Wednesday, 27 March, 2019
آسیہ بی بی بیرونِ ملک روانگی: خبروں میں صداقت نہیں

آسیہ بی بی بیرونِ ملک روانگی: خبروں میں صداقت نہیں

اسلام آباد ۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ آسیہ بی بی کی بیرون ملک روانگی سے متعلق خبر میں کوئی صداقت نہیں، وہ پاکستان میں ہی موجود ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں گزشتہ روز آسیہ بی بی کو ملتان جیل سے رہا کردیا گیا تھا جس کے بعد خبریں سامنے آئی تھیں کہ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ بیرون ملک روانہ ہوچکی ہیں۔ تاہم ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ آسیہ بی بی پاکستان میں موجود ہیں اور ان کی بیرون ملک روانگی سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

واضح رہے کہ آسیہ بی بی کی ملتان جیل سے رہائی کے بعد  یہ خبریں بھی زیرگردش ہیں کہ اسے نورخان ایئربیس راولپنڈی سے خصوصی طیارے کے ذریعے ہالینڈ روانہ کردیا گیا ہے، آسیہ بی بی کے ہمراہ اس کے گھر والوں کے علاوہ پاکستان میں ہالینڈ کے سفیر بھی تھے۔

واضح رہے آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے الزام میں 2010 میں لاہور کی ماتحت عدالت نے سزائے موت سنائی تھی، لاہور ہائی کورٹ نے بھی آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کر دی تھی جس کے بعد ملزمہ نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی تھی۔  گزشتہ ماہ 31 اکتوبرکو سپریم کورٹ نے سزا کالعدم قراردے کرآسیہ بی بی کورہا کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

آسیہ بی بی کیس— کب کیا ہوا؟؟؟

صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں یہ واقعہ جون 2009 میں پیش آیا، جب فالسے کے کھیتوں میں کام کے دوران دو مسلمان خواتین کا مسیحی خاتون آسیہ بی بی سے جھگڑا ہوا، جس کے بعد آسیہ بی بی پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز کلمات کہے۔

بعدازاں آسیہ بی بی کے خلاف ان کے گاؤں کے امام مسجد قاری سلام نے پولیس میں مقدمہ درج کرایا۔ 5 روز بعد درج کی گئی واقعے کہ ایف آئی آر کے مطابق آسیہ بی بی نے توہین رسالت کا اقرار بھی کیا۔

امام مسجد کے بیان کے مطابق آسیہ بی بی کے مبینہ توہین آمیز کلمات کے بارے میں پنچایت ہوئی جس میں ہزاروں افراد کے شرکت کرنے کا دعوی کیا گیا تھا لیکن جس مکان کا ذکر کیا گیا، وہ بمشکل پانچ مرلے کا تھا۔

مقدمے کے اندراج کے بعد آسیہ بی بی کو گرفتار کرلیا گیا اور بعدازاں ٹرائل کورٹ نے 2010 میں توہین رسالت کے جرم میں 295 سی کے تحت انھیں سزائے موت سنا دی، جسے انہوں نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

تاہم لاہور ہائیکورٹ نے اکتوبر 2014 میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔ جس پر 2014 میں ہی آسیہ بی بی کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئیں۔

ان اپیلوں پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے رواں ماہ 8 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، اور سپریم کورٹ نے 31 اکتوبر کو اپنے فیصلے میں آسیہ بی بی کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے خاتون کی رہائی کے احکامات جاری کیے جانے کے بعد مذہبی جماعتوں کی جانب سے ملک بھر میں احتجاج کیا گیا۔

احتجاج کے دوران کئی شہروں میں مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی اور شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچاتے ہوئے کئی گاڑیوں کو بھی آگ لگائی گئی، 2 نومبر کی شب حکومت اور مظاہرین میں 5 نکاتی معاہدہ طے پایا جس کے بعد ملک بھر میں دھرنے ختم کیے گئے۔

دھرنے ختم کرانے کے بعد حکومت نے املاک جلانے اور پر تشدد واقعات میں ملوث شرپسندوں کیخلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا جس کے تحت سیکڑوں افراد کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔

وزارت داخلہ نے بھی شرپسندوں کیخلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جانے کی تصدیق کی تھی لیکن اب وفاقی وزارت داخلہ نے توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کی گرفتاریاں التواء میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے اور تمام صوبائی حکومتوں کو مزید گرفتاریوں سے روک دیا ہے البتہ چیف جسٹس نے مظاہروں کے دوران ہونے والی توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کا نوٹس لے لیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassiro.cm پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  25964
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ اکہتر برس گزر چکے ہیں، ہندوستان نے کشمیروں پر ظلم کی انتہا کی،انہیں ہر طرح کا لالچ دیا لیکن آج بھی سری نگر میں یہ آواز بلند ہوتی ہے کہ بھارت کشمیر کو چھوڑ دو،یہ ہندوستان کی سب سے بڑی ناکامی ہے ۔
سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ مشرف کے بنائے گئے ادارے نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو اسلام آباد سے گرفتار کیا، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں اور اسپیکر سندھ اسمبلی
خواتین کے عالمی دن پر ایوان بالا میں نئی تاریخ رقم، چئیرمین سینیٹ نے اجلاس کی صدارت سینیٹر کرشنا کماری کے حوالے کر دی۔ کرشنا کماری سندھ سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئیں۔ کرشنا کماری کا کہنا تھا بہت فخر محسوس کر رہی ہوں
کوہاٹ کے معروف وکیل آصف حسین بنگش ایڈوکیٹ کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے ، اگر تین دن کے اندر اندر ملزمان کو گرفتار نہ کیا گیا تو بھرپور احتجاج کریں گے۔ان خیالات کا اظہارمجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) خیبرپختونخوا

مزید خبریں
سپریم کورٹ میں آج دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان کا سینئر وکیل اعتزاز احسن سے خوش گوار مکالمہ ہوا جس کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ میری طرف سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معاف کردیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں

مقبول ترین
وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ وکیل خواجہ حارث کو چاہیے کہ وہ اپنے موکل نواز شریف کو پیسے واپس کرنے کا مشورہ دیں۔ نواز شریف باہر جانا چاہتے ہیں تو عوام کے پیسے واپس کر دیں۔
کراچی کینٹ سٹیشن پر جیالوں کی بڑی تعداد صبح سے ہی موجود تھی، پارٹی پرچموں کی بہار نظر آئی، کارکنوں نے پارٹی نغموں پر رقص بھی کیا، بلاول بھٹو کی آمد پر جیالوں نے گل پاشی کی اور اپنے ہردلعزیز رہنما کو زبردست طریقے سے خوش آمدید کہا۔
چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواستِ ضمانت کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے 50 لاکھ روپے کے مچلکے کے عوض نواز شریف
میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ بھارتی طیاروں نے 26 فروری کو پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پےلوڈ پھینکے جس کے بعد 27 فروری کو پاکستان نے عام آبادی کو نشانہ بنائے بغیر جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں