Friday, 18 October, 2019
پاکستان کے بارے میں امریکی عزائم

پاکستان کے بارے میں امریکی عزائم
ثاقب اکبر

 

امریکا نے حال ہی میں پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے حوالے سے اپنی خارجہ پالیسی کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے۔ اس کے بعد پاکستان نے بھی اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے کے حوالے سے کچھ اشارے دیے ہیں۔ 

30 جون2017 کو اس سلسلے میں ایک اجلاس پاکستان کے دفتر خارجہ میں ہو چکا ہے جس کی صدارت وزیراعظم نے کی تھی۔ اس اجلاس کو غیر معمولی قرار دیا گیا ہے۔ 

گذشتہ دنوں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے امریکی کانگرس میں خارجہ تعلقات کے حوالے سے کمیٹی میں بات کرتے ہوئے کہاکہ ہم پاکستان سے تعلقات پر اپنی پالیسی کا نئے سرے سے جائزہ لے رہے ہیں۔ کمیٹی میں پاکستان کو دی جانے والی امریکی امداد کا موضوع بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکا کی ناکامیوں کی ایک وجہ پاکستان ہے اور اگر ہم افغانستان میں کامیاب نہ ہو سکے تو اس کی وجہ آئی ایس آئی ہوگی۔ ایک اور رکن ٹیڈپو نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو رقم دی لیکن وہ رقم افغانستان میں ان برے لوگوں کے ہاتھ پہنچی جنھوں نے امریکا کو نقصان پہنچایا۔ حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والے امریکی سینیٹرز کے ایک وفد جس کی سربراہی سینیٹر جان میکن کررہے تھے، نے افغانستان میں جا کر کہا کہ دہشتگردی بالخصوص حقانی نیٹ ورک کے خاتمے میں پاکستان کے اقدامات پر نظر ہے، اسلام آباد نے رویہ نہ بدلا تو بطور قوم ہمیں اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔

مستقبل میں پاکستان کے بارے میں امریکا کس طرح کے اقدامات پیش نظر رکھے ہوئے ہے، ان کی طرف کچھ اشارہ تو سطور بالا میں آ گیا ہے تاہم اس کی بعض دیگر جزئیات بھی رفتہ رفتہ سامنے آرہی ہیں اگرچہ امریکا نے باقاعدہ سرکاری طور پر پاکستان کے بارے میں اپنی نئی پالیسی کا اعلان نہیں کیا۔ 

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر جناب منیر اکرم نے امریکا کے پاکستان کے لیے ممکنہ اقدامات کی ایک فہرست خود امریکی میڈیا میں آنے والی خبروں کو سامنے رکھ کر مرتب کی ہے۔ ان کا ایک تفصیلی مضمون اس سلسلے میں 23جولائی 2017کے روزنامہ ڈان میں شائع ہوا ہے۔ ہم وہیں سے پاکستان کے لیے امریکا کے آئندہ عزائم کے حوالے سے چند نکات قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:

۱۔ پاکستان کو فراہم کیے جانے والے کولیشن سپورٹ فنڈ کی ترسیل کا خاتمہ۔ 

یاد رہے کہ اس سلسلے میں گزشتہ برس بھی بڑے پیمانے پر کٹوتی کی گئی ہے۔ امریکی کانگرس نے اس فنڈ کی فراہمی کے لیے جو نئی شرائط عائد کی ہیں ان کے مطابق ضروری ہے کہ پاکستان افغان طالبان، حقانی نیٹ ورک اور کشمیر میں آزادی کے لیے مصروف عمل گروہوں کے خلاف تعاون کرے۔ ورنہ اس رقم کے بغیر گزارا کرے۔ان میں افغان طالبان اور کشمیری گروہوں کے خلاف تعاون کی شرائط نئی ہیں۔

۲۔ پاکستان کو حاصل نان نیٹو اتحادی کے سٹیٹس کا خاتمہ۔ اس صورت میں پاکستان امریکا سے جدید ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔ 

۳۔ پاکستان کی سرزمین پر امریکی ڈرون حملوں میں اضافہ۔

اس حوالے سے منیر اکرم نے سوال کیاہے کہ کیا پاکستان امریکی ڈرون کو بھی اسی طرح سے مار گرائے گا جیسے اس نے مبینہ طور پر ایرانی ڈرون کو گرایا ہے، یا پھر پاکستان جوابی طور پر افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار جیسے پاکستان کے دشمن دہشت گرد گروہوں کو اپنے ڈرون حملوں کا نشانہ بنا سکتا ہے؟ 

۴۔ امریکا یا افغان افواج کی طرف سے زمینی طور پر پاکستان کی سرحدوں کے اندر فوجی آپریشن۔

منیر اکرم کی رائے میں یہ پاکستان کی حاکمیت کی بہت بڑی خلاف ورزی ہوگی اور اس سے بہت خطرناک مثال قائم ہوگی، بھارت جس کی پیروی کرسکتا ہے۔ پاکستان کو اس کا جواب بہرحال فوجی طریقے سے دینا ہوگا۔ 

۵۔ پاکستانی سرکاری حکام پر ویزے کی اور مالیاتی پابندیاں ۔

۶۔ پاکستانی اداروں کے اہلکاروں کے خلاف پابندیاں۔

۷۔ پاکستان کو ’’دہشت گردی کو فروغ دینے والی ریاست‘‘ کا سٹیٹس دینا۔

منیر اکرم کہتے ہیں کہ یہ ایک تزویراتی پیش رفت ہوگی۔ اس سے پاکستان امریکا کے دشمنوں کی صف میں شامل ہو جائے گا جن میں ایران، شمالی کوریا، سوڈان اور شام شامل ہیں۔ اس کے بعد پاکستان مجبور ہوگا کہ وہ افغان طالبان اور کشمیر کی تحریک حریت کو سپورٹ کرے۔ 

۸۔ پاکستان پر مالی اور اقتصادی پابندیاں جن میں پاکستانی بینکوں کے ڈالر کے ذریعے لین دین پر پابندی شامل ہے۔

منیر اکرم کے نزدیک پاکستان کو اس کے بعد اقتصادی دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے چین پر بھروسہ کرنا پڑے گا۔ 

پاکستان کے خلاف امریکا کے ان ممکنہ اقدامات کو بیان کرنے بعد منیر اکرم نے پاکستان کی طرف سے بعض ممکنہ اقدامات کا بھی ذکر کیا ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان نیٹو سپلائی کو روک سکتا ہے یا بہت کم کر سکتا ہے۔ پاکستان کی سرزمین سے افغانستان کے لیے ہونے والی تجارت کو بھی روک سکتا ہے۔ علاوہ ازیں یوایس، نیٹو،افغانستان اور بھارت کے فوجی طیاروں کی پاکستانی حدود سے گزرنے پر پابندی عائد کر سکتا ہے۔ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کو بھی واپس دھکیل سکتا ہے۔ امریکی،نیٹو اور افغان انٹیلی جنس کے اہلکاروں کو بھی ملک سے نکال سکتا ہے۔ اس سے بڑھ کر پاکستان کابل میں موجود حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لے سکتا ہے اور امریکا کے خلاف لڑنے والے اور کابل رجیم کو تسلیم نہ کرنے والے گروہوں پر مشتمل افغانستان کی جلا وطن حکومت بھی قائم کر سکتاہے۔ اس ضمن میں شوری کوئٹہ کو مزید فعال کیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے اس طرح کے بعض دیگر ممکنہ اقدامات بھی ذکر کیے ہیں اور بھارت کی طرف سے ان حالات میں جو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ان کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔

آخر میں انھوں نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے دو پہلوؤں سے کام کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان میں سے پہلی یہ ہے کہ اگرچہ دیر ہو چکی ہے تاہم پاکستان کو ٹرمپ انتظامیہ کو مطمئن کرنے کی ضرورت ہے اور اسے اس امر کا قائل کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مثبت بنیادوں پر استوار کرے۔ ان کی دوسری تجویز یہ ہے کہ پاکستان تیز رفتاری سے چین اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ اجتماعی تعلقات کے لیے پیش رفت کرے تاکہ امریکا کی افغانستان اور جنوبی ایشیا کے لیے پالیسیوں کا مناسب جواب دیا جاسکے۔ 

ہماری رائے میں ان کی پہلی تجویز پر زور دیتے رہنے میں تو کوئی حرج نہیں البتہ اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلے گا کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ خطے کے لیے نئی حکمت عملی فقط پاکستان کو سامنے رکھ کرنہیں بنا رہی۔ پاکستان اس کی حکمت عملی کا ایک نقطہ ہے۔ اس کی حکمت عملی خطے میں بھارت کی بالادستی کے قیام، چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور انگڑائی لیتے ہوئے روس کو روکنے جیسے تمام عناصر پر مشتمل ہے۔ اس کے پیش نظر ایران بھی ہے کیونکہ چین روس اور ایران پہلے ہی عالمی سطح پر بہت سے سے اہم ایشوز پر ہم فکر اور ہم سو ہو کر کام کررہا ہے۔ سی پیک بھی امریکا کی آنکھوں میں اتنا ہی کھٹکتا ہے جتنا بھارت کی آنکھوں میں۔ لہٰذا امریکا سے بات چیت کرنے میں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن اصل تجویز دوسری ہی ہے البتہ اس پر تیزرفتاری سے پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اس ابھرتے ہوئے منظر نامے پر کتنی سنجیدہ نظر رکھے ہوئے ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: فاضل مضمون نگار مبصر ڈاٹ کام کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

پاکستان کے بارے میں امریکی عزائم
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  81030
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
محنت سے عاری، مایوسی کے پیکر، خود سے تنگ لوگوں کی زبان سے یہ جملہ اکثر سننے کو مل جاتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ؟ ملک کو ستر سال ہو چکے ہیں اور تمام مسائل اسی طرح کھڑے ہیں؟ تعلیم، صفائی، ٹرانسپورٹ
تاریخ کے صفحات پر سید الشہداء حضرت امام حسین ؑ کا موقف اور نقطہ نگاہ آج بھی اپنی پوری رعنائیو ں کے ساتھ رقم ہے۔ چنانچہ جب حاکم مدینہ کی طرف سے یزید کی بیعت کے لئے دباؤ ڈالا گیا
عراق کی سیکورٹی کونسل، وزیراعظم العبادی اور عراقی پارلیمنٹ نے عراق کے نیم خود مختار علاقے کردستان کے صدر بارذانی کی طرف سے 25 ستمبر کو اعلان کردہ ریفرنڈم کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر علیحدگی کیلئے اعلان کردہ ریفرنڈم نے صورتحال خراب کی تو عراقی حکومت فوجی طاقت کو بروئے کار لائے گی۔
پاکستانی قوم اس وقت جن باغیانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ساتھ اندرونی سیاسی انتشار اور خلفشار سے دو چار ہے وہ نہایت افسوسناک ہے، اس سے ملک و ملت کے استحکام اور بقا اور ملی یکحہتی کو سخت نقصان پہنچا ہے

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں