Monday, 16 December, 2019
عراقی کردستان، گریٹر گیم کا حصہ ہے

عراقی کردستان، گریٹر گیم کا حصہ ہے

بغداد ۔ عراق کی سیکورٹی کونسل، وزیراعظم العبادی اور عراقی پارلیمنٹ نے عراق کے نیم خود مختار علاقے کردستان کے صدر بارذانی کی طرف سے 25 ستمبر کو اعلان کردہ ریفرنڈم کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر علیحدگی  کیلئے اعلان کردہ ریفرنڈم نے صورتحال خراب کی تو عراقی حکومت فوجی طاقت کو بروئے کار لائے گی۔

تفصیلات کے مطابق عراق کے نیم خود مختارعلاقے کردستان کے صدر بارذانی نے 25 ستمبر کو عراق کی وفاقی حکومت سے علیحد گی کیلئے ریفرنڈم کرانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ بارزانی اور ان کے ساتھی اپنے اعلان پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ تاہم انھوں نے گذشتہ رواز چند شرائط کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ریفرنڈم دو سال تک کیلئے ملتوی کرنے پر تیار ہیں مگر اس کیلئے عراق کی وفاقی حکومت انھیں نیم خودمختار عراقی کردستان حکومت کو علاقے کی گیس اور تیل برآمد کرنے اور اس کی آمدنی کو استعمال کرنے کی اجازت دے۔ یہ شرائط جو کہ عملا کردستان کو ایک آزاد مملکت کی طرف لے جانے کے ہی مترادف ہیں۔

عراق کی سیکورٹی کونسل نے اس مسئلے پر ہونے والے ایک اجلاس کے بعد کردستان کی عراق سے علیحدگی کیلئے ہونے والے ریفرنڈم کو مسترد کرتے ہوئے اسکی مخالفت کی ہے اور اسے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کی وحدت، استقلال، ملک کے تمام علاقوں کے یکجا رہنے میں ہی ہے۔  سیکورٹی کونسل نے  کردستان کی علیحدگی کا اعلان عراق کی قومی سالمیت اور عراقی قوم کے اتحاد کے منافی قرار دیا ہے۔ سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں عراق کے وزیر دفاع، وزیر داخلہ، وزیر قانون، فوج کے آپریشنل نمائندے اور عدالتی نمائندے شامل تھے۔

ادھر علاقے کے وہ ممالک جن میں کرد آبادی موجود ہے وہ بھی عراقی کردستان کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ایران اور ترکی نے بھی ریفرنڈم کے اعلان کی مخالفت یکرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ  عراق کی تقسیم کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ جبکہ اسرائیل نے کھل کر آزاد اور خودمختار کردستان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف امریکا بھی شام میں کردوں کا ایک خود مختار علاقہ قائم کرنا چاہتا ہے۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  57774
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
محنت سے عاری، مایوسی کے پیکر، خود سے تنگ لوگوں کی زبان سے یہ جملہ اکثر سننے کو مل جاتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ؟ ملک کو ستر سال ہو چکے ہیں اور تمام مسائل اسی طرح کھڑے ہیں؟ تعلیم، صفائی، ٹرانسپورٹ
تاریخ کے صفحات پر سید الشہداء حضرت امام حسین ؑ کا موقف اور نقطہ نگاہ آج بھی اپنی پوری رعنائیو ں کے ساتھ رقم ہے۔ چنانچہ جب حاکم مدینہ کی طرف سے یزید کی بیعت کے لئے دباؤ ڈالا گیا
پاکستانی قوم اس وقت جن باغیانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ساتھ اندرونی سیاسی انتشار اور خلفشار سے دو چار ہے وہ نہایت افسوسناک ہے، اس سے ملک و ملت کے استحکام اور بقا اور ملی یکحہتی کو سخت نقصان پہنچا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے خلاف بیان اور دھمکیوں کے بعد پاکستان کے سیاسی و عسکری قائدین کی طرف سے بیانات اور ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں 23اگست 2017کو ایوان بالا میں

مقبول ترین
معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اگر لاڑکانہ میں بھٹو زندہ ہے تو غریب مر چکے ہیں۔ بلاول نے کرپشن سے اپنا رشتہ ابھی تک نہیں توڑا۔ پیپلز پارٹی نے بھٹو کے نظریے کو ختم کر دیا ہے۔
نریندر مودی کی اگلی جیت ہندوستانی شہریت کا ترمیمی ایکٹ ہے، جس نے آسام اور پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اندر بے چینی کو جنم دے دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مودی جی اور کون کون سی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ ناگالینڈ، ٹیپورہ، خالصتان بھی مودی کا منہ تک رہے ہیں۔ امید ہے فاتح ہندوستان جلد یا بدیر ان غلطیوں کی اصلاح کی بھی کوشش کرینگے۔ آئینی جنگ تو وہ شاید جیت جائیں، تاہم انکے ان اقدامات کے سبب وہ وقت دور نہیں کہ جب ہندوستان کی ساجھے کی ہانڈی بھرے چوراہے میں پھوٹے گی اور تاریخ ایک مرتبہ پھر ہندوستان کی تقسیم کا منظر اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریگی۔
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں جنوبی پنجاب بھی برابرکا ترقی یافتہ ہو، سی پیک سے لاہور میٹروٹرین چلائی گئی لیکن بلوچستان میں کیکڑا بس بھی نہیں دی گئی۔
کوئٹہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھا کہ اس وقت بلوچستان میں لوگوں کو حقوق نہیں دیےجارہے، بلوچستان میں دیگر صوبوں سے زیادہ وسائل ہیں، مگربدقسمتی سے بلوچستان کے لوگ محروم ہیں، نالائق اور نااہل

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں