Monday, 03 August, 2020
’’23 مارچ 1940 کا تاریخی دن‘‘

’’23 مارچ  1940 کا تاریخی دن‘‘
تحریر: ثاقب حسن لودھی

 

23 مارچ وہ تاریخی دن ہے جس دن    بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح  نے  اللہ کے حکم سے مملکت خداداد  کے معرض  وجود میں آنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا تھا۔  23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک جہاں اب   اسی دن کی مناسبت اور ملک سے محبت اور تاریخ کو زندہ رکھنے والا مینار پاکستان تعمیر ہے  میں   قائد اعظم اور برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی جانب سے واشگاف انداز میں یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ وہ برسوں سے جاری انگریز ہندو گٹھ جوڑ  کو توڑنے  اور  اسلام کے اصولوں  کے  مطابق اپنی زندگیاں  گزارنے کی خاطر  ایک الگ ملک کی خاطر جان  کی بازی لگانے کو بھی تیار ہیں۔  اگر برصغیر پاک و ہند  میں اسلام کی آمد  کی بات کی جائے تو اس کا قرعہ محمد بن قاسم کے سندھ پرحملے  کو دیا جا سکتا ہے جس کے بعد مسلمان حکمرانوں نے وقتا فوقتا  برصغیر ک مختلف حصوں پر حکمرانی کی اور اسلام کی اشاعت و ترویج کی خاطر جدوجہد کی۔ اس حوالے سے   علمائے کرام  و صوفی بزرگوں کی خدمات بھی لائق تحسین ہیں جنہوں نے  ہر دور میں اسلام کا پرچم سر بلند رکھا۔  

جنگ آزادی 1857  میں ناکامی کے بعد  مسلمانان برصغیر ہندووں و انگریزوں کے زیر تسلط رہنے پر مجبور ہو گئے۔ انگریز  ا  برصغیر میں تجارت کی غرض سے آیا تھا جنگ آزادی کے بعد پورے برصغیر کا حکمران بن  گیا۔  انگریزوں نے مسلمانوں اور ہندووں  کی نا اتفاقی  کا فائدہ اٹھاتے  ہوئے  جنگ میں کامیابی حاصل  کی تھی۔ بعد ازاں ہندووں نے انگریزوں  کے ساتھ اتحاد کر لیا اور اس طرح مسلمان جو پہلے ہی ناکامی کے بعد دلبرداشتہ تھے مزید مایوس ہو گئے۔ ان حالات میں  اردو  ہندی تنازعہ  اور ہندووں کی دیگر تحریکوں نے  مسلمانوں  پر ہر جانب سے آگے بڑھنے کے دروازے بند کر دیے تھے۔   اس  اثنائ  میں سر سید احمد خان   نے علی گڑھ  کالج  اور محمڈن ایجوکیشنل  کے ذریعے  مسلمانوں کو تعلیم یافتہ بنانے  اور معاشرے میں  کارآمند شہری بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔   1885 میں انڈین نیشنل کانگریس   بننے کے بعد  ’’ہندو مسلم اتحاد‘‘   کی آڑ میں مسلمانوں کو رام کرنے  کی بھی کوشش کی گئی  مگر جلد ہی مسلمان رہنماووں نے اس بات کا اندازہ کر لیا کہ کانگریس صرف ہندووں کی جماعت ہے جس کو مسلمانوں کے مفادات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ 


یہ اس وقت کی بات ہے جب  تاریخ بدلنے والے  وکیل محمد علی جناح  نے  سیاست کرنا  شروع کی تھی۔  پہلے پہل وہ بھی  ہندو مسلم اتحاد کے داعی رہے اور اس بات کی کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح سے دونوں اقوام  میں  اتحاد پیدا کیا جائے تا کہ  مشترکہ طور پر  انگریز  راج کے خلاف جدو جہد کی جا سکے۔ ان تمام کوششوں کے با وجود نوجوان محمد علی جناح  کی سیاسی بصیرت نے اچھا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بھانپ لیا تھا کہ ہندو کبھی بھی مسلمانوں کے وفادار نہیں ہو سکتے۔ 

اس بنیاد پر انہوں نے 1906  میں  بننے والی  آل انڈیا مسلم لیگ  میں شمولیت اختیار کی  اور ایک الگ مسلم ریاست کے حصول کے لیے جاندار کوششوں کاآغاز ہوا۔ 

بعد ازاں نہرو رپورٹ کے جواب میں  قائد کے 14 نکات ہوں  یا  شاعر مشرق علامہ محمد اقبال  کا گول میز کانفرس میں خطاب، تحریک پاکستان اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہی۔  گو کہ 1937  میں ہونے والے  انتخابات کے نتائج مسلمانان ہند کے لیے کسی طور پر بھی  سود مند نہ تھے  مگر ان نتائج نے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کر دیا تھا۔  اس کے بعد 23 مارچ 1940 کا وہ تاریخی دن آیا  جب مسلمانان ہند نے  یک  آواز ایک الگ مسلم ریاست پاکستان کا نعرہ بلند کیا۔ اس اجلاس میں واشگاف انداز میں یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ مسلمانان بر صغیر اب پاکستان سے کم کسی بات پر راضی نہ ہوں گے۔ اسی  اجلاس کا نتیجہ نکلا  کہ  برطانوی  راج کو 46 ـ 1945 میں  دوبارہ انتخابات کرانے پڑے جو پاکستان کے معرض وجود میں آنے کا باعث بنے۔
 
14 اگست 1947 کو پاکستان  کے معرض وجود میں آنے کے بعد گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح نے نئی نویلی مسلم ریاست کی خارجہ پالیسی کے خدوخال بیان کرتے ہوئے  فرما دیا تھا کہ"پاکستان اپنے تمام پڑوسی ممالک سمیت عالمی دنیا سے دوستانہ تعلقات  بنائے گا۔"  انہی اصولوں پر  نو مسلم ریاست کی  عوام دوست پالیسی اور نیشنل سیکیورٹی پالیسی کی بنیاد رکھی گئی۔ اس بات سے بھی قطعا انکار ممکن نہیں کہ آزادی کے بعد بھی دشمن نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جس کا واضح ثبوت 1948 ، 1965، 1971 اور 1999 کی جارحیت ہیں  جس کا ہر بار پہلے سے بڑھ کر  منہ توڑ جواب دیا گیا۔  

آج بھی  پاکستان کو   سیاسی و معاشی سمیت کئی سنگین مسائل کا سامنا ہے۔  دشمن ہر  پلیٹ فارم پر  اپنی ہزیمت کا بدلہ لینے  کی کوشش کرتا رہتا ہے  جس سے آگاہ رہنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔  دہشت گردی ہو یا انتہا پسندی ، پاکستان نے تمام    چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کیا   ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔   بری ہو یا بحری، زمینی آپریشنز ہوں یا فضائی ، پاکستان نے  ہر جگہ اپنی طاقت کا لوہا منوایا ہے۔   

حال ہی میں بھارتی جارحیت  کو ناکام بنانا اور بالخصوص پاک بحریہ کی جانب سے بھارتی آبدوز کو  نشانہ نہ بنانا اور اس کو  واپس بھاگ جانے پر مجبور کر دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان نہ صرف  ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہے بلکہ سیاسی و عسکری قیادت پروفیشنل اپروچ رکھتی ہے۔  اس حوالے سے پوری قوم اپنی عسکری قیادت کی پشت پر کھڑی ہے جنکی لا زوال قربانیوں سے ہی امن ممکن ہوا ہے۔ اس حوالے سے بری و فضائی چیفس کی طرح   بحری چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی کا   دشمن ملک کے حوالے سے  دوٹوک موقف   قوم کے عزم و حوصلے  کو ظاہر کرتا ہے۔ ہمیں آج  کے دن کی مناسبت سے یہ عہد کرنا ہو گا کہ  تمام تر  اختلافات کے با وجود ملک کی تعمیر و ترقی و سلامتی کے لیے  ہم سب  یک جان یک آواز ہیں  کیونکہ یہ دن ہم سب سے یہی تقاضا کرتا ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  26464
کوڈ
 
   
مقبول ترین
سعودی عرب، خلیجی ممالک، ترکی، امریکا اور یورپ کے کئی ممالک میں عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وجذبے سے منائی جارہی ہے جبکہ کورونا وبا کے باعث سماجی فاصلے اور احتیاطی تدابیر کا مکمل خیال رکھا جارہا ہے۔
سرینگر:وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام سے تعلق رکھنے والے نیشنل کانفرنس پارٹی کے سرکردہ رہنما روح اللہ مہدی نے ٹویٹر پر اس بات کا اعلان کیا کہ وہ اب اس منصب سے دستبردار ہوگئے ہیں، لہذا آئندہ سے ان کے کسی بھی بیان کو نیشنل کانفرنس سے منسوب نہ کیا جائے۔
ایک عجیب وغریب واقعے میں کان پور پولیس نے ایک بکری کو ماسک نہ پہننے پرگرفتارکرلیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بیکن گنج پولیس نے بکری کو اٹھایا اور جیپ میں بٹھا کر تھانے لے گئی۔
وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ لگتا ہے کراچی میں کوئی حکومت ہی نہیں اور کراچی والوں کوسندھ حکومت کےرحم وکرم پرنہیں چھوڑاجاسکتا۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے صوبے بالخصوص کراچی کی ترقی کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں