Friday, 16 November, 2018
بیگم کلثوم نواز کو جاتی امراء میں سپردِ خاک کر دیا گیا

بیگم کلثوم نواز کو جاتی امراء میں سپردِ خاک کر دیا گیا

لاہور ۔ بیگم کلثوم نواز میاں شریف کے پہلو میں سپردِ خاک، میڈیکل کمپلیکس گراؤنڈ میں نماز جنازہ ادا کی گئی، چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی، گورنر پنجاب، چودھری برادران، خورشید شاہ اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

میڈیا کے مطابق بیگم کلثوم نواز کی نمازِ جنازہ مولانا طارق جمیل کی امامت میں ادا کر دی گئی ہے۔ شریف میڈیکل سٹی میں ادا کی جانے والی مرحومہ کی نمازِ جنازہ میں غیر ملکی شخصیات، اہم سیاسی قائدین اور مسلم لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مرحومہ بیگم کلثوم نواز کو ان کے سسر میاں شریف کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا، ان کی رسمِ قل 16 ستمبر بروز اتوار عصر تا نماز مغرب جاتی امراء میں ادا کی جائے گی۔

بیگم کلثوم نواز کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرنے والوں میں سابق صدر ممنون حسین، حاصل بزنجو، میاں افتخار حسین، آفتاب شیر پاؤ، افراسیاب خٹک، زاہد خان، وزیرِاعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر، سپیکر قومی اسمبلی، وزیر اطلاعات مشتاق منہاس اور دیگر نے نواز شریف سے تعزیت کی اور نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔

دیگر رہنماؤں میں مسلم لیگ ن کے رہنما راجا ظفرالحق، اقبال ظفر جھگڑا، مشاہد اللہ خان، مشاہد حسین سید، زبیر احمد، ایاز صادق، زاہد حامد، دانیال عزیر، خواجہ سعد رفیق، ڈاکٹر اسد اشرف، رانا مشہود، سابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی، راحیل منیر، مصدق ملک، طلال چودھری، پرویز ملک، خواجہ عمران نذیر، علی پرویز، میئر لاہور مبشر جاوید، امیر مقام، بلال یاسین اور زبیر گل بھی تعزیت کیلئے پہنچے اور نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا وفد سربراہ خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں بیگم کلثوم نواز کے جنازے میں شرکت کے لیے لاہور پہنچا اور مرحومہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کردار پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سنہرے حرفوں سے لکھا جائے گا۔

صدر ایم ایم اے مولانا فضل الرحمان بھی وفد کے ہمراہ جاتی امراء پہنچے اور میاں نواز شریف سے ملاقات کی اور اہلیہ کے انتقال پر ان سے تعزیت کا اظہار کیا۔ نمازِ جنازہ سے قبل مولانا فضل الرحمان نے پنڈال میں کلثوم نواز کے درجات کی بلندی کیلئے اجتماعی دعا بھی کرائی۔

مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر کہا کہ مرحومہ ایک بہادر خاتون تھیں، انہوں نے جمہوریت کی بالادستی کے لئے جو جدوجہد کی وہ نا قابل فراموش ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس دکھ کی گھڑی میں ہم شریف خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

نمازِ جنازہ کے موقع پر کلثوم نواز کے انتقال پر تعزیت کرنے کیلئے خواتین کی بھی بڑی تعداد پہنچی اور مریم نواز سے ملاقات کی۔ مریم نواز تقریباً ایک گھنٹے تک خواتین کے پنڈال میں موجود رہیں۔

مریم نواز سے ملنے کیلئے آنیوالی لیگی رہنماؤں عظمیٰ بخاری اور حنا پرویز بٹ نے اس موقع پر کہا کہ کلثوم نواز کا دنیا سے جانا نہ صرف ن لیگ بلکہ جمہوریت کیلئے بڑا نقصان ہے۔ اس موقع پر نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر اور ان کے بیٹے جنید صفدر بھی خواتین کے پنڈال میں موجود تھے۔

گورنر پنجاب چودھری سرور اور وزیرِاعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار پر مشتمل پی ٹی آئی کے وفد نے بھی شریف فیملی سے تعزیت کی اور نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔

نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے حوالے سے خصوصی ٹریفک پلان ترتیب دیا گیا تھا۔ نمازِ جنازہ میں شرکت کیلئے آنے والے لوگوں کی گاڑیوں کی پارکنگ کیلئے مختلف مقامات مخصوص کیے گئے تھے۔ جاتی امرا میں سیکیورٹی پر حساس ادارے اور پولیس کے کمانڈوز تعینات ہیں۔

اس سے قبل جمعرات کو پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر چار بج کر 22 منٹ پر لندن کے ریجنٹ اسلامک پارک میں سابق خاتون اول کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

نماز جنازہ میں حسین نواز، حسن نواز، شریف فیملی کے خاندان کے دیگر افراد، شہباز شریف، اسحاق ڈار، چودھری نثار، دانیال چودھری، پاکستانی ہائی کمیشن کے حکام، سابق وزیرِاعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری کے علاوہ لیگی کارکنان اور اوورسیز پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نمازِ جنازہ امام شیخ خلیفہ عزت نے پڑھائی، اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔


کلثوم نواز کی زندگی کے نشیب و فراز پر ایک نظر
سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ اور تین مرتبہ پاکستان کی خاتون اول رہنے والے کلثوم نواز 1950 کو پیدا ہوئیں، ان کا تعلق کشمیری گھرانے سے تھا اور گاما پہلوان کی نواسی تھیں۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم مدرسہ البنات سے حاصل کی اس کے بعد لیڈی گریفن اسکول سے میٹرک کیا، ایف ایس سی اسلامیہ کالج جب کہ بی ایس سی ایف سی کالج لاہور سے کی۔ آپ نے ایم اے پنجاب یو نیورسٹی سے کیا اور اسی دوران سابق وزیراعظم نواز شریف سے ان کی منگنی ہوگئی۔

بیگم کلثوم نواز کے بھائی عبدالطیف کی شادی بھی شریف خاندان میں ہوئی اور یہی رشتہ داری اپریل 1971 میں نواز شریف سے ان کی شادی کا سبب بنی۔ کلثوم نواز کو عملی سیاست سے دلچسپی نہیں تھی اور وہ خاتون خانہ ہونے کو ترجیح دیتی رہیں۔

جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء کے بعد جب نواز شریف کو جیل جانا پڑا، تو ان کی رہائی کی مہم چلانے کے لئے کلثوم نواز سیاسی میدان میں سرگرم ہوئیں۔ 22 جون 2000 میں انہیں مسلم لیگ ن کی قائم مقام صدر بنا دیا گیا اور وہ دو سال تک پارٹی کی صدارت کرتی رہیں۔

نواز شریف کی گرفتاری کے خلاف انہوں نے کاروان تحفظ پاکستان ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا، جس کی بناء پر انہیں 8 جولائی 2000 کو نظر بند کر دیا گیا۔  مگر بیگم کلثوم نواز چند لیگی کارکنوں کے ہمراہ جیل روڈ انڈر پاس پہنچ گئیں جہاں سے پولیس ان کی گاڑی کو کرین کے ذریعے جی او آر لے گئی اور وہاں انہیں گرفتار کیا گیا۔

مسلم لیگ نے نواز شریف کی نااہلی کے بعد بیگم کلثوم نواز کو ان کی خالی نشست این اے 120 سے ضمنی انتخاب کے لیے ٹکٹ جاری کیا لیکن انتخابات سے قبل ہی 17 اگست 2017 میں بیماری کے باعث لندن منتقل ہوگئیں جس کے بعد ان کی انتخابی مہم ان کی بیٹی مریم نواز نے چلائی اور وہ کامیاب بھی ہوئیں۔

لندن میں ڈاکٹرز نے 22 اگست 2017 کو انہیں کیسنر کی تشخیص کی جس کے بعد ان کی متعدد سرجریز اور کیموتھراپیز ہوئیں۔ اس دوران کئی مرتبہ ان کی طبیعت سنبھل کر پھر خراب ہوئی اور 11 ستمبر کو وہ خالق حقیقی سے جاملیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  60634
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
افغانستان میں شہید کیے جانے والے ایس پی طاہر داوڑ کی نماز جنازہ پولیس لائن پشاور میں ادا کردی گئی جس کے بعد انہیں حیات آباد فیز 6 کے قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔ میڈیا کے مطابق خیبرپختونخوا کے افسر طاہر خان داوڑ کا جسد خاکی پاکستانی حکام
وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اشتہارات پر حکومتی کنٹرول ختم کر رہے ہیں جب کہ وزیراعظم نے وزارتِ اطلاعات کو میڈیا ہاؤسز کے بقایا جات ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ میڈیا کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت میڈیا
کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں کشمیری آج یوم شہداجموں منارہے ہیں، اس دن کے منانے کا مقصد حق خود ارادیت کے لیے شہدا کی قربانیوں کو یاد کرنا ہے۔ یوم شہدائے کشمیر پر پاک فوج کی جانب سے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے خون خرابے سے بچنے کے لیے مطمئن کرنے کی پالیسی کو غیر ریاستی عناصر کے لیے خطرناک پیغام قرار دیدیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کے خلاف مذہبی تنظیموں کی جانب سے

مزید خبریں
میڈیا کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے اظہر صدیق ایڈوووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے قوانین کی پاسداری نہ کرنے کی نشاندہی دہی کی گئی۔
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 اہم کمانڈروں سمیت تقریباً 200 فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو تھے۔ اب تک ایک ہزار 8 سو کے قریب فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوچکے ہیں۔
سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی کل سعودی عرب روانگی کا امکان ہے۔ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے سے موجود ہیں۔ جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں
وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پورے عزم سے لڑ رہے ہیں ، دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا ہے ، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ لڑیں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف سے پشاور میں مسلم لیگ ن کے سینیٹرز اور ارکان قومی

مقبول ترین
لاپتہ ہونے والے ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان خان پورڈیم پر تعینات تھے، سی ڈی اے کے افسر ایازخان کی بیٹی کی کل شادی ہے۔ اہلیہ نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا جمعرات کی شام ساڑھے 4 بجے میرے خاوند دفتر سے نکلے، خاوند نے جی 13 میں واقع اپنے گھر آنا تھا
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں زلفی بخاری کے بطور معاون خصوصی وزیراعظم تقرری کی نااہلی کے لیے درخواستوں پر چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں سماعت ہوئی، زلفی بخاری سماعت کے دوران عدالت میں وکیل اعتزاز احسن
سپریم کورٹ آف پاکستان میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے نومبر 2017 میں فیض آباد دھرنے کے معاملے پر لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کی غیرموجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے جمال خاشقجی کے قتل کے ردِ عمل میں پہلی مرتبہ عملی قدم اٹھاتے ہوئے ان 17 سعودی شہریوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جو صحافی کے قتل کا منصوبہ بنانے اور اسے عملی جامہ پہنانے والی ٹیم کا حصہ تھے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں