Wednesday, 22 August, 2018
شمالی و جنوبی کوریا اور پاک و بھارت تقابلی جائزہ

شمالی و جنوبی کوریا اور پاک و بھارت تقابلی جائزہ
تحریر: اربا ب جہانگیر ایدھی

 

دنیا کے نقشے پر سینکڑوں ممالک ہیں جن کے تہذیب و تمدن، تاریخ، زبان، ثقافت ، مذہب و نظریہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں جبکہ ہر ایک میں جو ایک قدر مشترک ہے وہ انسانیت ہے جس پر ہر کسی نے اپنا اپنا مخصوص لبادہ اوڑھ رکھا ہے ۔ قدرت نے سرزمین پرانسانی تخلیق کے ساتھ ہی زندگی کی ہر ضرورت کے سازوسامان کے وسائل و ذرائع پیدا کردیے اور انسان کوبنیادی طورپر دوسرے انسانوں کیلئے ہی پیدا کیاگیا۔ مگر شروع سے اب تک جب بھی کسی معاشرے میں جب بھی انسان کو دوسرے انسانوں کی رہنمائی یا ترجمانی کا موقع اقتدار کی کرسی کی صورت میں ملا تو پھر کرسی کی حرص و لالچ نے ان کو اپنے ذاتی ،سیاسی و معاشی مفادات کی تکمیل کیلئے معصوم عوام کی ہزاروں لاکھوں جانوں کے ضیاع سے بھی نہ گریز کروایا۔ بدقسمتی سے تاریخ کی ہزاروں کتابیں اقتدار کیلئے انسانی جنگوں پر محیط دنیا بھر موجود ہیں جو انسانیت کیلئے شرمناک ہیں۔

اگر ہم براعظم ایشیاء کے دو ممالک جو حالیہ چار ممالک کی صورت اختیار کیے ہوئے ہیں ان کا تقابلی جائزہ لیں تو تقریبا اسی فیصد ان کی تاریخ ملتی جلتی ہے ۔اور یہ دنیا بھر میں ایک خاص اہمیت کے حامل ہیں۔
جن میں پہلے دو ممالک جنوبی ایشیاء میں واقع ہیں اور پاکستان اور انڈیا کی صورت میں دنیا کے نقشے پر موجود ہیں جبکہ دوسرے دو ممالک مشرقی ایشیاء میں واقع ہیں جو کہ جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کی صورت میں دنیا کے نقشے پر موجو د ہیں ۔ہم پہلے انفرادی طور پر ان کا مختصر تعارف دیکھتے ہیں بعدازاں ایک سبق آموز نتائج مرتب کریں گے۔

جنوبی ایشیاء میں واقع متحدہ ہندوستان کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اس میں بنیادی طور پردوبڑی تہذیب وتمدن کے افراد رہتے تھے جن میں ہندو اور مسلمان شامل ہیں۔لیکن نظریاتی اختلاف پر انیسویں صدی کے اوائل (1913 ء مسلم لیگ کی بنیاد)میں ایک تحریک نے جنم لیا کہ متحدہ ہندوستان کو دونظریات پر مشتمل دو ممالک میں تقسیم ہونا چاہیے جو وقت کے ساتھ ساتھ زور پکڑتی گئی اور بالآخر 1945 میں برطانیہ کی طرف سے منتخب افسران(باؤنڈری کمیشن) کی طرف سے بغیر کسی مناسب منصوبہ بندی کے ایک لائن کھینچ دی گئی جس کے بعد ایک ملک بھارت جبکہ دوسر ا پاکستان دنیا کے نقشے پر وجود میں آیا۔جس سے لاکھوں لوگوں کو ادھر ادھر ہجرت کرنا پڑی اور اس تقسیم میں لاکھوں لوگوں کواپنی جانوں کا نذرانہ دینا پڑا۔ اس صورتحال میں ایک حصہ کشمیر متنازعہ چھوڑ دیا گیا جو کہ آج سات دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی دونوں ممالک کے درمیان جنگی کیفیت کو طاری ہونے میں بنیادی کردار کا حامل ہے۔

کوریا کی تاریخ تیرہویں صدی سے شروع ہوئی تب سے 1910 تک کوریا ایک خاص تہذیب و تمدن سے اپنا ملک چلا رہا تھا مگر 1910 میں کوریا کے پڑوسی ملک جاپان نے کوریا پرمکمل قبضہ کر کے اس کو اپنے ساتھ ملا لیا ۔بعدازاں 1945 میں مختلف متحدہ ممالک جیسے کہ امریکا اور سویت یونین و دیگر کے تعاون سے کوریا کو جاپان سے آزادی دلوانے کیلئے کوششیں رنگ لائیں اور امریکا کا جاپان کے شہر ہیروشیماپر ایٹمی حملے سے جاپان کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا۔لاکھوں جانوں کے نذرانے کے بعد کوریا مکمل آزاد ہوگیا جبکہ اس کی آزادی میں دو ممالک امریکا اور سویت یونین پیش پیش تھے اب انکی طرف سے کوریا میں نظریاتی اختلاف (امریکا سرمایہ دارانہ نظام و جمہوری نظام جبکہ سویت یونین اشتراکیت کا نظام لاگو کرنا چاہتا تھا )کی وجہ سے کوریا کو دو حصوں (جس کی تقسیم امریکا کے دو نمائیندگان نے بغیر کسی مناسب منصوبہ بندی کے 38 پیرالل لیٹی ٹیوڈ کے مطابق کردی )میں تقسیم ہونا پڑا جس میں شمالی کوریا کو سویت یونین کی حمایت مل گئی جب کہ جنوبی کوریا کو امریکا کی حمایت مل گئی تب سے شمالی کوریا اور جنوبی کوریا دو مختلف نظریوں پر اپنا سفر شروع کردیا۔

1950 میں شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر حملہ کیا تاکہ دوبارہ ایک متحدہ ملک کوریا کی شکل دے کر اشتراکیت کا نظام لاگو کیا جائے مگر جنوبی کوریاکی طرف سے بھرپور جواب پرمعاملہ حل تو نہ ہوسکا مگر بگڑگیا ۔جونکہ ان ممالک کا جغرافیائی وجود بہت اہمیت کا حامل ہے اور جنگ کی صورت میں کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا تھا اوریہ کل تک ایک بھیانک صورتحال اختیار کیے ہوئے تھامگر 27 اپریل 2018 کا سورج ان دونوں ممالک کیلئے ایک امن کی کرنوں کے ساتھ طلوع ہوا اور دونوں ممالک نے پچھلے سات دہائیوں سے قائم جنگی کیفیت کوبارڈر پر ایک امن کا درخت لگا کر ملیامیٹ کردیا۔

شمالی کوریا اور جنوبی کوریا نے تو سات دہائیوں سے قائم نفرت کو شکست دے کر امن کی راہیں ہموار کر دیں اور مزید ہزاروں لاکھوں جانوں کو جنگ میں قربان کرنے کی بجائے خوشحالی و امن کو ترجیح دی مگر نجانے پاک و بھارت کے ارباب اقتدار و اختیارکب سوچیں گے کہ ہم اقتدار کی کرسی کے لالچ کو پس پردہ ڈال کر خالصتا دونوں ملکوں کی عوام کی خوشحالی و امن کیلئے بیٹھ کر اپنے اختلافی مسائل کو متفقہ طور پرحل کریں اور اپنے بارڈر پر بھی بارود کے اگلنے کی بجائے امن کے درخت اگایں ۔

امید کرتا ہوں ہمارے لیڈران شمالی کوریا کے سپریم لیڈر’’ کم جونگ ان ‘‘اور جنوبی کوریا کے صدر ’’مون جے ان‘‘ کی امن کیلئے حالیہ فقید المثال اقدام پر سوچیں گے اور آئیندہ مفید حکمت عملی اپنا کر اس مسئلے کو ہمیشہ کیلئے حل کریں گے۔اور اسی کشمکش میں کشمیری عوام روز بروز دونوں کی آپسی نفرت کا نشانہ بن کر جانوں کو قربان کر رہی ہے مگر ہمارے حکمران سات دہائیوں سے یہی ایک مسئلہ حل نہیں کر پائے جبکہ ہر سالہا سال سے حکمران آرہے اور اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر مزے تو لوٹتے رہے مگر ان کو عوام پر ترس نہیں آیا کہ ہماری فوجی جوان پچھلے ستر سال سے نفرت کی آگ میں جل رہے ہیں اور اپنی سرزمین کیلئے جانیں قربان کررہے ہیں مگر ان نام نہاد حکمرانوں کا بیٹا بارڈر پر گولی کا نشانہ بنے تب ان کو احساس ہوگا کہ جان کیا ہوتی ہے اور کیسے سات دہائیوں سے دونوں ملک لاکھوں جانوں کو قربان کرنے کے باوجود بھی اپنا مسئلہ حل نہیں کر پائے۔ہمیں کم جونگ ان اور مون جے ان کی طرح سوچنا ہوگا کہ ہم کیوں نفرت کو پالے ہوئے ہیں؟ ہم آگے بڑھ کر ہاتھ کیوں نہیں ملا لیتے؟ ہم متنازعہ مسائل کا حل کیوں نہیں نکالتے؟ ہاں ہمیں سوچنا ہوگا!!! 


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  55549
کوڈ
 
   
مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
وزیر اعظم عمران خان نے نجم سیٹھی کے استعفے کے بعد احسان مانی کو نیا چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نامزد کردیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے احسان مانی کو چیئرمین پی سی بی کے طور
مسجد نبویؐ کے امام ڈاکٹر شیخ حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ نے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرو ٗ تمام انبیاء نے کہا صرف اللہ کی عبادت کرو ٗاسلام کی حقیقی تصویر اعلیٰ اخلاق اور بہترین سلوک و برتاؤ ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی 16 رکنی ٹیم نے حلف اٹھالیا، اسد عمر خزانے کے وزیر، شاہ محمود وزیرخارجہ اور فواد چودھری وزیراطلاعات بن گئے، شیخ رشید ریلوے، فروغ نسیم قانون اور پرویز خٹک نے وفاع کی کمان سنبھال لی۔
ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کرانے پر ہالینڈ کے ناظم الامور کو دفترخارجہ طلب کیا گیا۔ دفترخارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کرانے پر ہالینڈ کے ناظم الامور کو دفترخارجہ طلب

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں