Friday, 03 April, 2020
جہاں امریکی فوجی ہیں وہیں ان کا قبرستان بنائیں

جہاں امریکی فوجی ہیں وہیں ان کا قبرستان بنائیں
تحریر: ثاقب اکبر

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے خلاف بیان اور دھمکیوں کے بعد پاکستان کے سیاسی و عسکری قائدین کی طرف سے بیانات اور ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں 23اگست 2017کو ایوان بالا میں بھی امریکی صدر کی دھمکیوں کا موضوع زیر بحث آیا۔ چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا کہ امریکی صدر دھمکی دینے سے پہلے ویتنام اور کمبوڈیا کو نہ بھولیں۔ اگر کوئی غلطی کی تو پاکستان امریکی فوجیوں کا قبرستان بن جائے گا۔ اس سلسلے میں ہماری چیئرمین سینٹ سے درخواست یہ ہے کہ ’’جہاں امریکی فوجی ہیں وہیں ان کا قبرستان بنائیں‘‘ کیونکہ پاکستان میں ان کا قبرستان بنانے کے لیے انھیں پاکستان بلانا یا ان کا پاکستان میں آنا ضروری ہوگا۔ امریکیوں کو اتنی تکلیف نہ ہی دیں تو اچھا ہے۔ ویسے بھی جہاں پہلے ان کے قبرستان آباد ہیں وہیں پر باقی جانے والے بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل جل کر اگلی زندگی گزاریں تو اچھا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پاکستان میں ان کے قبرستانوں سے گزرتے ہوئے غصے سے پاکستانی انھیں ہر روز لعن طعن کرتے رہیں کیونکہ پاکستانی اپنے دشمنوں کو طرح طرح سے یاد رکھتے ہیں اور ہرگز فراموش نہیں کرتے۔ 

ویسے عوامی نعرے کے طور پر تو یہ بات چلتی ہے کہ ہم پاکستان کو فلاں کا قبرستان بنا دیں گے لیکن ایک دانشمند سیاستدان سے ایسے تبصروں کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ہمیں یاد ہے کہ جب اسرائیل نے شام پر حملہ کیا تھا تو حافظ الاسد نے اعلان کیا تھا کہ ’’ہم دمشق کو اسرائیلیوں کا قبرستان بنا دیں گے‘‘۔ ہم اسی وقت سمجھ گئے تھے کہ اسرائیل شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب پہنچ چکا ہے۔ یہ تو اچھا ہوا کہ جنگ بندی ہوگئی ورنہ جن لوگوں نے جولان کی پہاڑیوں کو دیکھا ہے جن پر 1967میں جنگ کے دوران میں اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا اور جو اب بھی اسرائیل کے قبضے میں ہیں، انھیں معلوم ہے کہ اسرائیل کس طرح دمشق کے سرہانے پہنچ چکا تھا۔

جنگ اور سیاست کی اپنی زبان ہوتی ہے جب کہ ہمارے دانشور چیئرمین سینٹ نے جو کچھ کہا ہے نہ وہ جنگ کی زبان ہے اور نہ سیاست کی بلکہ اسے عوامی زبان کہا جاسکتا ہے۔ اگر امریکیوں نے اس جملے کا تجزیہ و تحلیل شروع کر دیا تو وہ غلط فہمی میں بھی پڑ سکتے ہیں۔ پاکستان کے 22کروڑ عوام امریکا کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے اور ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے حواریوں کی ساری ٹرپلیاں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ اب وقت آ پہنچا ہے کہ پاکستان فیصلہ کرے کہ امریکا ہمارا دوست ہے یا دشمن۔ اسی طرح اگر اب امریکی ڈرون طیارے پاکستان کے کسی علاقے پر حملہ کریں تو انھیں مار گرا کر پاکستان کو اپنے عزم کا اظہار ضرور کردینا چاہیے تاکہ امریکا کسی اور غلط فہمی میں اور کوئی غلط قدم نہ اٹھا بیٹھے۔

یہ اچھا ہوا کہ آرمی چیف نے امریکی سفیر کو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ ہمیں امریکا سے امداد نہیں چاہیے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ امریکا کے ساتھ گزشتہ 17برس کا حساب بھی کیا جائے اور نام نہاد فرنٹ لائن سٹیٹ کا سٹیٹس بھی اس کے منہ پردے مارا جائے۔ پاکستان نے اس بے ہودہ سٹیٹس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ اتنا نقصان اٹھایا ہے کہ جس کا ابھی تک حساب ہی نہیں لگایا جاسکا۔ 

اب ضروری ہو گیا ہے کہ تمام سیاسی اور عسکری قوتیں امریکی دھمکیوں کے خلاف اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کریں نیز اس سلسلے میں عوام کو بھی اعتماد میں لیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی ایک دن مقرر کر کے تمام سیاسی جماعتوں کو عوام سے امریکی دھمکیوں کے جواب میں ملک بھر میں مظاہروں کی اپیل کرنا چاہیے۔ تاکہ امریکا کو معلوم ہو کہ پاکستان افغانستان،شام یا عراق نہیں بلکہ ایک مقتدر ایٹمی قوت ہے جس کے 22کروڑ عوام ہر قسم کی جارحیت کے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مضمون نگار ’’مبصر ڈاٹ کام‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  33737
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
’’کربلا کا ستارہ‘‘ صاحبزادہ ڈاکٹر ابو الخیرمحمد زبیر الوری کا ایک ایمان افروز خطبہ ہے جس میں امام حسین علیہ السلام کا ذکرِ منیر بڑی محبت اور کیف و مستی کے عالم میں کیا گیا ہے، جب کہ اس کے علمی و تحقیقی لوازم کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔ کربلا کی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کیلئے اپنا دو ریاستی فارمولہ پیش کردیا، مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت رہے گا۔
لیاقت با غ میں جیالوں کے نعروں نے بینظیر بھٹو کی تقریر تقریباً سمیٹی جا چکی تھی میں اور کبیر سرحدی دن بھر کی صحافتی مشقت سے ہلکان ہو چکے تھے اور چاہتے تھے کہ دفتر میں خبر فائل کرنے سے پہلے یہاں سے نکل کر ایک کپ چائے پی لیں۔
محنت سے عاری، مایوسی کے پیکر، خود سے تنگ لوگوں کی زبان سے یہ جملہ اکثر سننے کو مل جاتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ؟ ملک کو ستر سال ہو چکے ہیں اور تمام مسائل اسی طرح کھڑے ہیں؟ تعلیم، صفائی، ٹرانسپورٹ

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے باعث ملک میں ہونے والے معاشی نقصانات کو ریلیف پہنچانے کے لیے تعمیرات کے شعبے کے لیے پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائرس سے خطرہ ہے اس لیے عوام بھرپور توجہ دیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ علمائے کرام کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے عوام میں شعور پیدا کرنے کا حق ادا کیا ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اکیسویں صدی میں یہ لیڈر 20 کروڑ مسلمانوں کے بارے میں کھل کر ایسی باتیں کررہا ہے جیسی یہودیوں کے بارے میں نازی کرتے تھے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دنیا کورونا سے نبردآزما جبکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے درپے ہے۔ بھارت کشمیر میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں