Tuesday, 15 October, 2019
’’محرم الحرام: مختلف شہروں میں دفعہ 144 نافذ‘‘

’’محرم الحرام: مختلف شہروں میں دفعہ 144 نافذ‘‘

 

اسلام آباد / لاہور ۔ محرم الحرام کے موقع پر سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد، کوئٹہ اور ہنگو سمیت کئی شہروں میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے موٹرسائیل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ میڈیا کے مطابق وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں بھی 6 محرم الحرام سے یوم عاشور تک دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جس کے تحت کسی بھی قسم کے اجتماع اور موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد ہو گی۔

علاوہ ازیں پنجاب میں محرم میں دہشتگردی کے خطرے کے پیش نظر 964 امام بارگاہیں اور مساجد حساس قرار دی گئی ہیں۔  مجالس و جلوسوں میں سبیل، نیاز اور لنگر کو بھی خصوصی طور پر چیک کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

میڈیا کے مطابق دفعہ 144 کےتحت دارلحکومت میں کھلونا نما اسلحے پر پابندی کا اطلاق 2 ماہ تک رہے گا جب کہ ڈرونز کو ماتمی جلوس اور مجالس کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے ڈرون کیمرے کے استعمال پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے بھی 9 اور 10محرم کو لاہور میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تلاشی کے بغیر سامان ماتمی جلوسوں کے اندر نہیں لے جایا جاسکتا۔محکمہ داخلہ پنجاب نے مجالس اور جلوسوں کو طے شدہ اوقات پر ختم کرنے کی پابندی کی بھی ہدایات کی ہیں۔

بلوچستان کی صوبائی حکومت نے  کوئٹہ میں بھی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر آج یعنی یکم محرم الحرام سے موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی ہے جس کا اطلاق 10محرم تک رہے گا۔

اسی طرح خیبر پختون خوا حکومت نے ضلع ہنگو میں یکم محرم سے 13 محرم الحرام تک موٹر سائیکل چلانے پر مکمل پابندی عائد لگادی گئی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق خلاف ورزی کرنیوالوں کو گرفتار کرکے ان کی موٹرسائیکل ضبط کی جائےگی۔

درین اثنا میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت سمیت اہم اضلاع کی 964 امام بارگاہوں اور مساجد کو دہشت گردی کے خدشے کے حوالے سے انتہائی حساس قرار دیدیا گیا جبکہ مجالس و جلوسوں میں سبیل، نیاز اور لنگر کو بھی خصوصی طور پر چیک کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ جلسے اور جلوس کے راستوں، امام بارگاہوں اور مساجد کی قریبی خالی اور زیر تعمیر عمارتوں میں خود کش بمباروں کی موجودگی کی بھی اطلاع پائی جاتی ہے۔

ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے نے پولیس افسروں کو پیشگی اطلاع دی ہے کہ لاہور کی 24 امام بارگاہیں کربلا گامے شاہ، موچی گیٹ مسجد کشمیراں، سادات کالونی، کالی کوٹھی سٹاپ اقبال ٹاؤن، کرشن نگر، سمن آباد امامیہ مسجد فقہ جعفریہ، ظفر کالونی قصر بتول، قصر ابو طالب، قصر زینب وحدت روڈ، شاہدرہ اور دیگر امام بارگاہوں کو حساس قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ فیصل آباد کی امام بارگاہ دھوبی گھاٹ، جھنگ، سرگودھا، ساہیوال، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، قصور، خانیوال، منڈی بہاء الدین اور ڈیرہ غازی خان سمیت دیگر اضلاع کی اہم امام بارگاہوں کو بھی حساس قرار دیا گیا ہے۔

حساس قرار دی گئی تمام امام بارگاہوں کی فول پروف سیکیورٹی بنانے کیلئے اعلیٰ پولیس افسروں، بم ڈسپوزل سکواڈ اور دیگر امدادی ٹیموں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ پولیس اہم بارگاہوں کی قریبی خالی اور زیر تعمیر عمارتوں، مارکیٹوں اور گھروں کو خصوصی طور پر چیک کرے اور وہاں سنائپرز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ شر پسند سبیل، لنگر اور نیاز میں کوئی کیمیکل یا زہر وغیرہ بھی شامل کر سکتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید لکھا گیا ہے کہ جلوس اور مجالس میں کوئی خود کش بمبار سیاہ لباس میں ملبوس ہو کر شامل ہونے کی کوشش کرے گا۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن کرنے کا خصوصی ٹاسک رینجرز کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ 2 خواتین سمیت 5 خود کش بمبار پنجاب میں داخل ہوئے ہیں۔ نویں اور دسویں محرم کو فوج کو بھی تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جبکہ اہم جلوسوں کی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے فضائی نگرانی کی جائیگی جس میں ایک پولیس افسر اور فوجی سنائپرز موجود ہونگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  37940
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
محنت سے عاری، مایوسی کے پیکر، خود سے تنگ لوگوں کی زبان سے یہ جملہ اکثر سننے کو مل جاتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ؟ ملک کو ستر سال ہو چکے ہیں اور تمام مسائل اسی طرح کھڑے ہیں؟ تعلیم، صفائی، ٹرانسپورٹ
پاکستانی قوم اس وقت جن باغیانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ساتھ اندرونی سیاسی انتشار اور خلفشار سے دو چار ہے وہ نہایت افسوسناک ہے، اس سے ملک و ملت کے استحکام اور بقا اور ملی یکحہتی کو سخت نقصان پہنچا ہے
دنیا کا واحد ملک پاکستان ہے جو دہشت گردی کے خلاف یکسوئی کے ساتھ نبرد آزما ہے ہزاروں شہریوں اور ہزاروں سیکورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذارانہ دے کر دہشت گردوں کو ناکام بنایا ہے پاکستان ہی وہ دنیا کا

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور
اسلام آباد میں وزیراعظم آفس کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کیخلاف انسانی زنجیر بنائی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس تقریب میں شرکت کی اور قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں
برطانوی پولیس نے 2016 میں برطانیہ سے بیٹھ کر پاکستان میں نفرت انگیز تقریر کرنے سے متعلق تفتیش میں متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین پر دہشت گردی کی دفعہ کے تحت فرد جرم عائد کردی۔
وزیراعظم کی چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات ہوئی جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور علاقائی سیکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں