Wednesday, 14 November, 2018
’’وادی سوات میں امن کا نیا دور‘‘

’’وادی سوات میں امن کا نیا دور‘‘
تحریر: ابو علی صدیقی

 

اہل وطن کے لئے یہ خبر ہر اعتبار سے مسرت انگیز اور اطمینان ثابت ہوئی کہ گذشتہ دنوں سوات میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے 11 سال بعد پاک فوج نے انتظامیہ کے اختیارات سول احکام کے حوالے کر دیئے۔ پاک فوج کے بریگیڈیر نسیم نے انتظامی اختیارات کے نشان کو کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ظہیر الاسلام اور سکیورٹی انتظامات کے نشان کو ڈی آئی جی ملاکنڈ ڈویژن سعید وزیر کے حوالے کیا۔ اسی طرح کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد نے حوالگی کی یادگار وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حوالے کی۔ اس سلسلے میں ایک پروقار تقریب سیدو شریف ایئرپورٹ پر منعقد ہوئی جس میں آئی جی خیبرپختونخوا صلاح الدین اور جی او سی سوات میجر جنرل خالد سعید، صوبائی وزراء اور ممبران اسمبلی سمیت سول اور فوجی حکام اور عمائدین علاقہ کی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی۔ بعدازاں نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کی رجسٹریشن کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا کہ سوات میں پائیدار قیام امن پر اہل سوات پاک فوج کے شکرگزار ہیں۔ آرمی کے تعاون سے یہاں کی سول انتظامیہ اور پولیس بھی مکمل طور پر تیار ہو چکی ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کہا کہ وادی سوات کے عوام نے انتہائی المناک اور مشکل حالات کا سامنا کیا جس کے دوران تقریباً 35 لاکھ افراد ہجرت پر مجبور ہوگئے۔ پاک فوج نے 4 ماہ کے مختصر عرصے میں دہشت گردوں کا صفایا کیا اور حکومت سے مل کر متاثرہ عوام کی بحالی اور آباد کاری کا فریضہ بھی انجام دیا۔ 

ایک عمومی تاریخی جائزہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ وطن عزیز کی سکیورٹی فورسز (خاص طور پر پاک فوج) اور انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر یعنی طالبان کے درمیان پہلی مرتبہ سوات کے علاقے میں ہی براہ راست آمنا سامنا ہوا تھا۔ 25 اکتوبر 2007ء کو آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت شروع کئے گئے اس آپریشن کو ’’آپریشن راہ حق‘‘ کا نام دیا گیا جو ایک ماہ، ایک ہفتہ اور 6 دن جاری رہنے کے بعد 8 دسمبر 2007ء کو اختتام پذیر ہوا۔ یہ آپریشن جن علاقوں میں کیا گیا ان میں وادی سوات، شانگلہ اور صوبہ خیبرپختونخوا کے چند علاقے شامل رہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مذکورہ آپریشن میں پاک فوج کے 10ویں انفنٹری ڈویژن، پولیس فورس، 20 ویں اسکوارڈن ایگل، فرنٹیئر کور اور 12 ویں ریگولر آرمی رجمنٹ کے 3 تا 5 ہزار جوانوں نے حصہ لیا۔ ان میں سے 15 سپاہی اور 3 پولیس جوانوں کے علاوہ 30 شہریوں نے جام شہادت نوش کیا لیکن دوسری طرف 290 انتہاپسند اور دہشت گرد ہلاک کئے گئے جبکہ 140 سے زائد کو گرفتار کیا گیا۔ اس آپریشن کے حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 25 اکتوبر تا 7 نومبر کے عرصے میں طالبان نے اس علاقے پر اپنی گرفت مضبوط رکھی البتہ 15 نومبر کو پاک فوج نے اس ضمن میں نتیجہ خیز کارروائی کی۔ 

یہ حقیقت اب کوئی راز نہیں رہی کہ انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر سمیت طالبان اس علاقے میں، خاص طور پر سوات کے ضلع میں اسلامی شریعت کی آڑ میں اپنی پسند کے قوانین نافذ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے منع کر دیا، شیو کرنے والے حجام کے علاوہ میوزک کی دکانوں کے مالکان اور چوروں کو موت کی سزا دینے کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی مقامی آبادی کو اپنے بچوں کو پولیو کے خلاف مہم کے دوران حفاظتی قطرے پلانے سے روک دیا۔ اس صورتحال میں پاک فوج نے اس علاقے میں پہنچ کر حالات کو بہتر بنانے کے لئے اپنی کوششوں کے تحت مذکورہ آپریشن کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا تو 25 اکتوبر کو ایک نیم فوجی ٹرک پر خودکش حملہ کیا گیا جس میں 17 سپاہی اور 13 شہری شہید ہوگئے۔ اس کے بعد فوج کی طرف سے کی جانے والی کارروائی میں تیزی آگئی جس کے دوران اگرچہ انتہاپسند عناصر نے گردونواح کے علاقوں میں طاقت کے بل بوتے پر عوام کی زندگی کو مشکلات سے دوچار رکھا لیکن دوسری طرف پاک فوج نے انتہائی تحمل اور پرامن حکمت کے ساتھ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے پیش قدمی جاری رکھی۔ اس آپریشن کا دوسرا مرحلہ بجا طور پر شانگلہ کے علاقے میں ہونے والی فوجی کارروائی ہے جو 12 نومبر کو شروع کی گئی۔ اس کارروائی کے نتیجہ خیز ہونے کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ صرف 5 روز میں ہی تقریباً 100 انتہا پسند طالبان ہلاک کر دیئے گئے۔ 25 نومبر کو انتہاپسند عناصر نے یہ علاقہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس وقت تک پاک فوج کی تازہ دم کمک علاقے میں اپنے فرائض سنبھال چکی تھی۔ اسی اثناء میں 26 نومبر کو یہ خبر علاقے کے عوام کے لئے اطمینان کا باعث محسوس ہوئی کہ طالبان کے 2 نمایاں کمانڈرز کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ 27 نومبر کو وطن عزیز کے شجاع اور جانباز جوانوں نے نہ صرف اہم پہاڑیوں کو طالبان سے واپس لے لیا بلکہ شانگلہ کے علاقے کو بھی دہشت گردوں سے پاک کرا لیا۔ اگرچہ یہ ایک اہم کامیابی رہی لیکن سوات کے بعض اہم علاقوں میں بدستور انتہاپسند عناصر کی موجودگی تشویش کا سبب بنی ہوئی تھی۔ اس سلسلے میں کارروائی ناگزیر تھی جس کے دوران انتہاپسند عناصر کے لیڈر، مولانا فضل اللہ کے آبائی گاؤں (امام دھری) پر توجہ مرکوز کی گئی اور یوں مذکورہ آپریشن کے اس تیسرے مرحلے کے دوران 28 نومبر کو یہ کامیابی بھی حاصل ہوگئی۔ 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سکیورٹی فورسز کی مذکورہ کامیابی کے بعد بھی طالبان نے اس علاقے سے دستبرداری کو مستقل طور پر اختیار نہ کیا اور انہوں نے 2008ء کے دوران رفتہ رفتہ یہاں پر اپنی واپسی کا راستہ ہموار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس کے نتیجے میں وہ فروری 2009ء میں ایک مرتبہ پھر یہاں پر اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں کسی حد تک کامیاب ہوگئے۔ 16 نومبر 2009ء کو حکومت نے اعلان کیا کہ وہ سرکاری نگرانی میں شریعہ قانون کی اجازت دے گی۔ اس سلسلے میں مالاکنڈ کے علاقے میں سپریم کورٹ کا ایک شریعی اپیل بنچ قائم کیا جائے گا۔ اس کے جواب میں صوفی محمد سے مذاکرات کے باعث مولانا فضل اللہ کے پیروکار فائربندی پر رضامند ہوگئے۔ بعدازاں اس وقت کے صدر مملکت آصف علی زرداری نے مذکورہ فیصلے میں ترمیم کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں اپیل کا حق استعمال کرنے کی اجازت دی۔ 

یہ حقائق قومی تاریخ میں اس حوالے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ اور یادگار حیثیت اختیار کر چکے ہیں کہ وطن عزیز کے عوام اور سکیورٹی فورسز، خاص طور پر پاک فوج نے باہمی اتحاد اور اعتماد سے دہشت گرد اور انتہاپسند عناصر کو شکست فاش دی اور دنیا پر یہ ثابت کر دکھایا کہ وہ امن پسند ہیں اور امن کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ وادی سوات میں امن کا یہ نیا دور مہذب دنیا کے لئے ایک نوید اور اہل وطن کے لئے ایک قابل فخر کامیابی بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  70255
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ایک کاروباری شخص ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر مسئلے کو محض کاروبار کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پھر اس کا حل تلاش کرتے ہیں۔ان دنوں(Deal of Cotury) ’’صدی کی ڈیل‘‘ کے عنوان سے ایک سیاسی
افغانستان کی زمیں کے بارے میں مشہور ہے کہ سکندراعظم بھی یہاں سے ناکام لوٹے تھے ۔اپنے وقت کا سپر طاقت برطانیہ کی اٹھارہ ہزار فوج کابل میں دفن ہے ۔رشیاکا توحال ہی دگرگوں کردیا ہے۔
محنت سے عاری، مایوسی کے پیکر، خود سے تنگ لوگوں کی زبان سے یہ جملہ اکثر سننے کو مل جاتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ؟ ملک کو ستر سال ہو چکے ہیں اور تمام مسائل اسی طرح کھڑے ہیں؟ تعلیم، صفائی، ٹرانسپورٹ
محرم الحرام کے موقع پر سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد، کوئٹہ اور ہنگو سمیت کئی شہروں میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے موٹرسائیل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
خیبر پختون خوا پولیس کے اعلیٰ افسر ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی افغانستان نے پاکستان کے حوالے کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی جلال آباد میں پاکستان قونصل خانے کے اعلیٰ عہداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے
سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ ریفرنس میں صفائی کا بیان قلمبند کرانا شروع کر دیا۔ پہلے روز 50 عدالتی سوالات میں سے 45 کے جواب ریکارڈ کرا دیئے۔ باقی سوالات پر وکیل خواجہ حارث سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا۔
فلسطین میں قابض اسرائیلی فوج کے معاملے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا بند کمرا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ میڈیا کے مطابق غزہ میں قابض اسرائیلی فوج نے ظلم وبربریت کی انتہا کررکھی ہے، آئے دن نہتے فلسطینیوں کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ
چند روز قبل اسلام آباد سے اغوا ہونے والے خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ کو مبینہ طور پر افغانستان میں قتل کر دیا گیا۔ خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی طاہر خان داوڑ 27 اکتوبر کو اسلام آباد سے لاپتہ ہوئے تھے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں