Friday, 16 November, 2018
کیا واقعی سعودی عرب بدل رہا ہے؟

کیا واقعی سعودی عرب بدل رہا ہے؟
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

 

کچھ دن پہلے  سعودی عرب کے کلچرل چینل الثقافیہ نے کئی دہائیوں بعد مصر کی مشہور مغنیہ ام کلثوم کا  گانا چلایا  جسے پورے دنیا میں حیرت کی نظر سے دیکھا گیا۔ سنا یہ گیا ہے کہ اس سال کے آخر میں  یورپی  موسیقی جاز کا سب سے بڑا کنسرٹ سعودی عرب میں ہونے جا رہا ہے۔سعودی عرب  مختلف حوالوں سے   بین الاقومی میڈیا  کی خبروں میں رہتا ہے  پچھلے چند سال کی  خبریں جمع کی جائیں تو  پتہ چلے گا کہ  بہت سے خبروں  کی بنیاد بالواسطہ یا بلاواسطہ  عورتوں کی ڈرائیونگ ہے ۔ بین الاقوامی میڈیا بالخصوص مغربی میڈیا میں اس  بات پر حیرت کا اظہار کیا جاتا تھا کہ دنیا میں کوئی ملک ایسا بھی  موجود ہے کہ جہاں آج بھی عورتوں کے ڈرائیو کرنے پر پابندی ہے؟ اس حوالے سے کئی بار سوشل میڈیا پر کمپینز چلائی گئیں ،عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے  اس پر بہت تنقید کی ۔جیسے ہی 28 ستمبر کو اس پابندی کو ہٹانے کے عمل کے آغاز کا اعلان کیا گیا یورپ کے تمام اہم ممالک کے دارالحکومتوں سے اس  کا خیر مقدم کیا گیا۔

آپ کبھی سعودی عرب گئے ہیں تو آپ سعودی عرب کی اس پولیس سے ضرور آگاہ ہوں گے  جو پبلک مقامات پر تعینات ہوتی ہے  ۔اس پولیس کام لوگوں  پر نظر رکھنا ہوتا ہےیہ مذہبی پولیس  امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے محکمے سے  تعلق رکھتی ہے۔پوری دنیا سے  مکہ اور مدینہ جانے والے زائرین  کو روضہ نبی اکرمﷺ   اور بقیع کے سامنے اس پولیس سے واسطہ ضرور پڑتا ہے۔یہ لوگ زائرین پر بڑی سختی کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پوری دنیا کے مسلمان اس اسلام  کو فالو کریں جسے یہ پولیس والے درست سمجھتے ہیں  ان کو وسیع اختیارات حاصل ہیں   جن کا اظہار یہ کرتے رہتے ہیں  ۔


اب اسی سعودی عرب میں سینما گھر بننے جا رہے ہیں ،اب وہاں بھی خواتین  ڈرائیونگ کر سکیں گی،اب مذہبی پولیس کے اختیارات بھی محدود کیے جا رہے ہیں ۔سعودی عرب میں اب یہ تبدیلیاں کیوں دیکھی جا رہی ہیں؟ ایسا کیا ہو گیا ہے کہ جس کی وجہ سے بڑی تیزی کے ساتھ یہ  قدم اٹھائے جا رہے ہیں؟

عرب سپرنگ کے بعد ایک بات تو طے ہو گئی تھی کہ اب عرب بادشاہتیں اپنے پرانے طریقوں پر نہیں چل سکیں گی  انہیں خود کو بدلنا ہو گا نہیں تو عرب  عوام انہیں اٹھا کر پھینک دیں گے۔تیونس اور مصر میں ایسا ہو چکا تھا  قریب تھا کہ بحرین اور اس کے بعد سعودی عرب کا  نمبر آتا مگر مسئلہ کو فرقہ ورانہ رنگ دے دیا گیا اور ساتھ میں سعودی معاشرے  میں کسی بھی سیاسی جماعت کا نہ ہونا یہ وجہ بنا کہ کوئی منظم تحریک نہ چل سکی ۔اخوان کی ہمددری موجود تھی اور کسی حد تک منظم  گروہ موجود تھا  جسے بڑی بے دردی سے ختم کر دیا گیا  یہاں تک کہ مولانا مودودی کی کتابیں بھی   بین کر دی گئیں۔


مغرب کے مختلف حوالے سے  دہرے معیار ہیں  جہاں جمہوریت اس کے فائدہ میں ہوتی ہے وہاں وہ جمہوریت کا چمپئن بن کر اس کی حمایت میں  سامنے آ جاتا ہے اور جہاں آمریت اس کے فائدہ میں ہو وہاں جمہوریت پر  تین حرف بھیجتے ہیں۔ مصر میں جمہوریت فائدہ میں نہ تھی تو  اپنی پوری سپورٹ آمریت کی  گود میں ڈال دی اور مصری عوام کا قتل عام کرنے والے سیسی کو   ایک آمر ہونے کے باوجود قبول کر لیا ۔یورپی عوام سے  وعدے کیے جاتے ہیں کہ ہم جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کریں گے اب عوام ان سے پوچھتے ہیں  کہ جب حق اقتدار عوام کا حق ہے تو  کیوں اس وقت تمہارے بہترین دوست  ملکوں میں بادشاہتیں قائم ہیں ؟ ایسے سوالات کے جوابات دینے کے لیے  مغربی ممالک بھی   مختلف مواقع پر  پریشر ڈالتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی پاسداری ہونی چاہیے اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ جو اقدامات سعودی عرب نے کرنا  شروع کیے ہیں ان سے  ان ممالک کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ہم  جمہوریت ،انسانی اور بالخصوص عورتوں کے حقوق پر بہت کام کر رہے ہیں،اسی طرح  معاشرے میں مذہبی لوگوں کے اثرات کو بھی کم کرنے پر کام کر رہے ہیں ۔

سعودی عرب  میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دینا ،مستقبل قریب میں سینماؤں اور دیگر تفریح گاہوں کا قیام عمل میں لانا ،مذہبی پولیس کو انتہائی محدود کر دینا  اس سب  کے پیچھے سیاسی  و اقتصادی مفادات ہیں۔خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی  شریعت کا مطالبہ نہیں تھی یعنی ایسا نہیں ہے کہ قرآن و سنت کی   کسی نص میں آیا ہو کہ  خواتین ڈرائیونگ نہیں کر سکتی اور اسی طرح جس وقت سعودی عرب میں سینما کو  بین کیا گیا اس وقت  سعودی عرب میں مذہبی قوتوں کا اثر زیادہ تھا اور وہ تصویر کشی کو حرام سمجھتے تھے جس کی بنیاد پر سینما پر پابندی لگائی گئی مگر  اب وہ صورت حال نہیں ہے اب مذہبی قیادت  مکمل  طور پر آل سعود کی مٹھی میں ہے اس لیے  پابندی کے اٹھا لینے سے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ 

سعودی معیشت زوال پذیر ہے  حکومت اور عوام دونوں تیل کی کمائی سے  تمام امور مفت میں انجام دیتے رہے ہیں گھر بنانے  سے لیکر گھر چلانے والا تک سب کے سب غیر سعودی ہوتے تھے ۔جب تک تیل کا  بے حساب پیسہ آ رہا تھا تب تک تو ٹھیک تھا مگر اب ٹھیک نہیں ہے اب بیوی اور دو بیٹیوں کے لیے الگ الگ ڈرائیور رکھنے پڑیں تو تین ڈرائیورز کی تنخواہ ٹھیک ٹھاک مہنگا کام ہے جو  ہر کوئی افورڈ نہیں کر سکتا اور دوسرا  سعودی حکومت  دنیا کو یہ دکھانا چاہتی ہے کہ وہ کتنی روشن فکر ہے  خواتین کو حقوق دے رہی ہےاس طرح   یہ بھی  دکھانا چاہ رہی ہے کہ ہم  مذہبی لوگوں کو دبا کر  اہم اصلاحات کر رہے ہیں۔

سعودی عرب میں  تفریحی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال 70 ارب ریال  بیرون ملک  تفریح پر خرچ کر دیتے ہیں۔ سعودی حکومت چاہتی ہے کہ وہ اپنے ہاں ہی بڑے سینما گھر کھول دے تفریح گاہیں بنا دے تاکہ وہ ایک طرف اس پیسے کو بچا لے اور دوسرا  بیرون ملک سے بہت سے سیاحوں کو بھی اپنے ہاں لائے او رزرمبادلہ کمائے اس لیے ضروری ہے کہ  ان کو وہی سہولیات مہیا کی جائیں جن کو وہ تقاضا کرتے ہیں۔ 

یمن پر سعودی حملے نے جہاں پر یمن کو مالی طور پر تباہ و برباد کر دیا   ہے وہیں  اس نے  سعودی عرب کی معیشت پر بھی  انمٹ نقوش چھوڑے ہیں   ،ایک لمبے عرصے سے سعودی معیشت  کا انحصار تیل پر ہے جس کی قیمتیں نصف سے بھی کم ہو گئی ہیں ،نجی شعبہ  کےکمزور ہونابھی  معیشت کے لیے مسئلہ بنا ہوا ہے ،ہر چیز  پر  سرکاری کنٹرول نے   سعودی معیشت کو دباؤ کا شکار کر دیا ہے  جس کے اثرات  سعودی عوام پر دیکھے جا سکتے ہیں اب ٹیکس لگنا شروع ہو گئے ہیں،بہت سے سہولتیں جو دہائیوں سے مفت میں دی جا رہی تھیں اب   مفت میسر نہیں ہیں بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں  جنہیں بہتر روزگار کی ضرورت ہے ۔

یہ سب اقدامات  یہ بتا رہے ہیں کہ سعودی معاشرے کے اندر  تبدیلی کی لہر موجود ہے اسے ہینڈل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔یہ سب اقدامات  سماجی نوعیت کے ہیں ملکی اختیارات کے مالک  شہزادہ سلمان  وژن 2030ء  کے  انچارچ بھی ہیں جو پورے ملک کا نظام تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔سعودی عرب میں  نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نوجوانوں  مغربی یونیورسٹیز  سے پڑھ کر آئی ہے وہ آزادی اظہار،جمہوریت،انسانی حقوق اور اسی طرح کے درجنوں خیالات  لیکر آئی ہے جو   بادشاہت کے ساتھ سازگار نہیں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھinfo@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  73617
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
تقریبا سوسال پہلے سعودی عرب ایک مملکت کے طور پر صفحہ ہستی پر وجود میں آیا ۔سعودی عرب کا وجود بذات خود خلافت اسلامیہ کے ٹوٹنے کے اسباب میں سے ایک ہے۔ اسلئے دینی طبقہ نے ابتداء میں اسکو پذیرائی نہیں بخشی۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر کرپشن الزامات میںزیر حراست الولید بن طلال دوران حراست شدید غصہ دکھائے جا رہے ہیں اور وہ اپنی حراست کو توہین سمجھتے ہوئے اپنا غصہ تھوکنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے 10دسمبر2017 کو ایران کی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب سے اپنے تعلقات بہتر کر سکتے ہیں اگر وہ اسرائیل
ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کا اس سے قبل کہنا تھا، ’’ایران اس اجلاس کو سعودی عرب پر تنقید کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتا، مگر سعودی عرب نے شام اور لبنان میں فائربندی کی ہرکوشش کو مسترد کیا ہے۔‘‘

مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
لاپتہ ہونے والے ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان خان پورڈیم پر تعینات تھے، سی ڈی اے کے افسر ایازخان کی بیٹی کی کل شادی ہے۔ اہلیہ نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا جمعرات کی شام ساڑھے 4 بجے میرے خاوند دفتر سے نکلے، خاوند نے جی 13 میں واقع اپنے گھر آنا تھا
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں زلفی بخاری کے بطور معاون خصوصی وزیراعظم تقرری کی نااہلی کے لیے درخواستوں پر چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں سماعت ہوئی، زلفی بخاری سماعت کے دوران عدالت میں وکیل اعتزاز احسن
سپریم کورٹ آف پاکستان میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے نومبر 2017 میں فیض آباد دھرنے کے معاملے پر لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کی غیرموجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے جمال خاشقجی کے قتل کے ردِ عمل میں پہلی مرتبہ عملی قدم اٹھاتے ہوئے ان 17 سعودی شہریوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جو صحافی کے قتل کا منصوبہ بنانے اور اسے عملی جامہ پہنانے والی ٹیم کا حصہ تھے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں