Monday, 22 April, 2019
جب امریکہ نے پاکستان پر حملہ کر دیا

جب امریکہ نے پاکستان پر حملہ کر دیا
فائل فوٹو
تحریر: ابو علی صدیقی

 

عالمی امور اور خاص طور پر پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے 26 نومبر 2011ء کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ اس روز افغانستان میں موجود امریکی اور نیٹو افواج نے پاکستان پر حملہ کر دیا۔ ہوا یوں کہ مذکورہ افواج پاک افغان سرحد پر واقع مہمند ایجنسی کے سب ڈویژن بائی زئی کے علاقے میں سرحد کو عبور کرکے تقریباً 2 کلومیٹر تک اندر داخل ہوگئیں جہاں سلالہ کے مقام پر انہوں نے 2 پیٹرول چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں 28 پاکستانی فوجی شہید اور دیگر 12 زخمی ہوگئے۔ اس حملے میں نیٹو کے 2ہیلی کاپٹر، ایک اے سی 130 گن شپ اور 2 ایف 15-E لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا۔ اسی پس منظر میں مذکورہ واقعہ کو اب ’’سانحہ سلالہ‘‘ سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ امریکی حکومت کا موقف رہا کہ امریکی اور نیٹو افواج پر پاکستان کے سرحدی علاقے سے فائرنگ کی گئی تھی۔ ان حکام نے اس سلسلے میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کیا چنانچہ اس پر ’’عذر گناہ، بدترازگناہ‘‘ کا محاورہ صادق آیا۔ 

وطن عزیز میں رائے عامہ نے امریکی اور نیٹو افواج کی طرف سے اس اشتعال انگیز فوجی کارروائی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا چنانچہ مذکورہ حملے کے بعد نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات میں غیر معمولی کشیدگی پیدا ہوگئی بلکہ اس علاقے میں امن و امان کی صورتحال بارے بھی تشویش میں اضافہ ہوگیا۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی حکومت نے فوری طور پر اس نیٹو سپلائی لائن کو بند کرنے کا فیصلہ کیا جو پاکستان کے راستے جاری تھی۔ اسی طرح پاک فوج نے پاک افغان سرحدی علاقے میں ہائی الرٹ جاری کر دیا۔ مزید برآں پاکستان نے جرمنی کے شہر بون میں منعقد ہونے والی افغانستان بارے دوسری کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ یہ صورتحال اس وقت غیر معمولی نوعیت کی ہوگئی جب پاکستان کی حکومت نے امریکی حکومت کو دوٹوک اور واضح الفاظ میں ہدایت کی کہ وہ بلوچستان کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع ’’شمسی ایئربیس‘‘ کو 15 دن کے اندر اندر استعمال کرنا بند کرکے وہاں سے کوچ کر جائے۔ یہ بیس 2001ء میں سی آئی اے کو انتہاپسند عناصر کے خلاف ڈرون حملے کرنے کے لئے فراہم کی گئی تھی۔ اسلام آباد کے اس اقدام کے نتیجے میں امریکہ نے دسمبر کے آغاز میں یہاں سے اپنا سازوسامان سمیٹ کر افغانستان میں بٹگرام ایئربیس پر منتقل کر دیا اور یوں 10 دسمبر کو پاک فوج نے مذکورہ ایئربیس کا انتظام سنبھال لیا۔ پاکستان نے 5 دسمبر 2011ء کو بون میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا تو اس موقع پر وطن عزیز کی اس وقت کی وزیر خارجہ حناربانی کھر نے اپنی امریکی ہم منصب کی ٹیلی فون کال پر واشنگٹن کو آگاہ کیا کہ پاکستان کے عوام مذکورہ کانفرنس میں شرکت کو پسند نہیں کرتے۔ 

سانحہ سلالہ کے نتیجے میں جب اسلام آباد نے اپنی سرزمین سے نیٹو سپلائی لائن کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تو اس پر واشنگٹن کے پالیسی ساز ادارے اور شخصیات حیران و ششدر ہو کر رہ گئے۔ انہوں نے یقینی طور پر کبھی اس بات کا تصور نہیں کیا تھا کہ امریکہ کو پاکستان کی طرف سے ایسا دوٹوک اور کھرا جواب دیا جائے گا۔ پاکستان کے اس فیصلے کے نتیجے میں امریکی بزرجمہروں نے قازقستان، ازبکستان اور تاجکستان کے راستے متبادل سپلائی لائن قائم کرنے کا فیصلہ کیا جس کو ’’ناردرن ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک‘‘ کا نام دیا گیا لیکن یہ سلسلہ جلد ہی امریکی حکام کے لئے مالی اعتبار سے پریشانی کا سبب بن گیا۔ جنوری 2012ء میں پینٹاگون نے انکشاف کیا کہ مذکورہ نیٹ ورک کے استعمال کے سلسلے میں امریکی حکومت کو مجموعی طور پر 6 گنا زیادہ اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان کے راستے نیٹو سپلائی لائن کے اخراجات 87 ملین ڈالر تھے جبکہ نئے انتظامات کے تحت یہ اخراجات 104 ملین ڈالر ماہانہ ہوتے ہیں۔ 

وطن عزیز کے عوام اور حکومت نے جب امریکہ اور نیٹو افواج کے اس جارحانہ اور اشتعال انگیز حملے پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا تو واشنگٹن اور کابل، دونوں طرف سے اس بارے میں حیلے اور بہانے تراشنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ اور افغانستان کے حکام نے یہ حیرت انگیز بلکہ ناقابل یقین جواز پیش کیا کہ عین اس وقت جب افغان صوبے مشرقی کنر میں امریکی اور افغان فورسز افغان طالبان کے خلاف کارروائی میں مصروف تھیں تو ایسے میں پاکستان کی سرحد میں واقع فوجی چھاؤنی سے مذکورہ فورسز پر فائرنگ کی گئی۔ اس غیر متوقع اور اچانک فائرنگ کے جواب میں امریکی اور نیٹو فورسز نے مذکورہ فوجی چھاؤنیوں پر حملے کا فیصلہ کیا تھا۔ کابل میں ایک افغان افسر نے تو یہاں تک غلط بیانی سے کام لیا کہ پاک فوج نے افغان سرحد کی خلاف ورزی کی اور افغان فورسز پر حملہ کیا چنانچہ ایسی صورتحال میں افغان سکیورٹی فورسز کو امریکی اور نیٹو فورسز سے امداد طلب کرنا پڑی اور ان کے ہیلی کاپٹرز کی مدد سے سلالہ کی چوکیوں پر جو حملہ کیا گیا وہ ایسی کارروائی تھی جو محض دفاع اور ردعمل میں کی گئی، مذکورہ کارروائی ہر اعتبار سے ناگزیر تھی اور اس کا اصل مقصد پاکستان پر حملہ نہیں تھا۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ پاکستان کے ذمہ داری عسکری حکام کو پیشگی مطلع کر دیا گیا تھا کہ اس دن (یعنی 26 نومبر کو) افغان اور نیٹو فورسز افغان طالبان کے خلاف کارروائی کریں گی۔ 

ریکارڈ گواہ ہے کہ پاکستان نے امریکہ اور نیٹو کی طرف سے کی گئی مذکورہ کارروائی کے خلاف جو اصولی اور سخت موقف اختیار کیا وہ بے حد اثرانگیز اور نتیجہ خیز ثابت ہوا۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ 3 جولائی 2012ء کو امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے سانحہ سلالہ کے حوالے سے اپنی حکومت کی طرف سے معذرت کی اور پاک فوج کے سپاہیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔ اس معذرت کے بعد پاکستان نے نیٹو سپلائی لائن کو بحال کر دیا۔ یہ بات بھی نہایت اہم قرار دی جاتی ہے کہ پاک افغان سرحد کے وہ علاقے جو بے آباد ہونے کے سبب دونوں ممالک کی طرف سے نگرانی اور توجہ سے کسی حد تک محروم رہتے ہیں، ان دہشت گرد عناصر کے لئے کسی سہولت سے کم نہیں جو پاکستان میں قتل و غارت کی واردات کرنے کے بعد بڑی خاموشی کے ساتھ واپس افغانستان جا کر اپنی کمین گاہوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ ان احوال سے کابل کو بے شمار مرتبہ باخبر کیا گیا لیکن متعلقہ حکام نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر اس سلسلے میں خاموشی اختیار کرنے کو ہی ترجیح دی۔ 

بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں 26 نومبر 2011ء کو رونما ہونے والے مذکورہ واقعہ بلکہ سانحہ کو اس اعتبار سے اہمیت دی جاتی ہے کہ اس روز دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس پاکستان پر حملہ کیا جس نے گذشتہ 7 عشروں میں واشنگٹن کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ اس حوالے سے یہ تاثر اب بڑی حد تک یقین کی صورت اختیار کر گیا ہے کہ امریکہ کو محض اپنے مفادات عزیز ہیں اور اس کے نزدیک سفارتی اخلاقیات یا عسکری تعاون کی کوئی توقیر اور حیثیت نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  15415
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
1857 ء میں برصغیر پاک وہند کے لوگ کمزور ترین مغل بادشاہ بہادرشاہ ظفرکے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور برطانیہ میں معراج کے خلاف انقلاب کی بنیاد ڈالی۔ برطانیہ نے اس بغاوت کوکچل دیااور مسلمانوں کے لیے تاریکی کادور شروع ہوگیا ایسے حالات میں جب
دنیا بھر میں موجود پاکستانی باشندے اور ان کے احباب روایتی جوش و خروش کے ساتھ وطن عزیز کا 71واں یوم آزادی منا رہے ہیں۔ اس حقیقت کو اب ایک تاریخی اور مستند حوالہ کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے کہ قیام پاکستان کے تصور کو ایک مملکت کے روپ میں نمودار
کسی بھی ملک کا دوسرے ملک کیساتھ تعلقات مفادات کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔پاک امریکہ تعلقات بھی اسی اصول کے تحت آگے بڑھتے اور پیچھے چلے جاتے ہیں امریکہ میں مگر طاقت کا نشہ زیادہ ہے انکے مفادات پر آنچ نہیں آنی چاہیئے
ایک ایمبولینس بڑی تیزی سے کابل کے انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے علاقے کی طرف بڑھ رہی ہے۔چیک پوسٹ پر اسے اہلکار روکتے ہیں اور ایمبولینس سمجھ کر زیادہ تحقیق مناسب نہیں سمجھتے اور آگے جانے کی اجازت دے دی جاتی ہے

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان دو روزہ دورے پر ایران پہنچ گئے۔ وزیراعظم عمران خان پہلے ایرانی صوبے خراساں کے دارالحکومت مشہد پہنچے جہاں ان کا استقبال گورنر رضا حسینی نے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے مشہد میں حضرت امام علی رضا کے مزار پر حاضری
سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر تین گرجا گھروں اور 4 ہوٹلوں سمیت 8 دھماکوں کے نتیجے میں 207 افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہوگئے۔ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ایسٹر کے موقع پر دہشت گردی کی بڑی کارروائی سامنے آئی
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 18 اپریل کو سرحد پار سے 15 دہشت گرد داخل ہوئے، دہشت گردوں نے فرنٹیئر کور کی وردی پہن رکھی تھی ، جنہوں نے بس کو روکا اورشناخت کرکے 14 پاکستانی شہید کیے
وزیراعظم نے اپنی حکومتی ٹیم میں مزید تبدیلیوں کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہےکہ کپتان کا مقصد ٹیم کو جتانا ہوتا ہے اور بطور وزیراعظم ان کا مقصد اپنی قوم کو جتانا ہے اس لیے جو وزیر ملک کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا اسے تبدیل کردیا جائے گا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں