Saturday, 19 January, 2019
پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت کا کردار ہے

پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت کا کردار ہے

راولپنڈی ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ  پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت کا کردار ہے۔ دہشت گردی کےخلاف جنگ مشکل مرحلہ تھا، ہم نے پاکستان میں امن قائم کرلیا ہے جسے  اب خراب نہیں ہونے دیں گے، اب افغانستان کو بھی امن قائم کرنا ہوگا۔  پاکستان کے بغیر امریکا القاعدہ کو شکست نہیں دے سکتا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا ایک انٹرویو کے دوران کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ایک مشکل مرحلہ تھا کیونکہ فاٹا کی 7 ایجنسیوں میں طالبان کا اثرورسوخ تھا جب کہ سوات آپریشن مختلف تھا کیونکہ وہاں آبادی ہے اور شمالی وزیرستان کے آپریشن سے قبل ایک آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی گئی تھی۔  پاکستانی قوم نے ثابت کیا ہم پرعزم قوم ہیں، پاکستان نے اس جنگ میں 100 فیصد نتائج دیئے۔ جسمانی طور پر جنگ ختم ہو گئی ہے،  ہم نے پاکستان میں امن قائم کرلیا ہے جسے  اب خراب نہیں ہونے دیں گے، اب افغانستان کو بھی امن قائم کرنا ہوگا۔ 

میجر جنرل آصف غفورنے کہا کہ موجودہ مرحلہ مشکل ہے ، اب ہماری جنگ ایک اَن دیکھے دشمن کے خلاف ہے اور اُس اَن دیکھے دشمن کو ہمیں ڈھونڈنا اور ختم کرنا ہے۔ افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ پائیدار امن کے لیے پاکستان اور افغانستان کو اقدامات کرنے ہوں گے ۔ 

انہوں نے کہا کہ آج کے پاکستان کی افواج مختلف ہے، ہمارے جوان اور جنرل نے جسمانی طور پر جنگ میں حصہ لیا ہے۔ ضرب عضب تک جتنے آپریشن کیے وہ عملی تھے اور ہم نے ان علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کیا جبکہ آپریشن ردالفساد انٹیلی جنس بنیادوں پر ہے۔  افغانستان جنگ میں پاک فوج کے تمام چیفس نے بہترین کام لیا اور عمومی امن کو پائیدار امن میں بدلنا جنرل باجوہ کا مشن ہے، قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا امن خراب نہیں ہونے دیں گے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی قیادت خود کہہ چکی ہے کہ وہ افغانستان میں موجود ہے، اگر دہشتگردوں کی قیادت پاکستان میں ہے تو انٹیلی جنس شیئرنگ کی جائے ہم کارروائی کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری 900 چیک پوسٹیں اور 2 لاکھ سے زائد فوج افغان سرحد کے ساتھ پاکستانی علاقے میں موجود ہے، افغان سرحد پرفوج تعینات کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سرحد پار سے حملوں کا خطرہ موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی صورت حال میں فوج کم کر کے کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے، اگر افغانستان سے خطرہ ختم ہو جائے تو آج ہی اپنی 50 فیصد فوج واپس بلا لیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افغانستان جنگ سے پہلے پاکستان میں دہشت گردی نہیں تھی اور اب پاکستان کو افغان جنگ سے پہلے والی پر امن صورتحال پر لے جانا چاہتے ہیں جب کہ پاکستان نے بہت سی معلومات افغانستان سے شیئر کی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دارپاکستان کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاک افغان بارڈرمینجمنٹ امن کے لئے ضروری ہے جب کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ جڑی اپنی 2600 کلومیٹر سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کر دیا ہے، بارڈرمینجمنٹ سے متعلق مکینزم پر افغانستان کو دستاویزات بھی بھیجے ہیں اور اگر بارڈر مکینزم طے پا گیا تو سرحد کے بہت سے مسائل حل ہوجائیں۔

بھارت کی پاکستان مخالف کارروائیوں کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت کا کردار ہے اور بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیو کا کیس بھی پوری دنیا کے سامنے ہے کہ کیسے اُس نے پاکستان میں عدم استحکام کی کوشش کی۔ 2017 میں بھارت کی سیز فائرکی خلاف ورزیاں بقیہ تمام سالوں سے زیادہ ہیں۔ 

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان کے بغیر امریکا القاعدہ کو شکست نہیں دے سکتا تھا، امریکی صدر کے بیان سے متعلق حکومت پاکستان بیان دے چکی ہے ۔ روس کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ روس کے ساتھ بھی دفاعی تعلقات بڑھے ہیں۔ چندممالک کے ساتھ ملٹری ڈپلومیسی چلتی رہتی ہے ۔ 

علاوہ ازیں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فاٹا کو بہت عرصے تک علاقہ غیر قرار دینا بدقسمتی ہے۔ عوام کی خواہش ہے کہ فاٹا میں فوج موجود رہے، آپریشن ردالفساد کے نتائج سامنے آنے میں ہفتے اور مہینے لگ سکتے ہیں،  فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنا وقت کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے بہت ساری اصلاحات ہونے والی ہیں۔ حکومت اور دیگر اداروں کے کرنے والے کام تیزی سے ہونے چاہئیں۔ 

انہوں نے کہا کہ ضرب عضب شروع کرکے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا،شمالی وزیرستان آپریشن سے قبل اے پی سی بلائی گئی ،سوات میں دہشت گردوں کے زیادہ ٹھکانے شہروں کے اندرتھے ،ایساف کے ساتھ ہماری بہت اچھی کوآرڈینیشن تھی،پاکستان میں کہیں بھی غیرقانونی اسلحہ نہیں ہوناچاہیے ۔ 

 میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بلوچستان میں استحکام کے لیے ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایران گئے تو بارڈر منیجمنٹ سے متعلق بات ہوئی ۔ ایران سے بارڈر کمیونی کیشن بہتر ہورہی ہے۔ ایران بھی چاہتا ہے کہ پاکستان میں استحکام رہے۔ اورایران نے حساس مقامات پر باڑ لگانا شروع کر دی ہے۔ 

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بلوچستان کی صورت حال سی پیک کے تناظر میں بہت اہم ہیں، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ دو قوموں کے درمیان رشتہ ہے اور بلوچستان میں امن و امان کی خرابی سی پیک کے تناظر میں ہے۔ ہماری تمام تر توجہ بلوچستان کی طرف ہے، ترقیاتی کام مکمل کیے جائیں گے تاکہ صوبے کی عوام میں محرومی نہ ہو۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آرمی چیف پاکستان کو پرامن ملک بناناچاہتے ہیں، عمومی امن کوپائیدارامن میں بدلنا ان کا مشن ہے ۔ دہشتگردی کیخلاف تمام اداروں میں تعاون ناگزیرہے ، پاکستان میں امن خراب نہیں ہونے دیں گے، سپاہی سے جنرل تک فوج جنگ کاتجربہ رکھتی ہے 

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  32652
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
حلف برداری کی تقریب ایوان صدر اسلام آباد میں ہوئی جس میں صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس آصف سعید کھوسہ سے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا، تقریب حلف برداری میں وزیراعظم عمران خان، وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار آج اپنے عہدے سے ریٹائر ہوجائیں گے۔ میڈیا کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار آج اپنے عہدے سے ریٹائر ہوجائیں گے۔ بطور چیف جسٹس انہوں نے متعدد ازخود نوٹسز لیے، عدلیہ میں
پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے مسلسل آنکھیں چرانے والا بھارت اب سفارتی آداب بھی بھول گیا ہے۔ بھارتی اہلکاروں نے نئی دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں تعینات اہلکار کو گرفتار کر کے کئی گھنٹوں تک حبس بیجا میں رکھا اور اس دوران کچھ
سپریم کورٹ نے کراچی میں تمام غیرقانونی شادی ہالز، سینما گھر مسمار کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے فٹ پاتھ سے نرسریاں، فلاحی اداروں کے کیمپس ہٹانے کا بھی حکم دیا۔ عدالت نے کراچی کا ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ ایس بی سی اے

مزید خبریں
سپریم کورٹ میں آج دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان کا سینئر وکیل اعتزاز احسن سے خوش گوار مکالمہ ہوا جس کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ میری طرف سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معاف کردیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں

مقبول ترین
یہ حقیقت کسی تشریح اور وضاحت کی محتاج نہیں ہے کہ مودی سرکار کی اشتعال انگیز بلکہ جارحانہ پالیسی کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی اور عسکری سطح پر کشیدگی میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
اسلام آباد میں کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز ( سی پی این ای) کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ میڈیا اس وقت تک آزاد نہیں ہوسکتا جب تک اس میں حکومت کا کمرشل انٹرسٹ موجود ہے۔
بھارتی فورسز نے پاکستانی آبادی کو اپنی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا نشانہ بنایا، پاکستانی فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 3 ہندوستانی فوجیوں کو جہنم واصل کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق
وفاقی کابینہ نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کو بیرون ملک ملازمت کے لیے این او سی کی منظوری دے دی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے گزشتہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں راحیل شریف کے لیے این اوسی کی منظوری دی۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں