Thursday, 19 July, 2018
پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت کا کردار ہے

پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت کا کردار ہے

راولپنڈی ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ  پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت کا کردار ہے۔ دہشت گردی کےخلاف جنگ مشکل مرحلہ تھا، ہم نے پاکستان میں امن قائم کرلیا ہے جسے  اب خراب نہیں ہونے دیں گے، اب افغانستان کو بھی امن قائم کرنا ہوگا۔  پاکستان کے بغیر امریکا القاعدہ کو شکست نہیں دے سکتا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا ایک انٹرویو کے دوران کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ایک مشکل مرحلہ تھا کیونکہ فاٹا کی 7 ایجنسیوں میں طالبان کا اثرورسوخ تھا جب کہ سوات آپریشن مختلف تھا کیونکہ وہاں آبادی ہے اور شمالی وزیرستان کے آپریشن سے قبل ایک آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی گئی تھی۔  پاکستانی قوم نے ثابت کیا ہم پرعزم قوم ہیں، پاکستان نے اس جنگ میں 100 فیصد نتائج دیئے۔ جسمانی طور پر جنگ ختم ہو گئی ہے،  ہم نے پاکستان میں امن قائم کرلیا ہے جسے  اب خراب نہیں ہونے دیں گے، اب افغانستان کو بھی امن قائم کرنا ہوگا۔ 

میجر جنرل آصف غفورنے کہا کہ موجودہ مرحلہ مشکل ہے ، اب ہماری جنگ ایک اَن دیکھے دشمن کے خلاف ہے اور اُس اَن دیکھے دشمن کو ہمیں ڈھونڈنا اور ختم کرنا ہے۔ افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ پائیدار امن کے لیے پاکستان اور افغانستان کو اقدامات کرنے ہوں گے ۔ 

انہوں نے کہا کہ آج کے پاکستان کی افواج مختلف ہے، ہمارے جوان اور جنرل نے جسمانی طور پر جنگ میں حصہ لیا ہے۔ ضرب عضب تک جتنے آپریشن کیے وہ عملی تھے اور ہم نے ان علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کیا جبکہ آپریشن ردالفساد انٹیلی جنس بنیادوں پر ہے۔  افغانستان جنگ میں پاک فوج کے تمام چیفس نے بہترین کام لیا اور عمومی امن کو پائیدار امن میں بدلنا جنرل باجوہ کا مشن ہے، قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا امن خراب نہیں ہونے دیں گے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی قیادت خود کہہ چکی ہے کہ وہ افغانستان میں موجود ہے، اگر دہشتگردوں کی قیادت پاکستان میں ہے تو انٹیلی جنس شیئرنگ کی جائے ہم کارروائی کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری 900 چیک پوسٹیں اور 2 لاکھ سے زائد فوج افغان سرحد کے ساتھ پاکستانی علاقے میں موجود ہے، افغان سرحد پرفوج تعینات کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سرحد پار سے حملوں کا خطرہ موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی صورت حال میں فوج کم کر کے کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے، اگر افغانستان سے خطرہ ختم ہو جائے تو آج ہی اپنی 50 فیصد فوج واپس بلا لیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افغانستان جنگ سے پہلے پاکستان میں دہشت گردی نہیں تھی اور اب پاکستان کو افغان جنگ سے پہلے والی پر امن صورتحال پر لے جانا چاہتے ہیں جب کہ پاکستان نے بہت سی معلومات افغانستان سے شیئر کی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دارپاکستان کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاک افغان بارڈرمینجمنٹ امن کے لئے ضروری ہے جب کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ جڑی اپنی 2600 کلومیٹر سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کر دیا ہے، بارڈرمینجمنٹ سے متعلق مکینزم پر افغانستان کو دستاویزات بھی بھیجے ہیں اور اگر بارڈر مکینزم طے پا گیا تو سرحد کے بہت سے مسائل حل ہوجائیں۔

بھارت کی پاکستان مخالف کارروائیوں کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت کا کردار ہے اور بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیو کا کیس بھی پوری دنیا کے سامنے ہے کہ کیسے اُس نے پاکستان میں عدم استحکام کی کوشش کی۔ 2017 میں بھارت کی سیز فائرکی خلاف ورزیاں بقیہ تمام سالوں سے زیادہ ہیں۔ 

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان کے بغیر امریکا القاعدہ کو شکست نہیں دے سکتا تھا، امریکی صدر کے بیان سے متعلق حکومت پاکستان بیان دے چکی ہے ۔ روس کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ روس کے ساتھ بھی دفاعی تعلقات بڑھے ہیں۔ چندممالک کے ساتھ ملٹری ڈپلومیسی چلتی رہتی ہے ۔ 

علاوہ ازیں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فاٹا کو بہت عرصے تک علاقہ غیر قرار دینا بدقسمتی ہے۔ عوام کی خواہش ہے کہ فاٹا میں فوج موجود رہے، آپریشن ردالفساد کے نتائج سامنے آنے میں ہفتے اور مہینے لگ سکتے ہیں،  فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنا وقت کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے بہت ساری اصلاحات ہونے والی ہیں۔ حکومت اور دیگر اداروں کے کرنے والے کام تیزی سے ہونے چاہئیں۔ 

انہوں نے کہا کہ ضرب عضب شروع کرکے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا،شمالی وزیرستان آپریشن سے قبل اے پی سی بلائی گئی ،سوات میں دہشت گردوں کے زیادہ ٹھکانے شہروں کے اندرتھے ،ایساف کے ساتھ ہماری بہت اچھی کوآرڈینیشن تھی،پاکستان میں کہیں بھی غیرقانونی اسلحہ نہیں ہوناچاہیے ۔ 

 میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بلوچستان میں استحکام کے لیے ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایران گئے تو بارڈر منیجمنٹ سے متعلق بات ہوئی ۔ ایران سے بارڈر کمیونی کیشن بہتر ہورہی ہے۔ ایران بھی چاہتا ہے کہ پاکستان میں استحکام رہے۔ اورایران نے حساس مقامات پر باڑ لگانا شروع کر دی ہے۔ 

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بلوچستان کی صورت حال سی پیک کے تناظر میں بہت اہم ہیں، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ دو قوموں کے درمیان رشتہ ہے اور بلوچستان میں امن و امان کی خرابی سی پیک کے تناظر میں ہے۔ ہماری تمام تر توجہ بلوچستان کی طرف ہے، ترقیاتی کام مکمل کیے جائیں گے تاکہ صوبے کی عوام میں محرومی نہ ہو۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آرمی چیف پاکستان کو پرامن ملک بناناچاہتے ہیں، عمومی امن کوپائیدارامن میں بدلنا ان کا مشن ہے ۔ دہشتگردی کیخلاف تمام اداروں میں تعاون ناگزیرہے ، پاکستان میں امن خراب نہیں ہونے دیں گے، سپاہی سے جنرل تک فوج جنگ کاتجربہ رکھتی ہے 

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  63670
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے بھارتی اعتراضات پر پاکستان نے اپنا تحریری جواب عالمی عدالت میں جمع کرادیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے 400 سے زائد صفحات پرمشتمل جواب ڈائریکٹر انڈیا کے عہدے پر فائز ڈاکٹرفریحہ بگٹی نے جمع کرایا۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے پاک فوج، فرنٹئیر کور اور پولیس سے رابطہ کیا جائے گا۔ پر امن اور شفاف الیکشن کے انعقاد کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔
مستونگ میں گزشتہ روز بلوچستان عوامی پارٹی کی انتخابی مہم کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے مزید 3 زخمی دم توڑ گئے، جاں بحق افراد کی تعداد 131 ہوگئی جبکہ 150 سے زائد زخمی افراد مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مستونگ دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے انتہائی باصلاحیت سیاستدان سراج رئیسانی کو کھو دیا۔

مزید خبریں
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پورے عزم سے لڑ رہے ہیں ، دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا ہے ، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ لڑیں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف سے پشاور میں مسلم لیگ ن کے سینیٹرز اور ارکان قومی
سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرورنے تحریک انصاف میں باضابطہ طور پر شامل ہونےکی تصدیق کردی ہے۔ ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف جمہوریت پسند جماعت ہے اس لئے اس میں شامل ہونے کا

مقبول ترین
سینیٹ قائمہ کمیٹی میں بریفنگ دیتے ہوئے نمائندہ جی ایچ کیو نے بتایا پاک فوج کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں، آرمی صرف امن اومان کی صورتحال بہتر رکھنے کے لئے کام کر رہی ہے، آرمڈ فورسز ہمیشہ سول اداروں کو سپورٹ دیتی رہی ہے۔
اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم نوازشریف اورمریم نواز کی ان کے وکلا سے ملاقات منسوخ کردی گئی ہے۔ میڈیا کے مطابق نوازشریف اورمریم نواز کا آج اڈیالہ جیل میں چھٹا روزہے جب کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکو جیل کا مکین ہوئے 11 دن ہوگئے۔
ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرفیصل کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں انتخابی امیدواروں پر دہشت گردانہ حملوں سے پاکستان خوفزدہ ہونے والا نہیں ملک میں جمہوری انتخابی عمل جاری رہے گا۔
ترکی کی حکومت نے ناکام فوجی بغاوت کے بعد لگائی جانے والی ایمرجنسی دو سال بعد ختم کردی۔ 15 جولائی 2016 کو ترک فوج کے ایک دھڑے نے صدر رجب طیب اردوان کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی جو ناکام ہوگئی تھی۔ اس بغاوت میں فوجیوں سمیت تقریب

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں