Monday, 09 December, 2019
’’ریاض: اسرائیلی شہری مدینہ میں‘‘

’’ریاض: اسرائیلی شہری مدینہ میں‘‘

 

ریاض ۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورة وہ شہر ہیں جہاں غیرمسلموں کو داخلے کی اجازت نہیں اور یہی وجہ ہے کہ روس میں پیدا ہونے والے اسرائیلی یہودی شخص کی مسجد نبوی کے اندر لی جانے والی تصاویر تنازعے کا باعث بن گئیں۔

عالمی میڈیا کے مطابق اسرائیل کے ایک شہری کی سعودی عرب کے شہر مدینہ کی مسجد نبویؐ میں تصاویر عرب دنیا کے سوشل میڈیا پر غم و غصے کا باعث بن گئیں، فیس بک کے پیج پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر میں اسے مسلمانوں کے مقدس شہر مدینہ کی مسجدِ نبویؐ میں دیکھا جا سکتا ہے۔روس میں پیدا ہونے والا31 سالہ اسرائیلی شہری بین تسیون اپنے ایران، لبنان، سعودی عرب اور اردن کے دورے کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتارہا ہے۔ 

مسجد نبویؐ میں لی گئی تصویر کے بارے میں تسیون نے فیس بک پر کی جانے والی اپنی پوسٹ میں کہا’’سعودی عرب کے لوگ یہودی قوم کے ساتھ کھڑے رہیں گے‘‘، ایک اور تصویر میں اس کوسعودی عرب کے ٹخنوں تک لمبے روایتی لباس میں تلوار کے ساتھ جسے 'ثوب' کہا جاتا ہے، ڈانس کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ تیسون نے اپنی ایک اور پوسٹ میں لکھا کہ ’’مشرقِ وسطیٰ میں امن ایک دوسرے کے لیے محبت اور عزت کے ساتھ‘‘تیسون کی تصاویر سامنے آنے کے بعد تنازعہ اس بات پر بھی ہے کہ غیر مسلمانوں کو مکہ کا دورہ کرنے سے منع کیاجاتاہے اور ان کو مدینہ کے مرکزی حصے میں داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں جہاں مسجد نبویؐ ہے۔ 

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک ٹوئٹر صارف نے عرب میں لکھا ' عالم دین جیلوں میں ہیں اور یہودی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اندر، یہ افسوسناک امر ہے'۔

اس تصویر پر ردعمل ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے کہ اسرائیل کے متعدد عرب مسلم ریاستوں سے خفیہ تعلقات ہیں۔
دوسری جانب تسیون کادعویٰ ہے کہ تمام مذہبی مقامات عام افراد کے لئے کھلے ہیں اور کہیں نہیں روکاجاتا،اسرائیل کے معروف اخبار ٹائمز آف اسرائیل سے گفتگو کرتے ہوئے تسیون نے بتایا کہ مسلمان ممالک کا دورہ کرنا اس کا شوق ہے اور میں تمام ثقافتوں اور عقائد کا احترام کرتاہوں۔

تسیون کا تعلق روس سے ہے لیکن وہ 2014ء سے اسرائیل کی شہریت اختیارکرچکاہے، اس کا دعویٰ ہے کہ عرب دنیا کبھی میرے ساتھ دشمنی کے ساتھ پیش نہیں آئی اور انہوں نے مجھ سے ،اسرائیل سے اور یہودیوں سے ہمیشہ محبت کا اظہار ہی کیا ہے ،تسیون نے اپنے دوروں کی تفصیلات بھی بتائیں کہ کس طرح اس نے مطلوبہ ویزے حاصل کئے اور کس طرح قانونی طورپر وہ تمام مقدس مقامات میں داخل ہوا لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے یہ سفر روس کے پاسپورٹ پر کئے یا پھر اسرائیل کے، اس سے قبل تسیون اپنی ایران کے شہروں تہران اور قم کے دورے کی بھی تصاویر شیئر کرچکاہے ، اس میں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اسرائیل کے شہریوں کو ایران کے سفر کی اجازت نہیں ہے لیکن تسیون وہاں بھی جا پہنچا۔

تسیون کی اچھی اچھی باتوں کے باوجود اس کی پوسٹ کی جانے والی تصاویر پر مسلمانوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور سوشل میڈیا پر عربی ہیش ٹیگ ’’مسجد نبوی میں ایک یہودی‘‘ کو صرف چوبیس گھنٹوں میں نوے ہزار سے زیادہ بار ٹوئٹس کیاگیا،ٹویٹر پر صارفین نے مختلف ردعمل کا اظہار کیا ایک صارف نے لکھا کہ ’’ یہودی مسجد نبوی میں ہے اور علماء جیلوں میں ، جبکہ ایک اور صارف نے اسے ’’آل سعود کے دور میں مسلمانوں کے دشمنوں کی جانب سے مسجد نبویؐ کی بے حرمتی قراردیا،تسیون کی پوسٹ کے بعد انسٹا گرام کو بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑا ہے او بڑی تعداد میں لوگوں کی ناراضگی کے بعد انسٹا گرام نے تسیون کا اکاؤنٹ بند کردیاہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کرسکتے ہیں۔ ادارہ

’’ریاض: اسرائیلی شہری مدینہ میں‘‘
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  94342
کوڈ
 
   
مقبول ترین
نئے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے معاملے پر قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ کوشش ہو گی کہ حکومت سے پُر خلوص بات چیت کی جائے۔ اِس وقت شہباز شریف اپنے بھائی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ لاہور پہنچے ہیں۔ انہوں نے داتا دربارؒ پر حاضری دی، مزار پر چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر ملکی ترقی و خوشحالی اور سلامتی کیلئے دعائیں بھی مانگی گئیں۔
لاہور میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، قانون سازی کا اختیار رکھتی ہے۔ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ ریویو میں جانا ہے یا قانون بنانا ہے؟
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آئین کی حکمرانی کے لیے جو قدم اٹھایا وہ منزل پر پہنچ رہا ہے اور حکمرانوں کی کشتی ڈوبنے کے قریب پہنچ گئی ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں