Monday, 06 July, 2020
’’بے نظیر سے وابستہ کچھ یادیں‘‘

’’بے نظیر سے وابستہ کچھ یادیں‘‘
تحریر: عباس بیگ مرزا

 

لیاقت با غ میں جیالوں کے نعروں نے بینظیر بھٹو کی تقریر تقریباً سمیٹی جا چکی تھی میں اور کبیر سرحدی دن بھر کی صحافتی مشقت سے ہلکان ہو چکے تھے اور چاہتے تھے کہ دفتر میں خبر فائل کرنے سے پہلے یہاں سے نکل کر ایک کپ چائے پی لیں۔ دونوں مین گیٹ سے نکل کر گاڑی تک پہنچے ہی تھے کہ گولیوں اور بم کی ہولناک آواز نے سارا منظر ہی بدل دیا۔ گاڑی چھوڑی اور واپس جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ 

ابھی کچھ ہی دیر پہلے جہاں پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جا رہی تھیں وہاں تازہ خون اور بارود کی بدبو نے ماحول ہیجان انگیز بنا رکھا تھا۔ لاشیں اور انسانی جسم کے لوتھڑے بکھرے پڑے تھے۔ زخمی کراہ رہے تھے پولیس منظر سے غائب ہونے کی وجہ سے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو اٹھا رہے تھے۔ پیپلز پارٹی کی روح رواں کو نشانہ بنایا گیا تھا جنہیں ان کی گاڑی زخمیوں کو روندتے ہوئے نکل کر مری روڈ کی جانب نکل گئی۔ 

ہم واپس گاڑی تک پہنچے تو اس کو ناراض جیالوں نے دیگر گاڑیوں سمیت گھی کے کنستر جیسا بنا رکھا تھا ہم نے گاڑی چھوڑ کر فوراً سول ہسپتال کی طرف دوڑ لگا دی جہاں بے نظیر بھٹو کا آپریشن جاری تھا۔ اے ایم ایس نے تھوڑی دیر بعد ہی بتایا کہ بینظیر اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔ دنیا اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم اور بھٹو کے بعد اس خاندان کی با اثر شخصیت کو سازشیں چاٹ چکی تھیں۔

بینظیر کی شہادت دنیا بھر کے میڈیا ہائوسز کیلئے بڑی خبر بن چکی تھی۔ ملک بھر میں جیالے اور پیپلز پارٹی کے ہمدرد سراپا احتجاج تھے۔ توڑ پھوڑ جلائو گھیرائو کا وسیع سلسلہ شروع ہو گیا جس کی آڑ میں بد ترین لوٹ مار بھی کی گئی۔ مری روڈ، آئی جے پی روڈ ، جی ٹی روڈ جنگی مناظر پیش کرنے لگا۔ ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق اس افراتفری میں حصہ ڈال رہا تھا۔ 

میڈیا ہائوسز کے دروازے اور بیرونی لائٹس بند کر کے کارکنوں کو کام کیلئے کہا گیا۔ ہنگامہ آرائی کی وجہ سے غیر حاضری یقینی تھی۔ میں اور کبیر نیوز ڈیسک پر اینٹرو بناتے، کاغذ پھاڑتے، پھر لکھتے پھر پھاڑتے رہے خبریں اس قدر گڈ مڈ تھیں کہ مین لیڈ، سپر لیڈ اور دیگر خبروں کیلئے با ر بار لے آئوٹ تبدیل کرنا پڑ رہا تھا۔

اس دوران مسلم لیگ کے رہنما نواز شریف پر اسلام آباد ہائی وے کے کرال چوک سے تھوڑا آگے قاتلانہ حملہ ہو گیا۔ وہ خود بچ نکلے لیکن چند ساتھیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بھڑکتی آگ جیالوں کے غصہ کے باوجود میاں نواز شریف مری روڈ پر سول ہسپتال پہنچ گئے۔ انہوں نے بینظیر کے تابوت پر ہاتھ رکھ کر سیاسی جنگ ختم کرنے کا اعلان کر کے گویا میثاق جمہوریت کی توثیق 'کر دی۔

بینظیر بھٹو کی اندوہناک شہادت نے ملکی سیاست پر گہری چھاپ رکھی بظاہر پیپلز پارٹی متوقع انتخابات میں شاید اس قدر کامیابی نہ سمیٹتی لیکن بینظیر کی شہادت نے پیپلز پارٹی کو اگلا اقتدار سونپ دیا۔ ''مردِ اول''آصف علی زرداری باربار اقتدار میں اہم عہدہ نہ لینے کا اعلان کرتے رہے لیکن بعد ازاں پاکستان کھپے، پاکستان کھپے کی آڑ میں صدر مملکت کا حلف اٹھا لیا۔ 

مجھے بینظیر بھٹو کی وہ پریس کانفرنس یاد ہے جس میں موصوف ایک کونے میں کھڑے تھے بہر حال آصف علی زرداری پانچ سال تک براجمان رہنے کے بعد گارڈ آف آنر لے کر رخصت ہو گئے۔

بے نظیر بھٹو شہید کی دستخط شدہ کتاب دختر مشرق میری لائبریری کا حصہ ہے جو انہوں نے میرے خط کے جواب میں ارسال کی تھی، خط میں انہیں امروکا، منچن آبادکے ایک بوڑھے جیالے غلام علی کی مدد کی درخواست کرتے ہوئے یاد دلایا تھا کہ اس جیالے کو ذوالفقار علی بھٹو عوامی نہر کے افتتاح کے بعد اپنے ہیلی کاپٹر میں اسلام آباد ساتھ لے گئے تھے۔ اس جیالے نے مرتے دم تک اپنی جھونپڑی سے پیپلز پارٹی کا پرچم نہیں اتارا، بابا غلام علی سارا دن حقہ گڑگڑاتا ،چائے پیتا اور آنے جانے والوں کو یاد دلاتا کہ وہ بھٹو کا شیدائی ہے۔ 

شہید محترمہ نے کمال مہربانی کرتے ہوئے غلام علی کیلئے کچھ تحائف اور معقول رقم بھیجی تھی۔

محترمہ بینظیر بھٹو سے میرا براہ راست رابطہ ان دنوں ہوا جب میں گجرات میں ایک انگریزی اخبار کیلئے رپورٹنگ کرتاتھا۔ محترمہ پیپلز پارٹی کے رہنما میاں مشتاق حسین پگانوالہ کے صاحبزادے فخر پگانوالہ کی شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے آئی تھیں۔ میں نے انہیں غلام علی کا بتایا تو وہ میری طرف متوجہ ہوئیں ان کی خیریت دریافت کی اور نیک تمنائوں کا اظہار بھی کیا۔

محترمہ سے اگلی ملاقات دریائے چناب پر ہوئی جہاں وہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے بنفس نفیس پہنچی تھیں۔ میری نشاندہی پر انہوں نے سیلاب سے متعلق بروقت اطلاع نہ دینے پر وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عارف نکئی کو ڈانٹ پلا دی جو محترمہ کی موجودگی میں بھی اُونگھ رہے تھے (اسی دوران اطلاع ملی کہ ایک سکھ کی لاش سیلابی ریلے میں تیرتی ہوئی پل تک آ پہنچی ہے)۔

مختلف پریس کانفرنسز کے موقع پر ملاقاتوں کے بعد لیاقت باغ میں محترمہ بینظیر بھٹو کی تقریر کی رپورٹنگ میرا ان سے آخری رابطہ تھا لیکن ان کی تقریر کی بجائے اخبار میں ان کی شہادت کی مین لیڈ میرے نام سے لگا کر مجھے افسردہ کیا کیونکہ میں ان کی دبنگ تقریر کے پوائنٹس لکھتا چلا جا رہا تھا اس خبر سے بے خبر کہ کل کی اخبار کی لیڈ کچھ اور ہی ہو گی اللہ انہیں غریق رحمت کرے ۔آمین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مضمون نگار ’’مبصر ڈاٹ کام‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  90253
کوڈ
 
   
مقبول ترین
عراق میں امریکی سفارت خانے اور فوجی تنصیبات پر راکٹ داغے گئے تاہم امریکی ایئر ڈیفنس نے راکٹس کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عراق کے ریڈ زون ایریا میں واقع امریکی سفارت خانے پر ایک راکٹ داغا گیا جسے
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹوورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) بند نہیں ہوا بلکہ فائدہ مند ادارہ بننے جا رہا ہے۔ اس ادارے نے لاکھوں نوکریاں پیدا کرنی ہیں، ہمیں مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔
سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین اور اطلاعات ونشریات کے معاون خصوصی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ ایم ایٹ پر کام کا آغاز حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ سینٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے جنگ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کنٹرول لائن پر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی، بٹل سیکٹر میں مارٹروں کی شیلنگ کر کے شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس کی زد میں آ کر ایک 22 سالہ نوجوان زخمی ہو گیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں