Monday, 27 September, 2021
افغان صدر اشرف غنی ملک چھوڑ گئے، طالبان کابل میں داخل

افغان صدر اشرف غنی ملک چھوڑ گئے، طالبان کابل میں داخل

کابل . افغانستان کی حکومت نے طالبان کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈٰیا کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی اپنی ٹیم کے ہمراہ ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ خبریں ہیں کہ ملک چھوڑنے سے قبل صدر اشرف غنی نے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اور نیٹو سے ہنگامی رابطے کئے۔ صدر غنی کی تاجکستان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ملک چھوڑا۔

 

افغان میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر اشرف غنی کے استعفیٰ دینے کا معاملہ طے پا گیا ہے۔ عبوری حکومت کے قیام سے متعلق معاہدہ طے پانے کے بعد اشرف غنی استعفیٰ دے دیں گے۔ افغان حکومت کا وفد طالبان سے مذاکرات کے لیے دوحہ جائے گا۔ وفد میں یونس قانونی، احمد ولی مسعود اور محمد محقق بھی شامل ہونگے۔

خیال رہے کہ آج ہی افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر قوم کے نام ایک ویڈیو پیغام جاری کیا گیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جو لوٹ مار یا انتشار کا سوچے گا، اس سے بزور طاقت نمٹا جائے گا، ہم اسے بہترین انداز میں سرانجام دینگے کیونکہ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔

 

قائم مقام افغان وزیر داخلہ عبدالستار میرز کوال نے کہا ہے کہ کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے، افغانستان میں اقتدار پرامن طور پرعبوری حکومت کو منتقل ہو گا۔

 

افغان میڈیا کے مطابق طالبان کو اقتدار کی منتقلی کیلئےافغان صدارتی محل میں مذاکرات جاری ہیں، علی احمدجلالی کونئی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا جائے گا۔ عبداللہ عبداللہ معاملےمیں ثالث کا کردارادا کر رہے ہیں۔

 

طالبان نے افغانستان کے تمام بارڈرز کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ طالبان کی طرف سے کہا گیا کہ جنگ کے ذریعے کابل میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں ہے، جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں چاہتے، کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں۔

 

طالبان ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ہم افغان اور دیگر لوگوں کیلئے عام معافی کا اعلان کر چکے ہیں، ان کوخوش آمدید کہیں گے جو بد عنوان کابل انتظامیہ کیخلاف ہیں، جنہوں نے دخل اندازوں کی مدد کی، ان کیلئے بھی دروازے کھلے ہیں۔

 

یہ امر قابل ذکر ہے کہ طالبان کو دارالحکومت میں داخلے کے دوران قابل ذکر مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جنگجووں کی آمد کی اطلاعات پر افغان شہریوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ، کابل یونیورسٹی سے طالبات گھروں کو جا چکی ہیں، عوام گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

 

طالبان صوبہ پکتیا کے دارالحکومت گردیز میں بھی داخل ہو گئے ہیں۔ پاکستان کی سرحد پر واقع صوبہ کنڑ کے صدر مقام اسعد آباد پر بھی قبضہ ہو گیا ہے۔ زابل کے گورنر نے طالبان کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ صوبہ دایکندی کے دارالحکومت نیلی پر طالبان نے بغیر لڑے قبضہ کر لیا ہے۔ افغان فوجیوں کی بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں سمیت پناہ کے لئے ایران جانے کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی ہے۔

 

امریکی اور برطانوی سفارتی عملے کا کابل سے انخلا کا عمل جاری ہے۔ دیگر ممالک کی جانب سے بھی افغانستان سے شہریوں کی واپسی کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں جبکہ روس نے کابل سے اپنے سفارتی عملے کو واپس نہ بلانے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر ترجمان روسی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کابل میں ماسکو کے سفیر سے رابطے میں ہیں، سفارتی عملے کی واپسی کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں عالمی میڈٰیا اسے اہم فیصلہ قرار دے رہا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے طالبان جنگجوؤں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سفارتی عملے کو نقصان پہنچنے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔ مستقبل میں بھی طالبان سے نمٹنے کے لئے نگرانی جاری رکھی جائے گی۔

 

کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں، ترجمان طالبان

ترجمان طالبان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں، اقتدار پرامن طریقے سے منتقل کیا جائے گا، سب کودعوت دیتے ہیں، آئیں مل کر افغانستان کی خدمت کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم افغان اور دیگر لوگوں کیلئےعام معافی کا اعلان کر چکے ہیں، ان کوخوش آمدید کہیں گے جو بد عنوان کابل انتظامیہ کیخلاف ہیں، جنہوں نے دخل اندازوں کی مدد کی، ان کیلئے بھی دروازے کھلے ہیں۔

افغانستان کی موجودہ صورتحال پر پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اعلیٰ سطح کی مشاورت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اہم معاملے پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

بروز پیر مورخہ 16 اگست کو بلائے گئے اجلاس میں خطے خصوصاً افغانستان کی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں سول اور عسکری قیادت شرکت کرے گی۔

خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے پیش نظر افغانستان کی سیاسی قیادت پاکستان پہنچ گئی ہے۔ افغان سپیکر میر رحمان رحمانی بھی وفد میں شامل ہیں۔ خصوصی نمائندہ افغانستان محمد صادق نے مہمانوں کا استقبال کیا۔

میڈیا کے مطابق افغان وفد میں محمد یونس قانونی، استاد محمد کریم، احمد ضیاء مسعود، احمد ولی مسعود، عبداللطیف پیدرام اور خالد نور بھی شامل ہیں۔ افغان سیاسی رہنما افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد کی صورتحال پر ملاقاتیں کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  16049
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
چینی اور بھارتی افواج کے درمیان متنازع علاقے لداخ میں جھڑپ کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ چینی فوج نے بھارتی فوجی دستے کا اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا تاہم مذاکرات کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔
آج یوم قدس ہے۔ وہ دن جو امام خمینی کی جدت عمل سے قدس شریف اور مظلوم فلسطین کے بارے میں مسلمانوں کی آوازوں کو ایک لڑی میں پرونے کا ذریعہ بن گیا۔ ان چند عشروں میں اس سلسلے میں اس کا بنیادی کردار رہا اور ان شاء اللہ آئندہ بھی رہے گا۔ اقوام نے یوم قدس کا خیر مقدم کیا اور اسے اولین ترجیح یعنی فلسطین کی آزادی کا پرچم بلند رکھنے کے مشن کے طور پر منایا۔

مقبول ترین
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے بعد انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان بھی منسوخ ہوگیا۔ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی جانب سے سیکیورٹی وجوہات کو جواز بناکر اچانک دورہ پاکستان ختم کردیا گیا تھا اور اب آئندہ ماہ انگلینڈ کی میزبانی کی امیدوں پر بھی پانی پھر گیا۔
طالبان نے کابل فتح کرنے کے چار دن بعد افغانستان میں اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان کردیا۔ روسی نیوز چینل ’’آر ٹی‘‘ کی انگریزی ویب سائٹ کے مطابق افغانستان میں اسلامی حکومت یعنی امارتِ اسلامی قائم کرنے کا اعلان، افغان طالبان کے ترجمان
افغانستان میں طالبان تیزی سے شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے لگے،19 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا، ہرات کے بعد قندھار اور لشکر گاہ کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا ،ہرات میں طالبان سے بر سرپیکار ملیشیا کمانڈر اسماعیل خان، گورنر ہرات اور صوبائی پولیس چیف کو طالبان نے گرفتار کر لیا۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے پر امن حل کیلئے فریقین سے تعاون جاری رکھے گا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات جی ایچ کیو

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں