر دستخط کر دے گا تو ساتھ ہی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، مصر اور ان سے ہم آہنگ دیگر عرب ممالک اس منصوبے کی تائید کر دیں گے یوں اسرائیل کو کھلے بندوں ایک جائز ریاست تسلیم کر لیا جائے گا۔ اس ڈیل کے مطابق ابھرنے والے فلسطین کو جدید فلسطین کا نام دیا جائے گا جو القدس سے محروم ہوگا۔ یاد رہے کہ اس ڈیل کو قبول کرنے کے لیے سعودی عرب کی طرف سے محمود عباس کو دس ارب ڈالر کی پیشکش کی جا چکی ہے۔

اس ڈیل کے راستے میں فلسطین کے اندر نئی قوت پکڑتی ہوئی اپنے گھروں کو واپسی کی عظیم تحریک حائل ہے جو اسرائیل کے لیے خواب شکن تحریک بن کر سامنے آئی ہے۔ دوسری بڑی رکاوٹ حماس کی راکٹ اور میزائل کی قوت ہے، اس کے مقابلے میں اسرائیل کئی مرتبہ جنگ بندی کے لیے درخواست کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ تیسری بڑی رکاوٹ لبنان میں موجود حزب اللہ ہے جو پہلے ہی اسرائیل کو کئی محاذوں پر شکست دے کر سرخرو ہو چکی ہے۔ چوتھی بڑی رکاو ٹ شام کی موجودہ حکومت ہے جسے ہٹانے کے لیے امریکا اور اس کے حواریوں نے سات برس تک سر پٹخے ہیں لیکن انھیں نامرادی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ اسرائیل کے ارد گرد عرب ممالک میں شام وہ واحد ملک ہے جس نے اسرائیل کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے اور اسے تسلیم نہیں کیا بلکہ آج تک وہ فلسطین کی آزادی کی تحریکوں کا سرپرست رہا ہے۔ مستقبل میں عراق میں طاقت پکڑتی ہوئی مزاحمت کی تحریکیں بھی اس بڑے مزاحمتی محاذ کا حصہ بن سکتی ہیں جو اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست سمجھتی ہیں۔ شاید امریکا اور اسرائیل کی نظر میں ان تمام مزاحمتی تحریکوں کا سرگروہ اور انھیں نظریاتی اور عملی مدد فراہم کرنے والا ایران ہے جس میں آج سے 40برس قبل برپا ہونے والے اسلامی انقلاب کے بعد جو پہلے پہلے کام کیے گئے ان میں سے ایک اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرکے اس کے سفارت خانے کی عمارت کو یاسر عرفات مرحوم کی الفتح کے سپرد کر ناشامل تھا اور جس کے نزدیک خطے اور عالم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ فلسطین کی آزادی ہے ، جو اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست سمجھتا ہے اور دنیا کے امن و سلامتی کے لیے اسرائیل کا خاتمہ ناگزیر قرار دیتا ہے۔ شاید اس کی خارجہ پالیسی کا یہ کارنر سٹون ہے اسی لیے ان دنوں امریکا اس کے خلاف تاریخ کی بدترین اور ظالمانہ ترین اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے بعد فوجی محاصرہ کیے ہوئے ہے۔

امریکا کے ماضی کے فوجی اور اقتصادی اقدامات کو سامنے رکھا جائے اور دوسری طرف ایران کی استقامت کی چالیس سالہ تاریخ پر نظر کی جائے تو نتیجہ صاف دکھائی دیتا ہے۔ آخر کار دس ہزار کلو میٹر سے زیادہ فاصلہ سے اس خطے میں آکر دھونس جمانے والوں کی شکست ہوگی۔ امریکا، برطانیہ اور اس کے اس علاقے میں موجود حواری شاہ و سلطان گذشتہ چار برس سے اگر انتہائی غریب و فقیر اور نہایت کمزور ملک یمن کو شکست نہیں دے سکے تو ایران کے خلاف وہ کیا کر سکتے ہیں؟ شاید یہی وجہ ہے کہ ان دنوں امریکی صدر ایران سے مذاکرات کے لیے مضطرب دکھائی دیتے ہیں جبکہ دوسری طرف ایران ہے کہ اس نے بڑے وقار سے امریکی طاغوت کی مذاکرات کی پیشکش کو جھٹک دیا ہے۔ بحری بیڑے، فوجی اڈے، جدید ترین جنگی جہاز علاقے میں اکٹھے کرکے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار اعلان کرتے پھرتے ہیں کہ ہم ایران سے جنگ نہیں چاہتے اور اپنی ہی حکومت کے ان عہدے داروں کو ڈانٹ پلا رہے ہیں جو ایران سے جنگ کی باتیں زیادہ بلند آواز سے کرنے لگے تھے۔ ایسے میں صدی کے سودے کا کیا ہوگا، صہیونی سو100دائو کس نتیجے تک پہنچیں گے، وہی نتیجہ جو قرآن حکیم نے پہلے ہی بیان کر رکھا ہے:

مکروا و مکراللّٰہ واللّٰہ خیر الماکرین

انھوں نے سازش کی اور ان کے مقابل اللہ نے تدبیر کی اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مضمون نگار ’’مبصر ڈاٹ کام‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں اور البصیرہ کے سربراہ ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  18448
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کو سب سے زیادہ نقصان مسلمان حکمرانوں نے دیا ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان بستے تھے ان کے اگر جھونپڑیوں کو تباء کیا گیا یا ان کو قتل کیا گیا تو اس میں بھی مسلمان حکمرانوں نے اپنے تخت کو بچانے کے لیے اپنا منافقانہ طریقے کار اپنایا۔ القدس وہ مقدس جگہ ہے جس کو بچانے کے لیے یا آزاد کرنے کے لیے ہر دور میں مسلمان حکمرانوں نے نعرہ بلند کیا۔ اس نعرے کے پیچھے ان کے کئی مقاصد ہوا کرتے تھے جب وہ اپنے مقاصد کو پہنچ جاتے توالقدس کو فراموش کر دیتے تھے۔
دنیا میں لوگ کامیابی حاصل کرنے کےلیے ہر مشکل کو گلے لگانے کےلیے تیار بیٹھے ہیں کامیاب ہونا اور ترقی کی راہوں پر گامزن ہونا ہر ایک کی دلی تمناء ہے اب کامیابی کے معیارات مختلف ہیں اس حساب سے اسکی راہ بھی مختلف ہوتی ہے کسی کا معیار حکومت ہے، کسی کا دولت جمع کرنا اور کسی کا علمی میدان جیت جانا ہے وغیرہ ۔
مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں کا قبلہ اول کہا جاتا ہے۔ اسے اسلامی نقطۂ نظر سے خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد مقدس ترین مقام کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ مسجد فلسطین کے دارالحکومت بیت المقدس کے مشرقی حصے میں واقع ہے جس پر اس وقت اسرائیل کا قبضہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مسجد کے اندر پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے البتہ اس کے وسیع صحن بھی موجود ہیں جن میں ہزاروں افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔
ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی رہنمائوں نے کہا ہے کہ 27 رمضان المبارک کی شب کو پاکستان کا معرض وجود میں آنا اس وطن کی خصوصی مذہبی حیثیت کا آئینہ دار ہے، حکومت پاکستان اس روز کو بھی سرکاری طور پر یوم پاکستان کی حیثیت سے منائے

مقبول ترین
پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما راجہ ظفر الحق کا کہنا ہے کہ ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو جاتا ہے۔ میڈیا کے مطابق وزیر ریلوے شیخ رشید نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں ایٹمی دھماکے انہوں نے، گوہر ایوب اور
وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ ساری قوم کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ایٹمی دھماکا راجا ظفر الحق، گوہر ایوب اور میں نے کیا، نواز شریف سمیت ساری کابینہ ایٹمی دھماکے کے خلاف تھی۔ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران شیخ رشید احمد نے
معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا کے مقامی سطح پر پھیلاؤ کی شرح 92 فیصد ہے لہٰذا عوامی مقامات پر ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دے رہے ہیں۔ وزیراعظم کے معاونین خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا اور
وزیر مملکت برائے امور کشمیر شہریار آفریدی بھی کورونا کا شکار ہوگئے ہیں۔ وزیر مملکت نے قوم کے لیے دعا دی اور کہا رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ وطن عزیز کو موذی وباء سے محفوظ بنائے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں