Thursday, 14 November, 2019
’’سال 20-2019 کیلئے 70 کھرب 36 ارب کا بجٹ پیش‘‘

’’سال 20-2019 کیلئے 70 کھرب 36 ارب کا بجٹ پیش‘‘

اسلام آباد ۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے مالی سال 2019-20 کا بجٹ پیش کردیا جس کا مجموعی حجم 7 ہزار 22 ارب روپے ہے جو کہ  گزشتہ بجٹ سے 30 فیصد زائد ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرصدارت ہونے والے بجٹ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان بھی موجود تھے جب کہ وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہر بجٹ پیش کیا، اس دوران اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی ۔

حماد اظہر نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جب ہماری حکومت آئی تو  مالیاتی خسارہ 2260ارب روپے تک پہنچ گیا تھا، جاری کھاتوں کا خسارہ 20ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، تجارتی خسارہ 32ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، مجموعی قرضے 31ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے تھے، ہم نے تجارتی خسارہ چار ارب ڈالر کم کیا اور اب بجلی کے گردشی قرضوں میں12 ارب روپے کی کمی آئی ہے۔

بجٹ کا حجم 7 ہزار 22 ارب روپے
بجٹ 20۔2019 کا مجموعی حجم 7 ہزار 22 ارب روپے ہے جو کہ  گزشتہ بجٹ سے 30 فیصد زائد ہے،ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 555 ارب روپے رکھا گیا ہے، جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا تناسب 12 اعشاریہ 6 فیصد ہے، مالی خسارے کا تخمینہ 3 ہزار 137 ارب روپے ہے۔

کولڈرنکس ، چینی ،تیل، زیورات مہنگے
کولڈڈرنکس پرڈیوٹی 11.5سےبڑھاکر 13 فیصد جب کہ مشروبات پر ڈیوٹی 11.25سے بڑھا کر 14فیصد کردی گئی، چینی پرسیلزٹیکس 8سےبڑھاکر 13 فیصدکردیاگیا جس سے  چینی کی قیمت ساڑھے 3 روپےفی کلوبڑھےگی، خوردنی تیل اور گھی پر بھی 14فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، سونے، چاندی، ہیرے کے زیورات پرسیلزٹیکس بڑھانےکافیصلہ کیا گیا ہے۔

چکن،مٹن، بیف اورمچھلی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس
بجٹ میں سنگ مرمر کی صنعت پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے، سیمی پراسس اورپکے ہوئے چکن،مٹن، بیف اورمچھلی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔

کم از کم تنخواہ 
وفاقی حکومت نے کم ازکم تنخواہ 17 ہزار 500 مقرر کرتے ہوئے بتایا کہ اضافہ 2017 سے جاری تنخواہ پر ہوگا۔

گاڑیوں پر ڈیوٹی
ایک ہزار ایک سی سی سے 2  ہزار سی سی تک گاڑیوں پر پانچ فیصد جب کہ 2 ہزار سی سی سے زائد کی گاڑی پر ڈیوٹی ساڑھے سات فیصد عائد کی گئی ہے۔

تنخواہ دار اورغیر تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں اضافہ
بجٹ میں تنخواہ دار اورغیر تنخواہ دارافراد کے لیے ٹیکس شرح میں اضافہ اور تنخواہ دار ملازمین کیلئے قابل ٹیکس آمدنی کی حد 12لاکھ سے کم کرکے 6 لاکھ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جب کہ غیر تنخواہ دار انفرادی ٹیکس دہندگان کیلئے قابل ٹیکس آمدنی کہ حد کم کرکے چار لاکھ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، غیر تنخواہ دار طبقے کو سالانہ چار لاکھ آمدن پر ٹیکس دینا ہو گا۔

آئی ایم ایف معاہدہ
حماد اظہر نے کہا کہ آئی ایم ایف سے 6ارب ڈالرکےمعاہدہ ہوگیا ہے، چین سے313 اشیاکا ڈیوٹی فری برآمدات کافیصلہ کیاگیا جب کہ 95 منصوبے شروع کرنے کیلئے فنڈزجاری کئے گئے۔

دفاعی بجٹ
وزیرمملکت نے بتایا کہ دفاع اورقومی خودمختاری ہرچیزسےمقدم ہے، سول اور عسکری حکام نے اپنے بجٹ میں مثالی کمی کی ہے تاہم  دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے پربرقرار رہے گا، حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم کرکے 437 ارب روپے کردیے ہیں، ملک میں صرف380 کمپنیاں کل ٹیکس کااسی فیصد دیتے ہیں جب کہ 31لاکھ کمرشل صارفین میں سے 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں اس لیے ہمیں تنخواہوں کیلئے بھی قرض لیناپڑتاہے، قرضوں اور ایڈوانسز کی بازیابی کا نظر ثانی میزانیہ 183.520ہدف رکھاگیا۔

نجکاری پروگرام
بجٹ تقریر کے مطابق قومی ترقیاتی پروگرام کیلیے1800 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جب کہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 894 ارب 50 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، بیرونی ذرائع سے حاصل ہونیوالی وصولیوں کا ہدف 1828 ارب 80کروڑ روپے جب کہ  نجکاری پروگرام سے 150ارب روپے حاصل ہونے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اس طرح کل دستیاب وسائل کا تخمینہ 7036ارب 30 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔

کراچی و بلوچستان کی ترقی
حماد اظہر نے کہا کہ کراچی کے ترقیاتی بجٹ کے لیے45.5ارب روپے رکھے جارہے ہیں، جب کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے 10.4ارب روپے رکھے جارہے ہیں، سکھر ،ملتان سیکشن کے لیے 19ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، توانائی کے لیے 80ارب روپے اور انسانی ترقی کے لیے 60 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

تعلیم
بجٹ میں ہائرایجوکیشن کمیشن کے لیے 59 ارب 10 کروڑ جب کہ وفاقی وزارت تعلیم کے لیے 13 ارب 70 کروڑ 90 لاکھ مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے،مقبوضہ کشمیر کے طلباء کے لیے اسکالرشپ کی مد میں 10 کروڑ 56 لاکھ روپے اور کمیونٹی اسکولز 20 کروڑ35 لاکھ مختص کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔ وفاقی وزارت تعلیم کے لیے 4ارب،79کروڑ67لاکھ کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے،نیشنل کمیشن فارہیومین ڈویلپمنٹ کے لیے بجٹ میں 11کروڑ10لاکھ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

آبی وسائل و غیر ترقیاتی اخراجات
وزیر مملکت نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ آبی وسائل کیلیے70 ارب روپے مختص کیے جارہےہیں،غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 6192ارب 90 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، پنشن کی مد میں اخراجات کا تخمینہ 421ارب روپے رکھا گیا ہے،سود کی ادائیگیوں کے لیے2891ارب 40 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں اور آیندہ سال کے دوران سبسڈی کیلیے271ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بجلی و گیس پر سبسڈی
وزیرمملکت نے کہا کہ بجلی چوری کے خلاف منظم مہم شروع کی ہے،بجلی اور گیس کے لیے 40ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے جب کہ گیس کا گردشی قرضہ 150ارب روپے ہےاور اگلے 24ماہ میں گردشی قرضوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ 44.8ارب روپے گندم اور چاول کی پیدوار بڑھانے کے لیے مختص کیے گئے اور فاٹا کے  علاقوں کے لیے 152ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

تنخواہوں میں اضافہ
وزیرمملکت نے وفاقی سرکاری ملازمیں کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ گریڈ 17 تک کے ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، گریڈ17سے21 تک کےملازمیں کیلئےپانچ فیصد اضافہ کیاگیا ہے جب کہ وفاقی کابینہ کے وزرانے اپنی تنخواہوں میں دس فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

ریسٹورنٹ اور بیکری کی اشیا پر سیلز ٹیکس میں کمی
کاغذ کی پیداوار کے لیے خام مال کوکسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ، ادویات کی پیداوارکے خام مال کی 19 بنیادی اشیا کو 3 فیصد امپورٹ ڈیوٹی سے استثنیٰ دینے کی تجویز دی گئی ہے، اسی طرح ریسٹورنٹ اوربیکری کیلیےچیزوں میں سیلزٹیکس 17 سے کم  کرکے 7.5 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادار

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  13965
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ عالمی برادری تنازعات کے حل کی بجائے تماشا دیکھ رہی ہے جب کہ بیرونی قبضے، سیاسی و معاشی نا انصافیوں، غربت کے خاتمہ کی ضرورت ہے۔
مستعفی ہونے والے ارکان پارلیمنٹ میں قومی اسمبلی کے رکن ڈاکٹر ناصر احمد جٹ اور غلام بی بی بھروانا، پنجاب اسمبلی کے ارکان مولانا رحمت اللہ، پیر حمید الدین سیالوی ولد نظام الدین سیالوی اور خان محمد بلوچ شامل ہیں
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اورسابق وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈارکی مسلسل عدم پیشی پر انہیں اشتہاری قرار دینے کیلئے کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے۔احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کی طلبی کا اشتہار عدالتی نوٹس بورڈ اور انکی رہائشگاہوں کے باہر آویزاں
سابق وزیر اعظم نواز شریف ٗان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر حاضری سے استثنیٰ کے باوجود 3 نیب ریفرنسز کی سماعت کیلئے احتساب عدالت میں پیش ہوئے سماعت کے دور ان نواز شریف کے وکیل اور نیب پراسیکیوٹر میں گرما گرمی ہوئی جس پر جج محمد بشیر نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری اور دنیا کے سب سے بڑے گوردوارے دربار صاحب کا افتتاح کردیا۔ کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر سکھ مت کے بانی بابا گرونانک دیو جی کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے
بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی حکومت کو حکم دیا کہ 3 سے 4 ماہ کے اندر اسکیم تشکیل دے کر زمین کو مندر کی تعمیر کے لئے ہندووں کے حوالے کرے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چیف جسٹس رنجن
وزیراعظم عمران خان نے حکومتی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات میں کہا ہے کہ میں کسی بھی صورت میں اپنا استعفیٰ نہیں دوں گا، اگر شرط صرف استعفیٰ کی ہے تو پھر مذاکرات کا کیا فائدہ ہے؟ وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی مذاکرات
رہبر کمیٹی کے رکن اور رہنما جے یو آئی (ف) اکرم درانی کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ 2 روز کے بعد نیا رخ اختیار کرے گا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران اپوزیشن رہبر کمیٹی کے رکن اکرم درانی کا کہنا تھا کہ افسوس ہے موسم کے حوالے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں