Saturday, 18 January, 2020
جہاں امریکی فوجی ہیں وہیں ان کا قبرستان بنائیں

جہاں امریکی فوجی ہیں وہیں ان کا قبرستان بنائیں
تحریر: ثاقب اکبر

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے خلاف بیان اور دھمکیوں کے بعد پاکستان کے سیاسی و عسکری قائدین کی طرف سے بیانات اور ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں 23اگست 2017کو ایوان بالا میں بھی امریکی صدر کی دھمکیوں کا موضوع زیر بحث آیا۔ چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا کہ امریکی صدر دھمکی دینے سے پہلے ویتنام اور کمبوڈیا کو نہ بھولیں۔ اگر کوئی غلطی کی تو پاکستان امریکی فوجیوں کا قبرستان بن جائے گا۔ اس سلسلے میں ہماری چیئرمین سینٹ سے درخواست یہ ہے کہ ’’جہاں امریکی فوجی ہیں وہیں ان کا قبرستان بنائیں‘‘ کیونکہ پاکستان میں ان کا قبرستان بنانے کے لیے انھیں پاکستان بلانا یا ان کا پاکستان میں آنا ضروری ہوگا۔ امریکیوں کو اتنی تکلیف نہ ہی دیں تو اچھا ہے۔ ویسے بھی جہاں پہلے ان کے قبرستان آباد ہیں وہیں پر باقی جانے والے بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل جل کر اگلی زندگی گزاریں تو اچھا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پاکستان میں ان کے قبرستانوں سے گزرتے ہوئے غصے سے پاکستانی انھیں ہر روز لعن طعن کرتے رہیں کیونکہ پاکستانی اپنے دشمنوں کو طرح طرح سے یاد رکھتے ہیں اور ہرگز فراموش نہیں کرتے۔ 

ویسے عوامی نعرے کے طور پر تو یہ بات چلتی ہے کہ ہم پاکستان کو فلاں کا قبرستان بنا دیں گے لیکن ایک دانشمند سیاستدان سے ایسے تبصروں کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ہمیں یاد ہے کہ جب اسرائیل نے شام پر حملہ کیا تھا تو حافظ الاسد نے اعلان کیا تھا کہ ’’ہم دمشق کو اسرائیلیوں کا قبرستان بنا دیں گے‘‘۔ ہم اسی وقت سمجھ گئے تھے کہ اسرائیل شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب پہنچ چکا ہے۔ یہ تو اچھا ہوا کہ جنگ بندی ہوگئی ورنہ جن لوگوں نے جولان کی پہاڑیوں کو دیکھا ہے جن پر 1967میں جنگ کے دوران میں اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا اور جو اب بھی اسرائیل کے قبضے میں ہیں، انھیں معلوم ہے کہ اسرائیل کس طرح دمشق کے سرہانے پہنچ چکا تھا۔

جنگ اور سیاست کی اپنی زبان ہوتی ہے جب کہ ہمارے دانشور چیئرمین سینٹ نے جو کچھ کہا ہے نہ وہ جنگ کی زبان ہے اور نہ سیاست کی بلکہ اسے عوامی زبان کہا جاسکتا ہے۔ اگر امریکیوں نے اس جملے کا تجزیہ و تحلیل شروع کر دیا تو وہ غلط فہمی میں بھی پڑ سکتے ہیں۔ پاکستان کے 22کروڑ عوام امریکا کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے اور ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے حواریوں کی ساری ٹرپلیاں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ اب وقت آ پہنچا ہے کہ پاکستان فیصلہ کرے کہ امریکا ہمارا دوست ہے یا دشمن۔ اسی طرح اگر اب امریکی ڈرون طیارے پاکستان کے کسی علاقے پر حملہ کریں تو انھیں مار گرا کر پاکستان کو اپنے عزم کا اظہار ضرور کردینا چاہیے تاکہ امریکا کسی اور غلط فہمی میں اور کوئی غلط قدم نہ اٹھا بیٹھے۔

یہ اچھا ہوا کہ آرمی چیف نے امریکی سفیر کو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ ہمیں امریکا سے امداد نہیں چاہیے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ امریکا کے ساتھ گزشتہ 17برس کا حساب بھی کیا جائے اور نام نہاد فرنٹ لائن سٹیٹ کا سٹیٹس بھی اس کے منہ پردے مارا جائے۔ پاکستان نے اس بے ہودہ سٹیٹس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ اتنا نقصان اٹھایا ہے کہ جس کا ابھی تک حساب ہی نہیں لگایا جاسکا۔ 

اب ضروری ہو گیا ہے کہ تمام سیاسی اور عسکری قوتیں امریکی دھمکیوں کے خلاف اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کریں نیز اس سلسلے میں عوام کو بھی اعتماد میں لیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی ایک دن مقرر کر کے تمام سیاسی جماعتوں کو عوام سے امریکی دھمکیوں کے جواب میں ملک بھر میں مظاہروں کی اپیل کرنا چاہیے۔ تاکہ امریکا کو معلوم ہو کہ پاکستان افغانستان،شام یا عراق نہیں بلکہ ایک مقتدر ایٹمی قوت ہے جس کے 22کروڑ عوام ہر قسم کی جارحیت کے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مضمون نگار ’’مبصر ڈاٹ کام‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  40670
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
لیاقت با غ میں جیالوں کے نعروں نے بینظیر بھٹو کی تقریر تقریباً سمیٹی جا چکی تھی میں اور کبیر سرحدی دن بھر کی صحافتی مشقت سے ہلکان ہو چکے تھے اور چاہتے تھے کہ دفتر میں خبر فائل کرنے سے پہلے یہاں سے نکل کر ایک کپ چائے پی لیں۔
محنت سے عاری، مایوسی کے پیکر، خود سے تنگ لوگوں کی زبان سے یہ جملہ اکثر سننے کو مل جاتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ؟ ملک کو ستر سال ہو چکے ہیں اور تمام مسائل اسی طرح کھڑے ہیں؟ تعلیم، صفائی، ٹرانسپورٹ
تاریخ کے صفحات پر سید الشہداء حضرت امام حسین ؑ کا موقف اور نقطہ نگاہ آج بھی اپنی پوری رعنائیو ں کے ساتھ رقم ہے۔ چنانچہ جب حاکم مدینہ کی طرف سے یزید کی بیعت کے لئے دباؤ ڈالا گیا
عراق کی سیکورٹی کونسل، وزیراعظم العبادی اور عراقی پارلیمنٹ نے عراق کے نیم خود مختار علاقے کردستان کے صدر بارذانی کی طرف سے 25 ستمبر کو اعلان کردہ ریفرنڈم کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر علیحدگی کیلئے اعلان کردہ ریفرنڈم نے صورتحال خراب کی تو عراقی حکومت فوجی طاقت کو بروئے کار لائے گی۔

مقبول ترین
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے الزامات ثابت ہونے پر تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی کے بھائی علامہ امیر حسین رضوی اور بھتیجے محمد علی سمیت 86 افراد کو مجموعی طور پر 4 ہزار 738 سال قید کی سزا سنا دی۔
جس طرح ایک انسان کی عملی زندگی میں ہر شے کے میعار معین ہوتے ہیں بالکل اسی طرح دوستی کے بھی میعار ہونے چاہیں کیونکہ دوستی یا حلقہ احباب انسان کا اصلی تعارف ہوتے اور انسان اپنی کمپنی یا سوسائٹی سے پہجانا جاتا۔ اور یہ سچ بات ہے
شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کشمیر میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، بھارتی فوج پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتی ہے، ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مشکل ہمسائیگی والے ماحول میں رہتے ہیں، ایران اور سعودی عرب کی جنگ پاکستان کے لیے تباہ کن ہوگی۔ وزیراعظم ہاؤس میں غیر ملکی خبر رساں ادارے کو ایک انٹرویو کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب عظیم ترین دوستوں میں سے ایک ہے، ایران کے ساتھ تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں۔ ہمارا خطہ

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں