Monday, 03 August, 2020
دوسروں کو بھی رائے کی آزادی دیں

دوسروں کو بھی رائے کی آزادی دیں
تحریر: سید ثاقب اکبر

 

پہلی گذارش

اتحاد امت کے موضوع پر بات کرتے ہوئے ہماری نظر میں سب سے آخری اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں خود بھی اپنے لیے آزادی فکرونظر کا حق حاصل کرنا چاہیے اور یہی حق دوسروں کو بھی دینا چاہیے۔ممکن ہے کہ کسی شخص کی نظر میں مسلمانوں کے مختلف مسالک کے مابین قربت پیدا کرنے کے لیے ہماری پیش کی گئی تجاویز قابل قبول نہ ہوں۔ہم ان کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ ہم انھیں یہ حق دیتے ہیں کہ وہ ہماری ایک یا کوئی بھی تجویز قبول نہ کریں۔ان کی نظر میں اگر کوئی تجویز ہو تو ہم اسے سننے اور جاننے کے لیے تیار ہیں۔البتہ ہم یہ ضرور عرض کرنا چاہیں گے کہ وہ اگر اپنے لیے آزادانہ ایک عقیدہ یا رائے رکھنے کے حق کے قائل ہوں تو وہ یہ حق دوسروں کو بھی ضرور دیں۔یہاں تک کہ ہم ان افراد سے جو مسلمانوں کے کسی مسلک یا گروہ کو دیانت داری سے مسلمان سمجھنے کے لیے تیار نہیں،عرض کرنا چاہیں گے کہ تب بھی انھیں دوسروں پر زبردستی اپنی رائے یا عقیدہ مسلط کرنے کا حق نہیں پہنچتا۔نیز اس کے باوجود انھیں دوسروں کی جان، مال اور عزت کی حرمت کا قائل ہونا چاہیے۔کوئی معاشرہ بھی اس نظریے کو قبول کیے بغیر باقی نہیں رہ سکتا۔پیش نظر مضمون ہم نے کسی پس منظر میں سپرد قلم کیا ہے۔اس کے مندرجات کے مخاطب بیک وقت مسلمان بھی ہیں اور غیر مسلم بھی۔

ایک حق جو سب کے لیے ہے

ہر آدمی کی خواہش ہے کہ اسے رائے کی آزادی حاصل ہو۔ ہر شخص اپنی رائے کو درست بھی سمجھتا ہے۔ ہر کوئی اپنے عقیدے پر آزادی کے ساتھ قائم رہنا چاہتا ہے اور اپنے عقیدے کو بر حق بھی جانتا ہے بلکہ اس رائے اور عقیدے کی تبلیغ بھی کرنا چاہتا ہے۔ یہاں تک تو بات ٹھیک ہے لیکن جونہی یہ کہا جائے کہ یہ آزادی دوسروں کو بھی دیں، دوسروں کو بھی رائے اور عقیدے کی آزادی دیں تو معاملہ یہاں پر کچھ ٹھٹھک جاتا ہے۔ دوسروں کو بھی حق دیں کہ وہ اپنی رائے اور عقیدے کو درست اور برحق جانیں چاہے ان کی رائے اور عقیدہ آپ کی رائے اور عقیدے کے برخلاف ہی کیوں نہ ہو، اس مرحلے پر آکر ہم مشکل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ آخر ہم نے بھی تو دوسرے کی رائے اور عقیدے کے خلاف رائے اور عقیدہ اختیار کررکھا ہے،جب ہم اس پر کاربند رہنے کی آزادی چاہتے ہیں تو دوسروں کو یہی آزادی کیوں نہیں دیتے۔

پیدائشی مذہب

جہاں تک مذاہب و ادیان سے وابستگی کا تعلق ہے دنیا میں تقریباً تمام لوگ اس دین و مذہب پر ہوتے ہیں جو ان کے والدین کا ہوتا ہے۔ مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی، بدھ مت کے پیرو اور یہودی،اس کلیے سے بھی کہیں پر بھی استثنا نہیں۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ ایک مذہب چھوڑ کر دوسرا اختیار کرلیتے ہیں، دنیا کی اتنی کثیر آبادی میں ایسے افراد نہایت کم ہیں۔ ہم اکثر سنتے رہتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ میں اسلام تیزی سے پھیل رہاہے، یہ دعوے حقیقت سے زیادہ قریب نہیں ہوتے۔ اگر کل آبادی کے مقابلے میں ہونے والی تبدیلیوں کے تناسب پر نظر ڈالیں تو صحیح صورت حال ہمارے سامنے آجائے گی۔ مغرب میں لوگ دیگر ادیان بھی اختیار کررہے ہیں۔ بعض مسلمان کہلانے والے بھی دوسرے ادیان کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ تاہم ننانوے فیصد سے زیادہ لوگ وہ ہیں جو اپنے ماں باپ کے دین پر باقی رہتے ہیں۔ دین سے وابستگی کی سطح کا معاملہ دوسرا ہے، وہ کم و بیش ہوتا رہتا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بالعموم لوگ دین اور دھرم پڑھ لکھ کر اور سوچ پرکھ کراختیار نہیں کرتے بلکہ اندھی تقلید کی بنیاد پر اپنائے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود اس سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ انھیں اس سلسلے میں آزادی حاصل ہونا چاہیے۔ پیغمبر اسلامؐ کی ایک حدیث اس موقع پر یاد آتی ہے:

”کل مولود یو لد علی الفطرۃ حتی لیکون ابواہ ھما اللذان یھودانہ وینصرانہ“ (۱)

ہر بچہ فطرت (انسانی) پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی (یامجوسی) بنا لیتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ دنیا میں تبدیلی ئ مذاہب کے بڑے بڑے واقعات ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوسکتے ہیں لیکن ایک عرصے سے ایسا کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا۔ جب کوئی ایسا واقعہ آزاد رائے اور آزادانہ انتخاب سے رونما ہو تو اسے خوش آمدید کہا جانا چاہیے۔ لیکن ایسا وہی کرسکے گا جو آزادی رائے کو ایک ”قدر“(value) کی حیثیت سے قبول کرتا ہو۔

دوسرے کی رائے کو سازش نہ سمجھیں 

آزادی رائے کو ایک مشکل اس وقت پیش آتی ہے جب کوئی شخص دوسرے کی رائے کو کسی سازش کا نتیجہ قرار دینے لگتا ہے اور اس کے بارے میں شک و شبہ کا اظہار کرتا ہے۔ہم اکثر سنتے ہیں کہ فلاں شخص، فلاں ایجنسی یا فلاں حکومت کا ایجنٹ ہوگیا ہے، اس لیے ایسی باتیں کرنے لگا ہے۔ اگر کوئی شخص ایک رائے کا اظہار کررہا ہے اور وہ رائے ہماری رائے کے خلاف ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرا شخص کسی کا ایجنٹ بن گیا ہے۔ خاص طور پر ایسے افراد جو اپنی رائے کے لیے اپنی دلیل بھی رکھتے ہوں تو ہمیں ان کی دلیل کی کمزوری کو بیان کرنے کا تو حق ہے لیکن اپنی رائے کو ”مضبوط“ بنانے کے لیے الزام تراشی اور کردار کشی کا راستہ اختیار کرنا کسی طوردرست نہیں ہے۔ ہمیں خیال رکھنا چاہیے کہ دوسروں نے بھی ہمارے بارے میں یہی راستہ اختیار کرلیا تو ہمیں کتنا برا لگے گا۔ دلیل کے مقابلے میں دلیل۔۔۔۔اچھے اورخوبصورت طریقے سے۔۔قرآن حکیم کیا خوب فرماتا ہے:

 جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ (۲)

خوبصورت طریقے سے تبادلہئ خیال اور مذاکرہ کرو۔

عدم برداشت کا رویہ

سب سے خطرناک رویہ ان کا ہے جو اپنی رائے اور اپنے عقیدے کو فقط برحق ہی نہیں جانتے بلکہ اس کے خلاف رائے رکھنے اور عقیدہ رکھنے کو برداشت نہیں کرتے بلکہ مخالف عقیدے والے کو جان سے ماردینے کے درپے ہوتے ہیں۔عجیب بات ہے کہ وہ بعض اوقات ایسی ہستیوں کے نام پر عدم برداشت کا مظاہرہ کررہے ہوتے ہیں۔ جن کی زندگی عفووبرداشت کا نمونہ رہی ہے بلکہ انھیں اپنے مخالفین کی طرف سے عدم برداشت کا سامنا رہا ہے۔

پیغمبر اسلام ؐکا اسوہ حسنہ

پیغمبر اسلامؐ کی مثال ہمارے لیے راہ کشا ہونی چاہیے۔ آپؐ کے اولین ساتھیوں پر مخالفین نے عرصہئ حیات تنگ کردیا۔ کئی ایک کو اذیتیں دے دے کر مار دیا۔ آپؐ کے وہ ساتھی جو ان اذیتوں سے بچنے کے لیے حبشہ ہجرت کرگئے تھے، ان کا وہاں تک پیچھا کیا۔ بنی ہاشم کا اقتصادی اور سماجی بائیکاٹ کیا جس کی وجہ سے کئی برس آپؐ کو اپنے قبیلے کے ساتھ شعب ابی طالب میں بھوک، پیاس اور خوف کے عالم میں رہنا پڑا۔ آپؐ اپنے مخالفین کے خلاف کوئی ہتھیار نہیں اٹھائے ہوتے تھے بلکہ پرامن طور پر اپنے نقطہ نظر کا اظہار کرتے تھے۔ بات یہاں تک پہنچی کہ وہ آپؐ کی جان کے درپے ہوگئے اورآپؐ کو ایک رات چھپ کر مدینہ کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔ یہ سب آپؐ کے مخالفین کی عدم برداشت اور عدم رواداری کا شاخسانہ تھا۔ 

دوسری طرف آپؐ مدینے پہنچے تو یہود مدینہ کے ساتھ پرامن بقائے باہم کا تاریخی معاہدہ کیا جسے میثاق مدینہ کہتے ہیں۔ اہل کتاب کے حوالے سے قرآن حکیم کی یہ آیت دوسروں کے لیے عقیدے کی آزادی کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کی غماز ہے:

 قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ(۳)

”کہہ دیجئے اے اہل کتاب! آؤ اس ایک بات پر اکٹھے ہو جائیں جو ہمارے اور تمھارے مابین مساوی اور مشترک ہے۔“

حق دوسری طرف بھی ہوسکتا ہے

اپنی رائے اور عقیدے کو ایسا حق سمجھنا کہ جس کے باہر صداقت اور حقانیت کا کوئی عنصر موجود نہ ہو کتنا بڑا دعویٰ ہے۔علم اور تجربے میں اضافے کے ساتھ انسان کی رائے تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ بعض لوگ اس امر پر بڑا فخر کرتے ہیں کہ میری فلاں مسئلے پر آج بھی یہی رائے ہے جو (مثلاً) تیس سال پہلے تھی۔ ہوسکتا ہے بعض حوالوں سے بعض لوگوں کے لیے یہ بات درست ہو لیکن ہم جانتے ہیں کہ علامہ اقبال، قائداعظم اور امام خمینی جیسے اپنے زمانے کے عبقری انسانوں کی آراء میں تبدیلی آتی رہی ہے۔ مولانا رومی اور امام غزالی کی فکر میں تغیرات پیدا ہوتے رہے ہیں۔ بڑے بڑے فقہا اپنے فتاویٰ سے عدول کرتے رہے ہیں۔ اگر ہماری یا ہمارے جاننے والے کسی دوست کی رائے کسی مسئلے میں تبدیل ہوجائے تو اس میں کیا عجیب بات ہے۔ ممکن ہے ہمارا کوئی جاننے والا شخص آج ایک رائے پر ہے جس پر ہم کسی زمانے میں تھے تو اسے کوسنے کی ضرورت نہیں۔ اختلاف رائے کے ساتھ جینے کا سلیقہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

 

اپنی رائے زبردستی مسلط کرنے کے نتائج

اس حوالے سے ایک بڑی خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی زبردستی اپنی رائے دوسروں پر ٹھونسنے لگتا ہے۔تاریخ میں اشعریوں اور معتزلیوں کے معرکے اور حکمرانوں کا مخالف رائے رکھنے والوں پر تشدد کس قدر تاسف آور ہے۔ مختلف فقہی مکاتب فکر کے ماننے والوں کی آپس میں دشمنیاں، محدثین اور فقیہوں کے جھگڑے فلسفیوں اور کلامیوں کے مخاصمے سب تاریخ کی المناک داستانوں سے عبارت ہیں۔ اختلاف رائے ضروری ہے لیکن اسے دلیل و برہان کے ساتھ اور برداشت و رواداری کے ساتھ ہونا چاہیے۔ آج تو دنیا نے سیاسی طور پر حزب اقتدار اور حزب مخالف دونوں کوجینے کا ہی نہیں احترام کا بھی حق دے دیا ہے۔ آج کی حزب اقتدار کل کو حزب مخالف بن سکتی ہے اور آج کی حزب مخالف کل کی حزب اقتدار۔ اس اختلاف کو جمہوریت کا حسن قرار دیا گیا ہے۔

جمود فکر اور جسارت فکرکے جلوے

ہمیں یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کی تمام تر علمی ترقی حاضر و موجود پر شک یا عدم اطمینان کا نتیجہ ہے۔ جنھوں نے اپنی آزادی ئرائے کا سودا نہیں کیا۔ وہی کوئی تازہ فکر انسان کے لیے لے کر آئے ہیں۔ یہ لوگ اس لیے بھی محترم ہیں کہ جہل و غفلت میں مبتلا لوگ اور قومیں نئی فکر اور تازہ رائے کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتیں۔ علامہ اقبال نے یہ کہہ کر اسی صورتِ حال کی عکاسی کی ہے:

آئینِ نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں (۴)

آج رائج فکر کے مقابل جسارت اور بغاوت کا ”جرم“ کرنے والے ہوسکتا ہے کل کو ہیروقرار پائیں۔ یہ لوگ اسی لیے عظیم قرار پاتے ہیں کہ اپنے دور میں منحرف، کافر اور گمراہ قرار دیے جاتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر نئی فکر درست ہو یا صد درصد درست ہو لیکن یہ بات قبول کیے بغیر چارہ نہیں کہ انسانی فکر کاکاروان انہی لوگوں نے ہمیشہ آگے بڑھایا ہے جنھوں نے حاضر و موجود کے سامنے آنکھیں بند کرکے سرجھکانے سے انکار کردیا۔۔۔۔۔امامت کا سہرا تاریخ نے اکثر باغیوں کے سر پر ہی سجایا ہے۔ اقبال کہتے ہیں:

ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق

جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے(۵)

راقم نے اکثر سوچا کہ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے اور کوئی انسان پر کرم کرنا چاہے تو وہ سب سے پہلے کیا کرے تو اکثر اندر سے یہ جواب ملتا ہے کہ آزادی ئرائے کا سلب کیا جانا انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور انسانوں پر مہربان کو چاہیے کہ انسان کی آزادی ئفکر کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو ہٹا دے۔ وہ بڑا کریم ہے جو انسان پر یہ کرم کردے۔

مغربی دانشوروں کی کلیسا کے خلاف بغاوت

آج کا مغرب اپنے آپ کو آزادیئ رائے کا پرچم بردار قرار دیتا ہے۔ وہ اپنے ہاں جمہوریت کو بھی آزادیئ رائے کے احترام کی عملی شکل قرار دیتاہے۔ اس میں شک نہیں کہ کلیسا کی اندھی غلامی کا طوق اتار کر پھینک دینے والے مغرب کے دانشور ساری انسانیت کے محسن ہیں۔ وہ بڑے لوگ ہیں جنھوں نے آزادیئ رائے کے اپنے حق کا سودا نہیں کیا، جنھیں جو سچ لگا اسے ببانگ دہل بیان کیا، جنھوں نے سماج کے رخ پر آنکھیں بند کرکے چلنے سے انکار کردیا، جنھوں نے تقدس کے لبادے میں لپٹے ہوئے افکار اور عقائد کو بھی عقل و خرد کے معیار پر پرکھنے کی جسارت کی۔ انہی لوگوں نے معاشروں کو سوچنے سمجھنے کی آزادی کا راستہ دکھایا ہے۔ مغرب کی صنعتی ترقی ہو یا سماجی، سائنسی ارتقا ہو یا علوم انسانی کی بالیدگی انہی مردانِ حُر کی مرہون منت ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مغرب سے اٹھنے والی اس روشنی نے مشرق کو بھی متاثر کیا ہے جیسے گذشتہ صدیوں میں مشرق سے اٹھنے والے آفتابِ بصیرت کی کرنوں نے مغرب کے نیم باز دریچوں سے گزر کر اس سرزمین کو فیضیاب کیا کیونکہ علم و دانائی، صداقت اور سچائی کسی قوم اورعلاقے کی میراث نہیں ہوتی، ساری انسانیت کا سرمایہئ افتخار ہوتی ہے۔

جمہوریت کے نام پرحقوق جمہور کو پامال کرنے کی روش

مغرب کو اپنے ہاں کی اس تبدیلی پر ناز ہے۔ وہ اس ناز میں حق بجانب ہے لیکن اسی مغرب کی باگ ڈور رفتہ رفتہ ایسے گروہوں، اداروں اور افراد کے ہاتھ میں آگئی ہے جن کے اپنے گروہی اور انفرادی مفادات ایک خاص رخ اختیار کرچکے ہیں۔ وہ جمہوریت ہی کے نام پر جمہور کے حقوق پامال کرتے ہیں۔ وہ اطلاعات اور رائے کی آزادی کے نام پر حریمِ غیر میں قدم رکھتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ خبررسانی اور اطلاعات کے طاقتور ادارے ان لوگوں اور گروہوں کے ہاتھ میں ہیں۔ یہ اپنے لوگوں کو بھی گمراہ کن اطلاعات دیتے ہیں۔ حال ہی میں عراق پر حملہ کرنے کے لیے امریکہ اور برطانیہ کے صدر اور وزیراعظم نے جتنے جھوٹ بولے اور ان کی ایجنسیوں نے عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کی جعلی رپورٹیں جس انداز سے گھڑیں اور پوری دنیا میں ان کا شور مچایا یہ انسانیت کے درست اطلاع کے حق پر شب خون مارنا نہیں تو اور کیا ہے۔ مغرب کے ذرائع ابلاغ شام، ایران اور پاکستان کے بعض معاملات کی جس طرح سے تصویر کشی کرکے اپنی رائے عامہ کو گمراہ کرتے ہیں کیا یہ ”آزادیئ رائے“ مہیا کرنا ہے یا استعمال کرنا۔ الجزائر میں انتخابات کے نتائج کو قبول نہ کرکے وہاں منتخب افراد کو پسِ دیوارِ زنداں ڈالنا اور لوگوں پر اپنی مرضی کی آمریت مسلط کرنا جمہوری قدروں کے احترام کی کونسی شکل ہے؟ ترکی میں نجم الدین اربکان اور ان کی حکومت اور پارٹی کا جو حشر ہوا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ پاکستان میں آمروں کو سب سے زیادہ تقویت ہمیشہ امریکہ نے پہنچائی ہے۔ اس ملک کے منتخب وزیراعظم کو ”عبرت کا نشان“ بنانے کی دھمکی جمہوریت کے پرچم بردار امریکہ کے وزیرخارجہ نے ہی دی تھی۔ سالہا سال سے گوانتا ناموبے میں مقدمہ چلائے بغیر سینکڑوں افراد کو تشدد کا نشانہ بنانا انسانی آزادیوں کے شعار سے کس قدر ہم آہنگ ہے۔ دنیا بھر میں خاندانی بادشاہوں، فوجی آمروں اور زبردستی مسلط ڈکٹیٹروں کو امریکہ اور مغربی اتحادیوں کی حمایت حاصل ہے۔ ان ملکوں کے عوام کو بھی رائے کی آزادی کا حق ملنا چاہیے۔ ان کی رائے مسلسل پامال ہورہی ہے اور انسانی حقوق کے ڈھنڈورچی ان کے مسائل کی روشنیوں کو چرا کر اپنے شبستانوں کو روشن کیے جارہے ہیں۔ 

مغربی دانشور آج پھر آزادیئ رائے کا علم بلند کریں 

ضرورت اس امرکی ہے کہ مغرب کے سچے دانش ور اور دنیا سے باخبر باضمیر انسان مغرب کے عوام کو ان سارے حقائق سے آگاہ کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت بھی بعض ایسے دانشور اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ انھیں تقویت دینے کی ضرورت ہے تاکہ ان کا حلقہ وسیع ہو۔ مشرق و مغرب کے لوگوں کو صحیح معلومات دستیاب ہوں اور وہ آزادیِ رائے کو بروئے کار لاسکیں تو دنیا بدل جائے گی۔ فطرت جلوہ گر ہوگی۔ انسانی فطرت کے مشترکات انسانوں کو آپس میں جوڑ دیں گے اور وہ اپنی اجتماعی قوت اور بصیرت سے طاغوت اور شیطان کی دسیسہ کاریوں کا بہتر مقابلہ کرسکیں گے۔ آزاد رائے اور درست اطلاع دونوں کو آپس میں جوڑنے کی ضرورت ہے اور قدم قدم پر یہ اصول یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ آزادیِ رائے کے خواہشمند کو چاہیے کہ دوسرے کے لیے بھی اس آزادی کا قائل ہو اور دوسرے کی آزادی کا بھی احترام کرے۔  

 

حواشی

۱۔ (صحیح بخاری، کتاب الجنائز، ابواب۰۸و۳۹ اور(تفسیر جمع الجوامع، علامہ طبرسی آیہ 

فطرت کے ذیل میں)

۲۔ (نحل۔۵۲۱) ۳۔ (آل عمران۔۴۶)

۴۔ (بانگ درا، نظم:بزم انجم) ۵۔ (ضرب کلیم، نظم:امامت)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مضمون نگار ’’مبصر ڈاٹ کام‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں اور البصیرہ کے سربراہ ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  43972
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ان دنوں جب کہ فلسطینی مسلمانوں پر صہیونی ریاست اپنے مغربی آقاؤں کی سرپرستی میں آگ اور خون کی بارش جاری رکھے ہوئے ہے اور وحشت و درندگی اپنے عروج پر ہے اہل پاکستان کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس اسلامی ریاست کے بانیوں کا فلسطین اور صہیونی ریاست کے بارے میں کیا نظریہ رہا ہے تاکہ حکومت کے ذمے دار بھی اس آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ سکیں اور پاکستانی بھی اپنے راہنماؤں کے جرأت مندانہ اوردوٹوک موقف سے آگاہ ہو سکیں۔ ان کے موقف سے آگاہی ہمارے جذبہ ایمانی ہی کو مہمیز کرنے کا ذریعہ نہیں بنے گی بلکہ ہمیں اس مسئلے میں اپنا لائحہ عمل طے کرنے میں بھی مدد دے گی۔ ہم نے اس سلسلے میں خاص طور پر حکیم الامت علامہ اقبال جنھیں بجا طور پر مصور پاکستان کہا جاتا ہے اور بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کا انتخاب کیا ہے۔
امریکہ میں بے روزگاری کے تاریخ کے بدترین مقام پر پہنچ جانے کے بعد ان کی سیاسی ساکھ پہلے ہی خراب ہو چکی ہے۔ اس لیے آئندہ صدارتی انتخابات میں ان کی کامیابی کے امکانات ہر روز پہلے کی نسبت کم ہو رہے ہیں۔ کورونا کی حشر سامانیاں امریکہ میں اسی طرح جاری رہیں تو امریکی وفاق کے لیے مزید دھچکوں کا باعث بن سکتی ہیں۔
ملی یکجہتی کونسل کی تمام رکن جماعتوں کے قائدین، علماء کرام اور دینی راہنمائوں نے ایک مشترکہ اعلامئے میں کہا کہ حکومت مساجد کی تالابندی سے اجتناب کرے۔ ملک کے مختلف علاقوں سے ملنے والی خبروں کے مطابق انتظامیہ مساجد کی تالا بندی اور ائمہ جمعہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کیلئے اپنا دو ریاستی فارمولہ پیش کردیا، مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت رہے گا۔

مقبول ترین
سعودی عرب، خلیجی ممالک، ترکی، امریکا اور یورپ کے کئی ممالک میں عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وجذبے سے منائی جارہی ہے جبکہ کورونا وبا کے باعث سماجی فاصلے اور احتیاطی تدابیر کا مکمل خیال رکھا جارہا ہے۔
سرینگر:وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام سے تعلق رکھنے والے نیشنل کانفرنس پارٹی کے سرکردہ رہنما روح اللہ مہدی نے ٹویٹر پر اس بات کا اعلان کیا کہ وہ اب اس منصب سے دستبردار ہوگئے ہیں، لہذا آئندہ سے ان کے کسی بھی بیان کو نیشنل کانفرنس سے منسوب نہ کیا جائے۔
ایک عجیب وغریب واقعے میں کان پور پولیس نے ایک بکری کو ماسک نہ پہننے پرگرفتارکرلیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بیکن گنج پولیس نے بکری کو اٹھایا اور جیپ میں بٹھا کر تھانے لے گئی۔
وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ لگتا ہے کراچی میں کوئی حکومت ہی نہیں اور کراچی والوں کوسندھ حکومت کےرحم وکرم پرنہیں چھوڑاجاسکتا۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے صوبے بالخصوص کراچی کی ترقی کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں