Wednesday, 17 October, 2018
پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت کا کردار ہے

پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت کا کردار ہے

راولپنڈی ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ  پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت کا کردار ہے۔ دہشت گردی کےخلاف جنگ مشکل مرحلہ تھا، ہم نے پاکستان میں امن قائم کرلیا ہے جسے  اب خراب نہیں ہونے دیں گے، اب افغانستان کو بھی امن قائم کرنا ہوگا۔  پاکستان کے بغیر امریکا القاعدہ کو شکست نہیں دے سکتا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا ایک انٹرویو کے دوران کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ایک مشکل مرحلہ تھا کیونکہ فاٹا کی 7 ایجنسیوں میں طالبان کا اثرورسوخ تھا جب کہ سوات آپریشن مختلف تھا کیونکہ وہاں آبادی ہے اور شمالی وزیرستان کے آپریشن سے قبل ایک آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی گئی تھی۔  پاکستانی قوم نے ثابت کیا ہم پرعزم قوم ہیں، پاکستان نے اس جنگ میں 100 فیصد نتائج دیئے۔ جسمانی طور پر جنگ ختم ہو گئی ہے،  ہم نے پاکستان میں امن قائم کرلیا ہے جسے  اب خراب نہیں ہونے دیں گے، اب افغانستان کو بھی امن قائم کرنا ہوگا۔ 

میجر جنرل آصف غفورنے کہا کہ موجودہ مرحلہ مشکل ہے ، اب ہماری جنگ ایک اَن دیکھے دشمن کے خلاف ہے اور اُس اَن دیکھے دشمن کو ہمیں ڈھونڈنا اور ختم کرنا ہے۔ افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ پائیدار امن کے لیے پاکستان اور افغانستان کو اقدامات کرنے ہوں گے ۔ 

انہوں نے کہا کہ آج کے پاکستان کی افواج مختلف ہے، ہمارے جوان اور جنرل نے جسمانی طور پر جنگ میں حصہ لیا ہے۔ ضرب عضب تک جتنے آپریشن کیے وہ عملی تھے اور ہم نے ان علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کیا جبکہ آپریشن ردالفساد انٹیلی جنس بنیادوں پر ہے۔  افغانستان جنگ میں پاک فوج کے تمام چیفس نے بہترین کام لیا اور عمومی امن کو پائیدار امن میں بدلنا جنرل باجوہ کا مشن ہے، قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا امن خراب نہیں ہونے دیں گے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی قیادت خود کہہ چکی ہے کہ وہ افغانستان میں موجود ہے، اگر دہشتگردوں کی قیادت پاکستان میں ہے تو انٹیلی جنس شیئرنگ کی جائے ہم کارروائی کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری 900 چیک پوسٹیں اور 2 لاکھ سے زائد فوج افغان سرحد کے ساتھ پاکستانی علاقے میں موجود ہے، افغان سرحد پرفوج تعینات کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سرحد پار سے حملوں کا خطرہ موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی صورت حال میں فوج کم کر کے کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے، اگر افغانستان سے خطرہ ختم ہو جائے تو آج ہی اپنی 50 فیصد فوج واپس بلا لیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افغانستان جنگ سے پہلے پاکستان میں دہشت گردی نہیں تھی اور اب پاکستان کو افغان جنگ سے پہلے والی پر امن صورتحال پر لے جانا چاہتے ہیں جب کہ پاکستان نے بہت سی معلومات افغانستان سے شیئر کی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دارپاکستان کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاک افغان بارڈرمینجمنٹ امن کے لئے ضروری ہے جب کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ جڑی اپنی 2600 کلومیٹر سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کر دیا ہے، بارڈرمینجمنٹ سے متعلق مکینزم پر افغانستان کو دستاویزات بھی بھیجے ہیں اور اگر بارڈر مکینزم طے پا گیا تو سرحد کے بہت سے مسائل حل ہوجائیں۔

بھارت کی پاکستان مخالف کارروائیوں کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت کا کردار ہے اور بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیو کا کیس بھی پوری دنیا کے سامنے ہے کہ کیسے اُس نے پاکستان میں عدم استحکام کی کوشش کی۔ 2017 میں بھارت کی سیز فائرکی خلاف ورزیاں بقیہ تمام سالوں سے زیادہ ہیں۔ 

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان کے بغیر امریکا القاعدہ کو شکست نہیں دے سکتا تھا، امریکی صدر کے بیان سے متعلق حکومت پاکستان بیان دے چکی ہے ۔ روس کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ روس کے ساتھ بھی دفاعی تعلقات بڑھے ہیں۔ چندممالک کے ساتھ ملٹری ڈپلومیسی چلتی رہتی ہے ۔ 

علاوہ ازیں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فاٹا کو بہت عرصے تک علاقہ غیر قرار دینا بدقسمتی ہے۔ عوام کی خواہش ہے کہ فاٹا میں فوج موجود رہے، آپریشن ردالفساد کے نتائج سامنے آنے میں ہفتے اور مہینے لگ سکتے ہیں،  فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنا وقت کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے بہت ساری اصلاحات ہونے والی ہیں۔ حکومت اور دیگر اداروں کے کرنے والے کام تیزی سے ہونے چاہئیں۔ 

انہوں نے کہا کہ ضرب عضب شروع کرکے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا،شمالی وزیرستان آپریشن سے قبل اے پی سی بلائی گئی ،سوات میں دہشت گردوں کے زیادہ ٹھکانے شہروں کے اندرتھے ،ایساف کے ساتھ ہماری بہت اچھی کوآرڈینیشن تھی،پاکستان میں کہیں بھی غیرقانونی اسلحہ نہیں ہوناچاہیے ۔ 

 میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بلوچستان میں استحکام کے لیے ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایران گئے تو بارڈر منیجمنٹ سے متعلق بات ہوئی ۔ ایران سے بارڈر کمیونی کیشن بہتر ہورہی ہے۔ ایران بھی چاہتا ہے کہ پاکستان میں استحکام رہے۔ اورایران نے حساس مقامات پر باڑ لگانا شروع کر دی ہے۔ 

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بلوچستان کی صورت حال سی پیک کے تناظر میں بہت اہم ہیں، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ دو قوموں کے درمیان رشتہ ہے اور بلوچستان میں امن و امان کی خرابی سی پیک کے تناظر میں ہے۔ ہماری تمام تر توجہ بلوچستان کی طرف ہے، ترقیاتی کام مکمل کیے جائیں گے تاکہ صوبے کی عوام میں محرومی نہ ہو۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آرمی چیف پاکستان کو پرامن ملک بناناچاہتے ہیں، عمومی امن کوپائیدارامن میں بدلنا ان کا مشن ہے ۔ دہشتگردی کیخلاف تمام اداروں میں تعاون ناگزیرہے ، پاکستان میں امن خراب نہیں ہونے دیں گے، سپاہی سے جنرل تک فوج جنگ کاتجربہ رکھتی ہے 

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  70801
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ملک کے 35 حلقوں میں ضمنی الیکشن کے لیے ووٹ ڈالے گئے جن میں قومی اسمبلی کے 11 اور صوبائی اسمبلیوں کے 24 حلقے شامل ہیں۔ اس ضمنی انتخاب میں ملکی تاریخ میں پہلی بار انٹرنیٹ ووٹنگ کا استعمال کیا گیا۔ 35 حلقوں کے 7364 سمندرپار پاکستانیوں
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات انتہائی شفاف اور آزاد تھے۔ لندن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ عام انتخابات میں فوج نے ممکن بنایا کہ ہر شخص اپنی مرضی
وزیراعظم عمران خان نے پودا لگا کر گرین اینڈ کلین پاکستان مہم کا آغاز کردیا۔ وزیراعظم عمران خان گرین اینڈ کلین مہم کا آغاز کرنے اسلام آباد کے مقامی کالج پہنچے جہاں انہوں نے پودا لگاکر مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔ وزیراعـظم نے صاف صفائی مہم میں بھی حصہ لیا
انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں وفاقی وزیر خزانہ اسدعمر اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر طارق باجوہ سے ملاقات کے دوران ایم ڈی کرسٹین لاگارڈ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے امداد کے لیے باضابطہ درخواست موصول ہوگئی ہے، آئی ایم ایف کا وفد

مزید خبریں
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پورے عزم سے لڑ رہے ہیں ، دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا ہے ، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ لڑیں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف سے پشاور میں مسلم لیگ ن کے سینیٹرز اور ارکان قومی

مقبول ترین
لندن کی وارک یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دنیا میں القاعدہ کو کبھی بھی پاکستان کی مددکے بغیر شکست نہیں ہوسکتی تھی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے دنیا کو پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں لگائے گئے بجلی کے تمام منصوبوں کے آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے جب کہ 2 منصوبے کے آڈٹ کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے
بین الاقوامی برادری میں یہ تاثر عام ہے کہ بھارتی قیادت علاقائی بالادستی حاصل کرنے کے زعم میں یوں مبتلا ہو چکی ہے کہ اس پر کسی نفسیاتی غلبہ اور سیاسی و سفارتی عارضہ کا گمان ہوتا ہے۔ وزیراعظم مودی نے اپنے دور حکومت میں نیپال، بنگلہ دیش
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانس کے شمالی علاقے ٹریب میں سیلاب کے باعث 13 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوگئے۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں محض چند گھنٹوں کے دوران اتنی بارش ہوئی جو عام طورپر3 ماہ سے زائد

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں