Monday, 23 April, 2018
’’ذہنی طور پر شکست خوردہ بھارتی فوجی‘‘

’’ذہنی طور پر شکست خوردہ بھارتی فوجی‘‘
تحریر: ابو علی صدیقی

 

عسکری امور اور جنگی حکمت عملی کے ماہرین اس بارے اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ کسی بھی فوجی کی ذہنی توانائی اور حوصلہ مندی ہی اس کا اصل ہتھیار اور حربہ ہوتے ہیں۔ اس کی وضاحت یوں کی جاتی ہے کہ اگر کسی فوجی کا حوصلہ بلند ہے، اس کے دل میں اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی لگن اور تڑپ موجود ہے اور وہ اپنی کم وسیلہ صورتحال کو نظرانداز کرکے دشمن کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے تو اس کو شکست دینا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ اسی سلسلے میں تسلیم کیا جاتا ہے کہ محض ہتھیار، اسلحہ اور گولہ و بارود کی برتری ہی کسی فوج کی فتح یا بالادستی کی ضمانت فراہم نہیں کرتے بلکہ فوجیوں کی نفسیاتی اور ذہنی برتری ہی فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔ ان احوال کے تناظر میں دیکھا جائے تو بھارتی فوج مسائل اور مشکلات کے گرداب میں پھنسی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ اپنے افسروں کے رویے اور بھوک و پیاس کے مارے بھارتی فوجی ترقیوں کے معاملے پر تقسیم ہوگئے چنانچہ ترقی نہ ملنے پر سروسز کور اور انفنٹری میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ بڑی تعداد میں فوجیوں نے لڑائی سے انکار کر دیا۔ بھارتی فوج ڈی مورالائزڈ ترقیوں کے معاملے پر فوجیوں نے پوسٹنگ سے انکار کر دیا، بھارتی فوج نفری کے بحران کا شکار ہے۔ مقبوضہ کشمیر اور دیگر علیحدگی پسند تحریکوں کا سامنا کرنے والی ریاستوں میں چومکھی لڑائی جاری ہے۔

معتبر ذرائع کے مطابق جب ترقی کا مسئلہ آتا ہے تو بھارتی فوج آپریشنل اور نان آپریشنل فورس میں فرق کرتی ہے۔ سروسز گروپ میں الیکٹریشن اور دیگر کام کرنے والے فوجی قیادت کی اس پالیسی پر احتجاج کرتے ہیں۔ بھارتی فوج کی قیادت کے رویے کے باعث ڈی مورالائزڈ کئی فوجی افسر چھوڑ چکے ہیں۔ کچھ غیر عسکری امور انجام دینے والے ملازمین نے تو آرمی چیف کو خطوط لکھے کہ ان سے لڑائی اور جنگی امور سے متعلق کام لیا جا رہا ہے اور ترقیاں صرف انفنٹری اور دیگر فوجیوں کو دی جا رہی ہیں۔ مذکورہ خطوط کے مطابق فوجی مسلسل بے گناہ لوگوں کو مار کر خودکشی پر مجبور ہیں۔ سکھ سپاہیوں اور افسروں کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ انہیں سرحدوں اور تنازعات کی جگہ پر بھیجا جا رہا ہے۔ ایک ٹوئٹ کے مطابق سکھ فوجی سرحدوں پر لڑائی اور علیحدگی پسندوں سے مقابلہ کرکے تنگ آ چکے ہیں۔ اگرچہ بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن فوجی پوسٹنگ اور آپریشن میں حصہ لینے سے انکار کر رہے ہیں۔ 
یہاں یہ بات بھی نہایت قابل ذکر اور قابل غور ہے کہ درپیش حالات سے مایوس ہو کر اور احساس کمتری کا شکار ہو کر بھارتی فوجی افسران اور جوان اپنی زندگیوں کا خاتمہ خود کرنے لگے ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق 2009ء سے اب تک ایک ہزار 22 بھارتی فوجیوں نے خودکشی کی۔ 2014ء سے 2017ء کے درمیان 425 جبکہ 2009ء سے 2013ء کے درمیان 597 فوجیوں نے خود کو ہلاک کیا۔ گذشتہ چار برسوں میں میں آرمی میں 9افسران اور 326 جوانوں جبکہ فضائیہ میں پانچ افسران اور 67 ایئرمینوں نے خودکشی کی۔ اس عرصے میں بحریہ میں سب سے کم خودکشیاں دیکھنے میں آئیں جہاں 2افسران اور 16 سیلرز نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ گذشتہ چار برس میں مسلح افواج میں خودکشی کے واقعات کے یہ اعداد و شمار بھارتی پارلیمنٹ کے سامنے رکھے گئے۔ وزیر مملکت برائے دفاع سبھاش بھامر نے کہا کہ 2016ء میں 129، 2014ء میں 109، 2015ء میں 95 اور رواں برس میں 92 فوجیوں نے خودکشی کی۔ رواں ماہ کے آغاز میں بھارتی اخبار ’’ٹائمز آف انڈیا‘ ‘نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیاکہ بھارت میں ہر سال 1600 فوجی جوان جنگ کا حصہ بنے بغیر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ان ہلاکتوں کی تعداد میدان جنگ، انسداد دہشت گردی آپریشنز میں ہلاک اہلکاروں کے مقابلے میں 12 گنا زیادہ ہے۔ مذکورہ ہلاکتوں کی بڑی وجوہات ٹریفک حادثات، بیماریاں اور خودکشیاں ہوتی ہیں۔ لوک سبھا میں وزیر دفاع نرمالہ سیتھارامان کی طرف سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، آرمی، بحریہ اور بھارتی ایئرفورس میں 9259 افسران کی کمی ہے جبکہ نچلے درجے اور عہدے کے 50363افسران کی کمی کا سامنا ہے۔ وزیر مملکت برائے دفاع نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ 2014ء سے 42 ہزار فوجی جوانوں نے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لے لی۔ آرمی میں سب سے زیادہ قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لی گئی جن میں 803 افسران اور 38150 فوجی جوان شامل تھے۔ 

بھارتی فوجیوں کی مذکورہ ذہنی کیفیات اور مایوس حالات کا ایک نہایت افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں بھارتی فوج نے اپنے مظالم کا سلسلہ بدستورجاری رکھا ہوا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی فوجی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا انتقام نہتے اور بے قصور کشمیری عوام سے لینے پر تلے ہوئے ہیں۔ میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں مجاہد قرار دے کر ہلاک کئے گئے نورتانترے کی شہادت پر دوسرے روز بھی ہڑتال و احتجاجی مظاہرے کئے گئے، اس دوران ریل و انٹرنیٹ سروس معطل رہی جبکہ نظام زندگی مفلوج رہا، متعدد علاقوں میں پرتشدد جھڑپیں بھی ہوئیں جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارتی پالیسی ساز مقبوضہ علاقے میں پرامن جدوجہد کا ماحول ختم کرکے 1990ء جیسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ بھارت چاہتا ہے کہ کشمیری نوجوان پھر سے سخت گیررویہ اختیار کرکے جوق در جوق سڑکوں پر نکل آئیں تاکہ وہ انہیں آزادانہ طور پر قتل و غارت کا نشانہ بنا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری تنازعہ کشمیر کا کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کے لئے اپنی کوششوں میں تیزی میں لائے اور اس حوالے سے بھارت پر دباؤ ڈالے۔ لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کپواڑہ میں حالیہ شہداء، میسرہ بانو اور آصف اقبال کے گھروں پر جا کر ان کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں آپریشن آل آؤٹ جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے آئی جی کشمیر منیر خان نے کہا کہ ان کمانڈروں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جائے گا جو نوجوانوں کو عسکریت کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرکے ان کے مستقبل کو تاریک بنا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم حریت فورم نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کنٹرول لائن پر جاری کشیدگی پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جارحیت خطے کے امن کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ شنید ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی حکومت نے سرکاری ملازمین پر سماجی میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ احوال اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ ذہنی طور پر شکست خوردہ بھارتی فوجی غاصب اور قاتل ہونے کے ساتھ ساتھ اب خودکشی کا شکار بھی ہو رہے ہیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  92631
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
جدوجہد آزادی ہندوستان میں تمام علماء ومشائخ نے بھرپور کردار ادا کیا ہے لیکن ایک بڑا طبقہ گاندھی جی کی زلفوں کا اسیر ہوچکا تھا اور ایک خاص طبقہ کے علماء ومشائخ نے حضرت قائداعظم ؒ کا ساتھ دیا۔
بحرینی عوام نے 14 فروری 2011 میں ا پنے جمہوری حقوق اور سماجی انصاف کے حصول کے لئے عوامی تحریک کا آغاز کیا تھا ۔ تمام تر حکومتی ہتھکنڈوں کے باوجود یہ تحریک اپنا وجود نہ صرف برقرار رکھے ہوئے ہے
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں جس انداز سے اس مرتبہ یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ حکومتی سطح پر بھی اسے بہت اہمیت حاصل رہی اور سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھی اس کا بھرپور اہتمام کیا۔ پاکستان کی قومی
قومی اور بین الاقوامی حلقوں میں اس امر واقعہ کا ہنوز چرچا ہے کہ 25 دسمبر 2017ء کو اسلام آباد کے دفتر خارجہ میں بھارتی دہشت گرد جاسوس کل بھوشن یادیو کی ملاقات اس کی اہلیہ اوروالدہ سے کرائی گئی جبکہ اس موقع پر

مزید خبریں
افغانستان میں جنگ کو تیرہ برس گزرگئے اور 2014ء اس جنگ کے باقاعدہ اختتام کا سال ہے۔یہ برس عالمی تاریخ میں خاص اہمیت اختیار کرتاجارہا ہے۔پرائم ٹارگٹس پر مزاحمت کاروں کے حملے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ طالبان آج تیر ہ سال بعد بھی افغانستان میں طاقت ورہیں۔
15 فروری 2014ء کو سندھ حکومت کے زیر انتظام دوہفتوں سے انعقاد پذیر ثقافتی سرگرمیوں کا میلہ ’’ سندھ فیسٹیول ’’ ختم ہوا تو صوبہ کے ایک دور افتادہ ضلع میں ’’ ڈیتھ فیسٹیول ‘‘ کا آغاز ہوچکا تھا۔
صحرائے تھر کی زمین پانی اور بچے دودھ کو ترس گئے، قحط سالی کے باعث بھوک نے انسانی زندگیوں کو نگلنا شروع کردیا ہے، حکومت نے تھرپارکر کو آفت زدہ تو قرار دے دیا مگر متاثرین کیلئے مختص گندم محکمہ خوراک کے گوداموں میں سڑ رہی ہے۔

مقبول ترین
کابل کے علاقے ’پولیس ڈسٹرکٹ 6‘ میں خود کش بمبار نے ووٹر رجسٹریشن مرکز کے اندر داخل ہوکر خود کو دھماکے سے اُڑالیا جس کے نتیجے میں 52 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا
پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی ریلی کا آغاز پنجاب حکومت کی جانب سے اجازت نہ دیے جانے کے باوجود لاہور کے موچی گیٹ سے ہوگیا جہاں تحریک کا اگلا جلسہ 12 مئی کو کراچی میں کرنے کا اعلان کیا گیا تاکہ شہر میں 2007 میں ہونے والے قتل وغارت کی مذمت کی جاسکے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ قبائلیوں کے مسائل یہیں رہتے ہوئے حل کرنے ہیں، ملک دشمنوں کی نذر نہیں ہونے دینا۔ یہ بات انہوں نے میرانشاہ میں تاجروں کے جرگے
نیویارک۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے جوہری معاہدہ ختم کیا گیا تو ایران یورینئم کی افزودگی دوبارہ شروع کردے گا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں