Wednesday, 21 August, 2019
روپے کی قدر میں کمی سے عوام پریشان حال

روپے کی قدر میں کمی سے عوام پریشان حال

روپے کی قدر میں کمی سے عوام پریشان حال

تحریر : سید قلب نواز

 ملک کے عوام کی خوشحالی و ترقی کا انحصار ملکی معیشت کی مضبوطی پر منحصر ہے اور جس ملک کی معیشت کمزور ہو وہ ملک نہ تو ترقی کرسکتا ہے اور نہ ہی اس ملک کی عوام خوشحال ہوسکتی ہے۔ روپے کی قدرمیں کمی کے باعث معاشی مسائل بڑھنے کے ساتھ ساتھ ملک میں غربت اور مہنگائی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے جس کے اثرات براہ راست عوام پر ہی پڑتے ہیں ۔

ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اورموجودہ حکومت کی معاشی ٹیم روپے کی قدر میں کمی اور گرتی ہوئی ساکھ کو روکنے میں تاحال ناکام نظر آرہی ہے جس کا خمیازہ بد قسمتی سے پاکستانی عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔

ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے کی گرتی ہوئی قدر سے برآمدکنندگان میں خوشی البتہ درآمد کنندگان میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے۔پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کا براہِ راست اثر ان اشیاءکی قیمتوں پرپڑ رہا ہے جو بیرونِ ملک سے درآمد کی جاتی ہیں جیسے کہ پیٹرول ، ڈیزل،پام آئل، کمپیوٹرز، گاڑیاں اور موبائل فونز وغیرہ اور ان تمام اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان پر بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے قرضوں کا حجم بھی بڑھتا جارہا ہے۔ مثلا اگر ایک ڈالر 100 روپے کے برابر ہو اور ایک ارب ڈالر کا قرضہ ہو تو اس حساب سے 100 ارب روپے کا قرضہ ہوگا لیکن اگر ڈالر 160 کا ہوجائے تو قرضہ بھی اسی حساب سے 160ارب روپے کا قرضہ ہو گا اس حساب سے بیٹھے بٹھائے 60ارب روپے زائد ملک کا نقصان اُٹھانا پڑرہاہے ۔

 معاشی اصولوں کے مطابق کسی بھی کرنسی کی قدر اس کی رسد اور طلب پر منحصر ہوتی ہے۔ جب کسی کرنسی کی رسد میں کمی واقع ہوتی ہے اور طلب میں اضافہ ہو تو اس کی قدر یا قیمت بڑھ جاتی ہے۔یہی صورتحال ڈالر کی بھی ہے۔ڈالر کی قدر کا تعین کرنے کے تین طریقے ہیں۔

پہلا تو یہ کہ غیر ملکی کرنسیز میں ڈالر کتنا خریدا جا سکتا ہے۔ اسی کا نام ایکسچینج ریٹ بھی ہے۔فارن ایکسچینج مارکیٹ میں فوریکس ٹریڈرز اس ریٹ کا تعین کرتے ہیں۔ وہ طلب اور رسد کا جائزہ لیتے ہیں اور پھر ریٹ متعین کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سارے دن ڈالر کی قدر میں اونچ نیچ چلتی رہتی ہے۔

دوسرا طریقہ ٹریثری بانڈز کی قیمت کا ہے، جنھیں باآسانی ڈالر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ جب ٹریژری بانڈز کی طلب بڑھے گی تو ڈالر کی قدر میں اضافہ ہو جائے گا۔

تیسرا اہم طریقہ فارن ایکسچینج ریزروز کے ذریعے قیمت کا اندازہ لگانا ہے۔ یعنی غیرملکی حکومت نے کتنے ڈالر اپنے پاس محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔گویا یہ کہ اگر سٹیٹ بینک کے پاس بڑی تعداد میں ڈالر ہوں لیکن وہ زر مبادلہ کے ذخائر بچانے کے لیے اسے مارکیٹ میں ریلیز نہ کریں تو ان کی رسد کم ہو گی اور اس عمل سے امریکی ڈالر کی قدر یعنی قیمت میں اضافہ ہو جائے گا۔

ملک میں آج کل ایسی افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ روپے کی قیمت مزید گرے گی اور اس کی وجہ بھی آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والا ابتدائی معاہدہ ہی ہے، کیونکہ آئی ایم ایف سے قرضہ کن شرائط پر لیا جا رہا ہے، یہ واضح نہیں۔اس لیے ڈالر کے خریدار تذبذب کا شکار ہیں کہ آیا روپے کی قیمت مزید گرے گی یا مستحکم ہو گی، سو وہ اس خوف میں ڈالر زیادہ تعداد میں خرید رہے ہیں۔

اس عمل سے مارکیٹ میں ڈالر کم ہو رہا ہے اور ایک قسم کی ذخیرہ اندوزی کا خدشہ ہے۔پاکستان میں بعض اوقات کئی بڑے منی چینجرز بھی ڈالر کی مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں۔ مصنوعی قلت پیدا ہوتے ہی چونکہ رسد میں کمی اور طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے، اس لیے ڈالر مہنگا ہو جاتا ہے اور اس کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہو جاتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس وقت محض افواہوں کا عمل دخل زیادہ ہے۔

 پاکستان میں ’ڈالر مافیا نہایت مضبوط ہے اور یہ ڈالر کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ روپے کی قدر میں کمی ہو، خریدار، خاص طور پر امپورٹرز مہنگے داموں ڈالر خریدیں جبکہ اس کے برعکس وزارت خزانہ، سٹیٹ بینک و دیگر حکومتی رٹ قائم کرنے والے ادارے کیوں ڈالر مافیا کو کنڑول کرنے میں انتہائی کمزور دکھائی دے رہے ہیں؟ ۔

 سوال یہ پیدا ہو تاہے کہ اس سارے عمل میں متاثر کون ہو رہا ہے؟ظاہر ہے متاثر تو عوام ہی ہو رہے ہیں !بلکہ ڈالر کی قیمت میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی سے کوئی ایک نہیں ہر طبقہ متاثر ہو رہا ہے ۔

اعلیٰ تعلیم کے حصول کےلئے جن والدین کے بچے پاکستان سے باہر تعلیم حاحل کررہے ہیںجنکی فیس ڈالرز میں ہے سب سے زیادہ پریشان حال ان طالب علموں کے والدین ہیں جو اپنے بچوں کی فیس دینے کیلئے ایک ہزارڈالر پر بیس ہزا ر یا اس سے زائد اضافہ دینا پڑرہاہے اور اور جس طالب علم کی سالانہ فیس 3500یا 4000ہزار ڈالر ہے تو انہیں حکومت کی کمزور پالیسی اور نااہلیوں کے باعث روپے کی قدر میں کمی سے ایک لاکھ سے ڈیرھ لاکھ روپے تک اضافی رقم برداشت کر ناپڑرہا ہے ۔

 جب کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ان کے مسائل میں مزید اضافہ اور انکی آمدن میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہ ہونا بلکہ ،بجلی ، گیس کے نرخ بڑھنے اورسیلز ٹیکس بڑھنے کے باعث روزمرہ کی اشیاءپر مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں۔ اندریں حالات میں سوال یہ پید اہو تا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی اس مہنگائی کے ماحول میں طلبا ءکے والدین اپنے بچوں کے فیسوں کی ادائیگی برقت ادا کر پائیں گے ؟

 یہ ایک پہلو ہے روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر کے اضافے کا دوسری جانب اس سے زیادہ متاثر امپورٹرز ہیں۔ پاکستان میں پہلے ہی درآمدات کی شرح برآمدات سے زیادہ ہے۔ ڈالر کی قدر میں اضافے سے مزید مہنگائی بڑھ گئی ہے ۔ امپورٹرز کو اب زیادہ مہنگا ڈالر خریدنا پڑرہاہے ، اور کسٹمر تک یہ اشیا مہنگے داموںپہنچ رہی ہیں جسے کے باعث ملک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔

یہاں تک کہ ملک میں تیار ہونے والی اشیا بھی مہنگی ہو گئی ہیں اس لیے ڈالر جتنا مہنگا ہوگا، پاکستانی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا۔عوام کو اس دلدل سے نکالنے کے لئے ٹھوس اور مربوط معاشی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت معاشی مسائل کے حل اور عوام کو مہنگائی کے بے قابو جن سے نجات دلانے اور روپے کی قدر مستحکم کرنے کے لئے کیا مثبت اقدام ُاٹھاتی ہے ؟

جس سے ملک میں معاشی استحکام پیدا ہو اور پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہوسکے،اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر ملک کو نقصان پہنچانے کےلئے کسی دشمن کی ضرورت نہیں بلکہ اپنی ناقص معاشی پالیسیوں سے ہی ملک اور اسکی عوام کے مستقبل کو خطرے سے دوچار کرنے سمیت ملکی سا لمیت اور خود مختاری کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ وہ دن کبھی بھی نہ دکھائے لہذا اب موجودہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ روپے کی قدر میں اضافے اور ڈالر کی قدر میں کمی لانے کیلئے ہنگامی طور پر عملی اقدامات کر ئے تاکہ ملکی معیشت کو مضبوط اور عوام کو خوشحال بنا کر ملک کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں لا کھڑا کیا جاسکے۔

 

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  37499
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
محنت سے عاری، مایوسی کے پیکر، خود سے تنگ لوگوں کی زبان سے یہ جملہ اکثر سننے کو مل جاتا ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ؟ ملک کو ستر سال ہو چکے ہیں اور تمام مسائل اسی طرح کھڑے ہیں؟ تعلیم، صفائی، ٹرانسپورٹ
پاکستانی قوم اس وقت جن باغیانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ساتھ اندرونی سیاسی انتشار اور خلفشار سے دو چار ہے وہ نہایت افسوسناک ہے، اس سے ملک و ملت کے استحکام اور بقا اور ملی یکحہتی کو سخت نقصان پہنچا ہے
دنیا کا واحد ملک پاکستان ہے جو دہشت گردی کے خلاف یکسوئی کے ساتھ نبرد آزما ہے ہزاروں شہریوں اور ہزاروں سیکورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذارانہ دے کر دہشت گردوں کو ناکام بنایا ہے پاکستان ہی وہ دنیا کا

مقبول ترین
پاک فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا منہ توڑ جواب دیا جس کے نتیجے میں ایک افسر سمیت 6 بھارتی فوجی ہلاک اور 2 بنکرز تباہ ہوگئے۔
پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ میڈیا کے مطابق آئندہ ماہ جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن اجلاس بلانے کیلئے وزارت خارجہ نے تیاری شروع کر دی ہے اور اس سلسلے میں سابق سیکرٹری
وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کردی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے کی موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد انہیں مزید 3 سال کیلئے آرمی چیف مقرر
بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کیے جانے کے بعد سے وزیراعظم عمران خان نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور وہ کشمیر کے معاملے پر بین الاقوامی برادری سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں