Tuesday, 22 September, 2020
کورونا وائرس نے لوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنا دیا، چیف جسٹس

کورونا وائرس نے لوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنا دیا، چیف جسٹس

اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ میں کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوان چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم کہتےہیں ایک صوبے کا وزیراعلیٰ آمر ہے، اس کی وضاحت کیا ہوگی؟ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم اور وفاقی حکومت کی اس صوبے میں کوئی رٹ نہیں ہے، ملک میں پیٹرول، گندم، چینی کے بحران ہیں، کوئی بندہ نہیں جو اس بحران کو دیکھے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کورونا وائرس کیس کے سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ کورونا وائرس نے لوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنا دیا، کوئی ادارہ بظاہر کام نہیں کر رہا، ہر ادارے میں این ڈی ایم اے جیسا حال ہے۔

اسلام آباد میں سپریم کورٹ میں کورونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کی۔

'این ڈی ایم اے کیسے کام کررہا ہے؟
چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے کہ نہیں معلوم این ڈی ایم اےکیسے کام کررہا ہے،این ڈی ایم اے اربوں روپے اِدھر اُدھر خرچ کررہا ہے،نہیں معلوم این ڈی ایم اے کے اخراجات پر کوئی نگرانی ہے یا نہیں،این ڈی ایم اے باہر سے ادویات منگوا رہا ہے، نہیں معلوم یہ ادویات کس مقصد کے لیے منگوائی جارہی ہیں۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا ادویات پبلک سیکٹر اسپتالوں کو فراہم کی گئی ہیں؟ کیا ادویات سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرزکی زیرنگرانی استعمال ہورہی ہیں؟

اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ این ڈی ایم اے کا آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کرتا ہے، این ڈی ایم اےادویات منگوانےمیں سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے، باہر سے آنے والی ادویات کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے منظوری سےہونی چاہیے، این ڈی ایم اے کو قانونی تحفظ حاصل ہے، ادویات کی منظوری ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی دیتی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ باہر سے منگوائی جانے والی ادویات کس کو دی جاتی ہیں، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نےکہا درآمدکی گئی ادویات جس مریض کودیں ان کا رکارڈ رکھیں، یہ دوا تشویشناک حالت کےمریضوں کے لیے ہے، مریض کےکوائف اکٹھے کرنےشروع کردینگے تواتنی دیرمیں مریض دنیاسے چل جائے گا، بہتر ہوتا کوائف اکٹھے کرنے کی ذمےداری سرکاری اسپتالوں کو دی جاتی۔

کورونا نےلوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنادیا، اس میں کافی لوگ شامل ہیں، چیف جسٹس
اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ دستاویزکےمطابق نجی کمپنی کیلئےمشینری این ڈی ایم اے نے اپنے جہاز پر منگوائی، الحفیظ نامی کمپنی نے مشینری این 95 ماسک کے لیے منگوائی، کیامشینری کی کسٹم ڈیوٹی ادا کی گئی؟

اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ مشینری منگوانےمیں این ڈی ایم اے نےنجی کمپنی کو سہولت فراہم کی،مشینری پر کسٹم یا ٹیکس نجی کمپنی نے خود جمع کرایا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس طرح تو یہ نجی کمپنی این95 ماسک بنانے والی واحد کمپنی بن گئی ہے،کیا ایسی سہولت فراہم کرنے کے لیے این ڈی ایم اے نے کوئی اشتہار دیا؟ این ڈی ایم اے نے صرف ایک نجی کمپنی کو سہولت فراہم کی، ہم چاہتے ہیں ہر چیز میں شفافیت ہو۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بایا کہ این ڈی ایم اے اسی نجی کمپنی سے این 95ماسک نہیں خرید رہی۔ این ڈی ایم اے کے رکن نے عدالت کو بتایا کہ 28کمپنیوں نےمشینری باہرسے منگوانے کےلیےاین ڈی ایم اے سے رابطہ کیا جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ28 کمپنیاں پہلے سے چل رہی تھیں پھر مشینری منگوانے کی ضرورت کیا تھی؟

ممبر این ڈی ایم اے نے بتایا کہ یہ نجی کمپنیاں این 95 ماسک نہیں بنا رہی تھیں۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ڈیوٹی میں فائدہ کسی کمپنی کو نہیں دیا گیا، این ڈی ایم اےنےہنگامی حالات میں نجی کمپنیوں کومشینری منگوانے میں سہولت فراہم کی۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ کسی انفرادی شخصیت کو فیور نہیں ملنی چاہیے،نجی کمپنی کا مالک دو دن میں ارب پتی بن گیا ہوگا، نہیں معلوم باقی لوگوں اور کمپنیوں کے ساتھ کیا ہوا، کوروناوائرس نےلوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنادیا، اس میں کافی سارےلوگ شامل ہیں، نہیں معلوم اس کمپنی کے پارٹنرز کون ہیں،ایسی مہربانی سرکارنے کسی کمپنی کے ساتھ نہیں کی، اس کے مالک کا گھر بیٹھے کام ہوگیا۔

'حکومت نےبزنس مینوں کوسہولت فراہم کرنی ہے تو اخبار میں اشتہار دیا جائے گا'
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ این ڈی ایم اے نے نجی کمپنی کی این 95 ماسک کی فیکٹریاں لگوادیں، بیروزگاری اسی وجہ سے ہےکہ حکومتی اداروں سے سہولت نہیں ملتی،باقی شعبوں کو بھی اگر ایسی سہولت ملے تو ملک کی تقدیر بدل جائے۔

چیف جسٹس نے مزید استفسار کیا کہ کس قیمت کی مشینری آئی، ایل سی کیسے کھولی گئی؟ ایسی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، این ڈی ایم اے کے کام میں شفافیت نظر نہیں آرہی،حکومت نےبزنس مینوں کوسہولت فراہم کرنی ہے تو اخبار میں اشتہار دیا جائے گا۔

اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کسی کمپنی کو ڈیوٹی کی سہولت نہیں دی جارہی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت ایسا کرے تو ملک میں صنعتی انقلاب آجائےگا، پیداواراتنی بڑھ جائےگی کہ ڈالر بھی 165 سے 20 سے25 روپے کا ہوگا، ہمیں یاد ہے کہ ڈالر کبھی 3 روپے کا ہوتا تھا۔

'50 ہزار سے 1 لاکھ مزدور مشرق وسطیٰ سے واپس آرہے ہیں، ان کوکھپانےکاکیا طریقہ ہے؟'
چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ مشرق وسطیٰ سے آنے والے پاکستانیوں کو کہاں رکھا جائیگا؟مشرق وسطیٰ سے آنے والے پاکستانی 3 ماہ اپنی جمع شدہ رقم سےنکال لیں گے،اس کے بعد مزدور کیا کریں گے؟ کیا حکومت کا کوئی پلان ہے؟ کیا 14 دن قرنطینہ میں رکھنےکے بعد وہ جہاں مرضی ہے جاسکیں گے؟

چیف جسٹس نے پوچھا کہ 50 ہزار سے1 لاکھ مزدور مشرق وسطیٰ سے واپس آرہے ہیں، تعلیمی اداروں سے ہر سال لوگ فارغ التحصیل ہورہےہیں ان کوکھپانےکاکیا طریقہ ہے؟ہماری صحت اور تعلیم بیٹھی ہوئی ہے کوئی ادارہ بظاہر کام نہیں کررہا، ہر ادارے میں این ڈی ایم اے جیسا حال ہے، حکومت کی معاشی پالیسی کیا ہے وہ نہیں معلوم،اگر حکومت کی کوئی معاشی پالسی ہے تو بتائیں؟

چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ حکومت کا مستقبل کا وژن کیا ہے وہ بھی بتائیں، حکومت عوام کے مسائل کیسے حل کرے گی؟ کیا عوامی مسائل پر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے ہے؟ ٹی وی پر بیان بازی سے عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا، عوام کو روٹی،پیٹرول، تعلیم،صحت اور روزگار کی ضروررت ہے، وزیراعظم کہتےہیں ایک صوبے کا وزیراعلیٰ آمر ہے، اس کی وضاحت کیا ہوگی؟

چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم اور وفاقی حکومت کی اس صوبےمیں کوئی رٹ نہیں ہے، ملک میں پیٹرول، گندم، چینی کے بحران ہیں، کوئی بندہ نہیں جو اس بحران کو دیکھے۔

'کراچی کے نالے صاف کرنے کے پیسے نہیں سندھ 4 ارب لگژری گاڑیوں پر کیسے خرچ کرسکتا ہے؟'
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سندھ حکومت4ارب روپے400 لگژری گاڑیوں کےلیےکیسے خرچ کرسکتی ہے؟ یہ گاڑیاں صوبے کے حکمرانوں کے لیے منگوائی گئی ہیں، ایک گاڑی کی قیمت 1 کروڑ 16 لاکھ ہے، اس طرح کی لگژری گاڑیاں منگوانے کی اجازت نہیں دیں گے، 4 ارب روپے کی رقم سپریم کورٹ کے پاس جمع کرائیں، کراچی کا نالہ صاف کے کرنے کیلئے سندھ حکومت کے پاس پیسے نہیں ہیں، کیا پنجاب،کے پی، بلوچستان ایسی گاڑیاں منگوا رہے ہیں؟

اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ کے پی اور پنجاب ایسی لگژری گاڑیاں نہیں منگوا رہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مشینری، امپورٹ اور دیگرسامان سے متعلق تفصیلات تسلی بخش نہیں ہیں۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ آکسیجن سیلنڈر کی قیمت 5 ہزارروپےسےکئی گنا بڑھ گئی ہے،صوبائی حکومت شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے،حکومت کہاں ہے، جج ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شہری بھی ہوں، قانون کی عمل داری کدھر ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کو بڑی امید تھی اس لیے تبدیلی لائے، سیاسی لوگ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے پر آگئے ہیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت قانون کے اندر رہتے ہوئے سخت فیصلے کررہی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پوری حکومت کو 20 لوگ یرغمال نہیں بنا سکتے،گندم کا بحران پیدا ہوا جس کی کوئی وجہ نہیں تھی،حکومت کی اگر کوئی خواہش ہو توحکومت کو کوئی روک نہیں سکتا،حکومت ہر کام میں قانون کے مطابق ایکشن لے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت ایسی طاقتوں کے خلاف سرنڈر نہیں کررہی جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ 16ملین ٹن گندم سندھ سےچوری ہوگئی،اس کا کیا بنا؟

چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے قومی احتساب بیورو (نیب) کے متوازی این ڈی ایم اے کا ادارہ بن جائے گا، یہ ساری چیزیں عوام اور پاکستان کے لیے ڈیزاسٹر ہیں۔

لوگوں کو بجلی، روزگار، صحت نہیں دیں گے تو وہ حکومت کی بات کیوں سنیں؟ چیف جسٹس
چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے لوڈ شیڈنگ کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران لوڈشیڈنگ کس بات کی ہو رہی ہے؟ دکانیں اور ادارے بند ہیں پھر لوڈ شیڈنگ کیسی؟ جس ملک کےلوگوں کو 18 گھنٹے بجلی نہیں دیں گے وہ حکومت کی بات کیوں سنیں گے؟ جن کو روزگار، صحت اور دیگر سہولتیں نہیں دینگے تو وہ حکومت کی بات کیوں سنیں گے؟

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ حکومت نے عوام کے ساتھ اپنا معاہدہ توڑ دیا،آئین کا معاہدہ ٹوٹے بڑا عرصہ ہو چکا ہے، لوگ انتظارمیں ہیں کہ انہیں کب یہ پھل ملے گا لیکن یہ پھل چند لوگوں کو مل گیا،پتہ نہیں اس پھل سے ہم اور آپ فائدہ اٹھا رہے ہیں یا نہیں، پارلیمنٹ کو اس چیز کا احساس ہونا چاہیے۔

اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ حکومت سے ہدایات لے کر بتائیں کیا کرنا ہے، ہر شہری کو بنیادی سہولیات ملنی چاہیئں، اس پر حکومت اپنا پلان دے، ملک میں کورونا کی وبا چل رہی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے قانون کا مسودہ بن گیا ہے۔

لگتا ہے جب بھوک لگی تو گندم اُگانے چل نکلے، چیف جسٹس
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ٹڈیوں کے خاتمے کے لیے ہمارے 3 جہاز کھڑے ہیں، کیا ہمارے پاس اسپرے والے جہاز چلانے کے لیے پائلٹ نہیں ہے؟ لگتا ہے جب بھوک لگی تو گندم اُگانے چل نکلے،حکومت کو ٹڈیوں سےنمٹنے کے لیے ہر وقت تیاررہنا چاہیے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سندھ حکومت نے کتنی ڈبل کیبن گاڑیاں منگوائی ہیں؟سندھ حکومت ٹڈیوں کے خاتمے کے لیے گاڑیاں منگوا رہی ہے؟ سندھ حکومت نےلاک ڈاؤن کرنا ہے تو کرے، لیکن لوگوں کوکھانا، پانی اور بجلی فراہم کرے، سندھ میں 18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فیصل آباد کےعلاقےرضاآباد سےگٹرسےنکلنےوالا پانی پورے شہر میں پھیلا ہوا ہے، کیا پنجاب میں کوئی وزیر اعلیٰ اورحکومت ہے؟

این ڈی ایم اے سے این 95 ماسک کی خریداری اور درآمد مشینری کی تفصیلات طلب
سپریم کورٹ نے این ڈی ایم اے سے این 95 ماسک کی خریداری کی تفصیلات ،این 95 ماسک کی تیاری کیلئے درآمد مشینری کی تفصیلات بھی طلب کرنے کے ساتھ الحفیظ کمپنی سے ادائیگی کی تفصیلات اور ذرائع آمدن بھی طلب کر لیے۔

عدالت نے کورونا وبا میں این ڈی ایم اے کی جانب سے درآمد کی جانے والی ادویات کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کا حکم دیا ہے جب کہ سندھ حکومت کو ترقیاتی کاموں کی بجائے چار ارب کی خطیر رقم گاڑیوں کی خریداری پر خرچ کرنے سے متعلق بھی وضاحت طلب کر لی ہے ۔ عدالت نے برسات کے پیش نظر سندھ حکومت کو گجر نالے کی صفائی کیلئے رقم کا بندوبست کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  46947
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
چیف جسٹس گلزار احمد نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکیوں کے معاملہ کا از خود نوٹس لے لیا ہے، جمعے کو کیس کی سماعت ہوگی۔ میڈیا کے مطابق چیف جسٹس گلزار احمد نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دی گئی دھمکیوں کے معاملے پر ازخود نوٹس
وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن تنقید بڑی کرتی ہے لیکن کوئی بہتر تجاویز نہیں دیتی۔ ملک میں لاک ڈاؤن کا شور مچانے والوں کے اربوں ڈالر باہر پڑے ہیں۔ وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم
آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پر دہشتگردوں نے پاک فوج کی گشت کرنے والی ٹیم پر حملہ کر دیا، فائرنگ کی زد میں آ کر کیپٹن صبیح اور نوید نامی جوان شہید ہو گئے جبکہ 2 سپاہی شدید زخمی ہوئے۔
پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے سابق نائب صدر صدیق خان ترین نے کہا کہ کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ تشویشناک ہے انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس عالمی وبا سے بچاو اور پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے موثر کردار ادا کرنا از حد ضروری ہے

مزید خبریں
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رہنما اور وزیر اعظم عمران خان کے دیرینہ سیاسی معاون نعیم الحق طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ انھیں کینسر کا مرض‌لاحق تھا۔ وہ کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔

مقبول ترین
ایران نے کہا ہے کہ امریکا نے روایتی غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یک طرفہ طور پر اقوام متحدہ کی پابندیاں بحال کیں جس پر اُسے فیصلہ کن جواب دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر حسن روحانی نے ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں
وزیراعظم نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش تھی، عدالتوں اور فوج کو بدنام نہیں ہونے دیں گے۔ پاکستان کی مسلح افواج قومی سلامتی کی ضامن ہیں۔ ن لیگ نے ایک بار پھر بھارتی ایجنڈے کو فروغ دیا۔
عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ پاک فوج کا ملک میں کسی بھی سیاسی عمل سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق نہیں ہے۔ میڈیا کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی پارلیمانی رہنماؤں سے
برطانیہ، فرانس، جرمنی اور روس نے امریکی اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ سیکیورٹی کونسل میں شکست کھانے کے بعد امریکا نے ایران پر یکطرفہ طور پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ میڈیا کے مطابق سلامتی کونسل میں شکست کے بعد امریکا کی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں