Tuesday, 11 December, 2018
دارالعلوم حقانیہ ۔ ساٹھ کروڑ اور ڈکار

دارالعلوم حقانیہ ۔ ساٹھ کروڑ اور ڈکار
فائل فوٹو
تحریر: حافظ شاہد احمد

 

دینی مدارس خداوند قدوس کی طرف مملکت خداداد کیلئے نعمت غیرمترقبہ ہے کیونکہ ان ہی مدارس کے ذریعے قوم کے اپاہج ،معذور کندذہن اور مسکین لاچار بیک وقت دس لاکھ سے زائد نوجوانان پاکستان تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ملک کے طول وعرض سے ایسے غریب نوجوان جمع ہوتے ہیں انکی تعلیم اور کفالت کا انتظام کیا جاتا ہے ۔ قلم اور کتاب کے یہ شوق حضرات نہایت سادہ ،دلیر ، بے باک اور شگفتہ زبان ہوتے ہیں۔مدارس کے ماحول میں رہتے ہوئے اکثردانشور ہماری قوم میں نہایت اعلی مقام رکھتے ہیں۔ مولانا مودودی ،ڈپٹی نذیراحمد، سرسیداحمدخان، امام احمدرضاخان اور دیگر مشہور شعراء وقلم کار ان ہی مدارس کے فیوض یافتہ ہے۔حکومت پاکستان نے کبھی بھی ان کی فلاح وبہبود کیلئے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھائی۔

خیبرپختونخواہ حکومت کے حوالے سے خبر آئی تھی کہ صوبائی حکومت اس حوالے سے کام کررہی ہے ۔ لیکن ایم ایم اے، باچا خان پارٹی کی طرح تحریک انصاف بھی باقاعدہ کوئی منصوبہ بنائے بغیرفنڈ کا اجراء کرتے رہے ہیں ۔اس ضمن میں افسوسناک خبریہ ہے کہ ان تین سیشنوں میں یہ پیسہ صرف ایک مدرسہ پر خرچ ہواہے ۔جوکہ سیاسی پس منظر بھی رکھتا ہے۔ تحریک انصاف نے پہلے تیس کروڑ روپے دارالعلوم حقانیہ کو جاری کردئے جب اس کی واہ واہ ہوگئی تو ایم ایم اے دور کے مشائخ او ر اے این پی کے زیرک سیاسدانوں نے بھی بیان بازی شروع کی کہ ہم بھی اپنے اپنے سیشن میں دارالعلوم حقانیہ کو یہی مبلغ دے چکے ہیں۔ ابھی یہ رقم ریلیز ان ریلیز کے دور سے گزر رہا تھا کہ تیس کروڑ اور جاری کردئے گئے۔

سوال یہ ہے کہ یہ رقم کس مدمیں دیا جارہاہے؟ پندرہ سال ہوگئے ہیں کونسے اصلاحات متعارف کرائے گئے ہیں ۔اس وجہ سے معاشرے میں کیا تبدیلی آگئی ہے۔کیا وہاں موجود طلبہ کی زندگی میں کوئی نیا موڑ آگیا ہے انکی زندگی میں کوئی خوشگوار تبدیلی ،جیب خرچ، فری کتب فراہمی ،تعلیمی ضرورت کیلئے لیب ٹاپ یا دیگر کیا تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ یہی سوال ہم اساتذہ کے حوالے دہراتے ہیں مدارس اور خاصکر حقانیہ کے اساتذہ کی تنخواہ تقریبا پانچ ہزار سے زائد نہیں ہے۔کیا ان اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا ہے انکے بچوں کیلئے تعلیمی اخراجات دارالعلوم ادا کرتے ہیں ۔ طلبہ اساتذہ دیگر ملازموں کا طبی اخراجات وہاں سے ادا کئے جاتے ہیں۔ نصاب میں تبدیلی نہ تعلیمی سرگرمیوں میں اضافہ ، طلبہ کی غربت میں کمی نہ اساتذہ کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔

اے این پی نے قلیل مدت میں سات یونیورسٹیاں بناکر فعال بنادئے ۔تحریک انصاف نے پانچ سال میں تعلیم ،صحت ، پولیس اور تقریبا بہت سارے محکموں میں قابل قدر تبدیلی لائی ہے۔لیکن دارالعلوم کو پیسہ دیا جاررہا ہے اور کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے آخرپندرہ سال کے اس طویل مدت میں کوئی انقلاب تو آنا چاہیئے تھا ۔اس پوری تفصیل سے واضح ہوتا ہے کہ حساب کتاب کا کھاتہ بالکل بند ہے اب جبکہ پتہ چل گیا کہ دارالعلوم کے متعلقہ معاملات میں تبدیلی نہیں آئی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی باری رقم آنکھیں بندکرکے ایک مسلک کے صرف ایک دارالعلوم کو کس بنیاد پر دیئے گئے ہیں؟

حکومت نے غیرمنصفانہ تقسیم بھی کی اور چھان بین میں غفلت بھی بھرتی ہے اس معاملے میں صاف نظر آرہا ہے کہ یہ بھاری رقم کسی سیاسی ایجنڈے کیلئے دیئے گئے ہیں اور عوام میں پذیرائی کیلئے دارالعلوم کا نام دیا جارہا ہے ۔خلافت اور اسلامی نظام خیرخواہاں سابقہ ایم ایم اے اور موجودہ تحریک انصاف نے قوم کیساتھ بے انصافی کی ہے ۔خیبرپختونخواہ میں اگر سالانہ منصوبہ بندی کے تحت مدارس میں ایک خاص مد میں یہ رقم دی جاتی تو ضرور تعلیمی سرگرمیوں میں تبدیلی آتیں کیونکہ غیرسیاسی مدارس میں ایسے خداپرست اور متقی لوگوں کی کمی نہیں ہے جو گورنمنٹ کے پیسے کو امانت سمجھ کر لگادیتے اور اسکا نتیجہ بھی مختلف ہوتا کیونکہ مدارس پراجیکٹ پر باقاعدہ کام کرنے والے کچھ محققین کو میں جانتا ہوں ۔وہ فرماتے ہیں کہ دینی طلبہ ،اساتذہ کی سادہ زندگی اور کفایت شعاری کی صورت میں مدارس میں نہایت قلیل رقم سے بھی بہت کام ہوسکتا ہے.

خرف آخریہ ہے کہ دینی مدارس کو اگر فنڈ دینا ہے تو کسی قاعدہ قانون کو ملحوظ خاطر رکھ کر اقدام کیا جائے ۔ بہترہوگا کہ طلبہ کی واساتذہ کی تعداد یا کلاسوں کے حساب سے منصفانہ طریقہ اختیار کیا جائے ۔

مسلکی بنیادوں، پسند ناپسند اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر نونہالان پاکستان کی خدمت کی جائیں ۔یہ سب سے بڑی خیرخواہی ہے اور یہ ووٹ بینک میں اضافہ کا بھی باعث ہے ۔ورنہ رقم ختم ہوتے ہی ایک نیا مطالبہ سامنے آئے گا ۔کل کی ایک اخبار سے پتہ چلتا ہے کہ پیسہ ہضم کھیل ختم ۔ہاضمے کی دوا نہ ڈکار۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  22566
کوڈ
 
   
مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
خیبرپختونخوا حکومت پر براجماں تبدیلی کے دعویداروں نے بے روز گار نوجوانوں پر بم گرانے کی تیاری کر لی۔ خیبر پختون خوا حکومت نے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے پر غور شروع کر دیا ہے اور اس سلسلے میں ملازمین کیلئے مدت ملازمت
میڈیا کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے بذریعہ موٹروے اسلام آباد پہنچا دیا گیا، وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اسپیکر اسد قیصر کی جانب سے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کا تبادلہ کرکے انہیں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا صدر تعینات کیا گیا ہے جب کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر لیفٹیننٹ جنرل ماجد احسان کو نیا کور
چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکا کہنا ہے کہ میں رہوں نہ رہوں سپریم کورٹ کا یہ ادارہ برقرار رہے گا اور میرے بعد آنے والے مجھ سے زیادہ بہتر ہیں۔ کوئٹہ میں بلوچستان بار میں اپنے خطاب میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ڈیم کی تعمیرآنے والی نسلوں

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں