Monday, 24 September, 2018
’’صدی کا بڑا سودا‘‘

’’صدی کا بڑا سودا‘‘
تحریر: ناصر خان

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ایک کاروباری شخص ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر مسئلے کو محض کاروبار کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پھر اس کا حل تلاش کرتے ہیں۔ان دنوں(Deal of Cotury) ’’صدی کی ڈیل‘‘ کے عنوان سے ایک سیاسی اصطلاح ذرائع ابلاغ میں مشہور ہوئی ہے۔ ’’صدی کی ڈیل‘‘ کے بارے میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں تو وقتاً فوقتاً خبریں شائع ہوتی رہی ہیں لیکن پاکستان کے مقامی میڈیا میں اس اہم مسئلے پر خاموشی کا سماں ہے۔

’’صدی کی ڈیل‘‘ درحقیقت مسئلہ فلسطین کے بارے میں ایک نیا نقطہ نظر ہے جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیش کیا ہے اور اس نقطہ نظر کو امریکی اتحادی عرب ممالک کی بھرپور مدد و تعاون حاصل ہے۔اخباری رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اس نقظہ نظر کو آگے بڑھانے میں مرکزی کردار ار ڈونلڈ ٹرمپ کے صیہونی داماد اور ایڈوایزر جیرڈ کوشنز Jared Kouchner اور امریکی ایلچی جیسن گرین بلاٹ کا ہے۔ ایلچی جیسن گرین مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لئے امریکی ایلچی ہیں اور عقیدے کے لحاظ سے ارتھوڈوکس یہودی ہیں۔

امریکی صدر کے داماد نے ’’صدی کی ڈیل‘‘ کے حوالے سے سعودی عرب، مصر اور اسرائیل سمیت مختلف ممالک کے دورے کئے ہیں۔گو کہ ابھی تمام باتیں افواہوں تک محدود ہیں لیکن اس منصوبے کے حوالے سے جو کچھ منظر عام پر آیا ہے اس کے خدوخال کچھ یوں ہیں:

ٌٌ1: القدس کو اسرائیلی دارالحکومت کے طور پر قبول کیا جائے گا اور کسی بھی اسرائیلی حکومت کو مسقبل میں اس مسئلے پر کسی بھی قسم کی گفتگو کا حق حاصل نہیں ہو گا۔
2: القدس سے تقریباً چھ یا سات کلومیٹر کے فاصلے پرفلسطین کا نیا دارالحکومت قائم کیا جائے گا۔
3: نیا فلسطین غزہ کی پٹی کے کچھ علاقوں اور ویسٹ بینک کے کچھ حصوں پر مشتمل ہو گا۔
4: فلسطین اور اسرائیل دونوں ملکوں کے مشترکہ سلامتی اور سیکوریٹی پلان کا باقاعدہ اعلان ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔
5: غزہ میں اسلامی مزاحمتی تحریکوں کو ہر قسم کے ہتھیاروں سے پاک کرنا ہوں گا۔
6: سیکورٹی مسائل میں اسرائیل کی پوزیشن کو بالا دستی حاصل ہو گی یعنی سیکورٹی کے معاملات اسرائیل کے ہاتھ میں ہوں گے۔
7: دنیا کے تمام ممالک کو اسرائیل کوایک قانونی ملک کے طور پر قبول کرنا ہوں گا۔
8: تمام مذاہب کے افراد کے لئے فلسطینی مقدس مقامات میں عبادت کی ضمانت اسرائیل کی جانب سے ہوگی لیکن اس کی پوزیشن یہاں ایک Status qua کی ہو گی۔
9: مقبوضہ فلسطین میں موجود پورٹس بشمول اسدود اور جیفا سمیت بعض ائیرپورٹس سے فلسطینی بھی استفادہ کر سکیں گے۔
10: غزہ پٹی اور ویسٹ بینک یا ضعفۃ غربی کے درمیان ایک پرامن گزرگاہ قائم کی جائے گی۔ فلسطینی مہاجرین کی واپسی کے بارے میں غور وخوض کیا جائے گا۔ 

مبصرین کا خیال ہے کہ فلسطینی مہاجرین کو اردن اور مصر کے صحرائی علاقوں میں آباد کرنے کامنصوبہ ہے۔

’’صدی کی ڈیل‘‘ کے منظر عام پر آنے کے بعد قبلہ اول مسجد اقصیٰ کے امام اور خطیب الشیخ عکرمہ صبری نے کہا ہے کہ صدی کی ڈیل نامی امریکی منصوبہ دراصل صیہونی ریاست کی فلسطینی قوم کے خلاف ایک گہری سازش ہے۔ قبلہ اول کے امام نے عالم اسلام کی لاپرواہی ، غفلت اور باہمی انتشار کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہو ئے کہا ہے کہ اس وقت زمین پر ایک ارب اسی کروڑ مسلمان بستے ہیں مگر وہ سب گہری نیند میں ہیں۔ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول ؐ کو نافذ کرنے کے بجائے اپنے علاقائی اور فروعی مفادات میں الجھ کر اپنی صلاحیتوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔الشیخ عکرمہ صبری کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے ہا تھ میں اٹھائے ’’ہیکل سلیمانی‘‘ کی فرضی تصویر نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اور صیہونی قوتیں مل کر’’ مسجداقصیٰ‘‘کے وجود کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔ قبۃ الصخرہ مسجد اقصیٰ کا اٹوٹ انگ ہے اور اسے کسی صورت قبلہ اول سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

’’صدی کی ڈیل‘‘ کے حوالے سے ایک اسرائیلی ویب سائیٹ ’’ڈیبکا‘‘ نے لکھا ہے کہ فلسطین اور اسرائیلی تنازعے کو حل کرنے کے لئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیش کردہ منصوبہ’’صدی کی ڈیل‘‘ کا باقاعدہ اعلان اگلے ماہ کیا جائے گا، خواہ فلسطینی راضی ہوں یا ناراض۔ امریکی انتظامیہ نے ٹرمپ کے صیہونی داماد کو احکامات جاری کئے تھے کہ وہ اس منصوبے کا اعلان بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح کے موقع پر

ہی کر دیں لیکن بعض وجوہات کی بنا پر ایسا ممکن نہ ہو سکا۔
اسی ویب سائیٹ نے لکھا ہے کہ اس منصوبے پر چار عرب ممالک نے رضامندی ظاہر کر رکھی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے صدی کی ڈیل پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ، اماراتی ولی عہد محمد بن زاید ، قطر کے امیر تمیم بن حمد اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو اعتماد میں لیا گیا ہے، لیکن ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اس منصوبے کو یہ کہ کر ٹھکرا دیا ہے کہ اسرائیلی فورسز غزہ میں فلسطینیوں پر ظلم کی حدیں پار کر رہی ہیں۔

فلسطینی ایوان صدر کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ان دنوں ’’صدی کی ڈیل‘‘ نامی منصوبے کی ترویج کی مہم چلا رہے ہیں مگر فلسطینی قوم القدس اور فلسطینی مقدسات سے کسی صورت میں دست بردار نہیں ہو گی۔تجزیہ نگار عماد ابوعواد کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے نام نہاد اور ناقابل قبول اعلان کے بعد صیہونی ریاست نے القدس اور غرب اردن کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی سازشیں شروع

کی ہیں۔ مقصد اس سارے کھیل کا یہ ہے کہ تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل کو ختم کر دیا جائے۔
امریکی جریدے ’’نیویارکر‘‘ نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں اس منصوبے پر روشنی ڈالی ہے۔ ’’نیویارکر‘‘ نے لکھا ہے کہ ’’صدی کی ڈیل‘‘ کو فلسطینی قوم نے اجتماعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔’’صدی کی ڈیل‘‘ مستقبل میں فلسطینی قوم اور خلیجی ممالک کے درمیان مخاصمت اور دشمنی کے بیج بونے کا موجب بنے گی کیونکہ بیشتر خلیجی ممالک بالخصوص امریکی نواز خلیجی ریاستیں ایران کی مخالفت میں آکر اس منصوبے کو قبول کر چکی ہیں۔امریکہ اور اسرائیل کے ہاں بھی اس اسکیم کا مقصد یہ ہے کہ خلیجی ریاستوں اور فلسطین کے درمیان ہمیشہ کے لئے مخاصمت پیدا کی جائے۔

حال ہی میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مصر کا تین روزہ دورہ کیا تھا ۔ اس دورے کے دوران انہوں نے مصری قیادت کے ساتھ جزیرہ نما سینا کا 1000مربع کلومیٹر کا علاقہ ’’نیوم‘‘ پروجیکٹ میں شامل کرنے کا معاھدہ کیا ہے۔مستقبل میں نیوم پروجیکٹ مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا تجارتی اور سیاحتی پروجیکٹ ہوگا۔ مبصرین اس نیوم پروجیکٹ کو ’’صدی کی ڈیل‘‘ کا پہلا بیج سمجھ رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس منصوبے کی ٹیکنیکل امور کی ذمہ داری اسرائیل کے پاس ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ جزیرہ نما سینا میں فلسطینیوں کی آباد کاری کی تجویز بھی شامل ہے۔ 

قصہ مختصر یہ ہے کہ اسرائیل اپنے غاصبانہ قبضے کی رسید خود فلسطینیوں اور پوری دنیا سے حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ آئندہ کوئی بھی اس موضوع پر بات نہ کر سکے اور نہ کوئی اسرائیل کو غاصب اور قابض کہ سکے۔

امریکا اور چند عرب ریاستیں اگر اس نئے منصوبے پر متفق دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم فلسطینی جو اس مسئلے کے اصل فریق ہیں، اسے ہرگز قبول نہیں کرے گی۔ اسرائیل کے اردگرد زمینی حقائق تبدیل ہو رہے ہیں۔ عراق، شام اور لبنان اس منصوبے کی مخالفت اور فلسطینیوں کی پشت پر کھڑے ہوں گے۔ ترکی میں ہونے والے حالیہ او آئی سی کے سربراہی اجلاس کی قرارداد سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عالم اسلام قدس شریف پر اسرائیلی قبضے کو جائز نہیں سمجھتا۔ ان امور کی روشنی میں آسانی سے یہ پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ امریکا اسرائیل کی ’’صدی کا یہ سودا‘‘ کسی صورت کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوگا الٹا اس کے سامنے آنے سے اس کی حامی ریاستیں مسلمانوں میں مزید ناقابل اعتبار ٹھہریں گی اور کمزور ہوتی ہوئی صہیونی ریاست مزید کمزور ہو جائے گی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  73591
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
محرم الحرام کے موقع پر سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد، کوئٹہ اور ہنگو سمیت کئی شہروں میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے موٹرسائیل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
سرن کا قیام 29ستمبر 1954 ء کو 12یورپی ملکوں سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں کے ایک کنونشن میںعمل میں لایاگیاتھا۔یہ دراصل ذراتی طبیعیات Particle Physics پر تحقیق کرنے والادنیا کا سب سے بڑا ادارہ ہے
مکہ المکرمہ میں رمضان المبارک کے دوران عمرے کی ادائیگی کے لیے آئے ہوئے عازمین کے لیے موٹر بائیک کی سواری بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے، اس لیے کہ ان موٹر سائیکل سواروں کو کرایہ ادا کر کے عازمین عمرہ شہر کے مرکزی علاقے سے
ملامحمد عمر 13سالہ امریکہ ،افغانستان جنگ میں مزاحمتی قوتوں کے سپاہ سالارتھے۔ان کی قیادت میں امریکہ اور یورپ کے فوجی اتحاد کو واضح اور مکمل شکست کا سامناکرناپڑا۔

مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں آپریشن کے دوران مزید 3 نوجوانوں کو شہید کردیا۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے مظالم میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہواہے اور بھارتی فوج ریاستی دہشت گردی میں نہتے کشمیریوں پر اندھا دھند
سپریم کورٹ نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ کا نام تبدیل کرنے کی منظوری دے دی۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دادو سندھ میں نائی گچ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیامربھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ اکاونٹ کا ٹائٹل
گوگل نے اس بات کی تصدیق امریکی قانون دانوں کو لکھے گئے ایک خط میں کی ہے جس میں گوگل نے وضاحت کی ہے کہ تھرڈ پارٹی ڈیولپرز جی میل اکاؤنٹس تک رسائی اور شئیرنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آج دانیال چوہدری کی درخواست پر سماعت کی۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں