Saturday, 17 April, 2021
’’حفیظ شیخ عہدے سے فارغ، حماد اظہر نئے وزیر خزانہ‘‘

’’حفیظ شیخ عہدے سے فارغ، حماد اظہر نئے وزیر خزانہ‘‘

اسلام آباد ۔ وفاقی حکومت نے وفاقی وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کو عہدے سے ہٹا دیا جبکہ ان کی جگہ حماد اظہر لیں گے۔ سینیٹر شبلی فراز نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ قلمدان حماد اظہر کو تفویض کر دیا گیا ہے۔ وہ عمران خان کے ویژن کو لیکر آگے چلیں گے۔ 

شبلی فراز نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کو ہٹانے کی بڑی وجہ مہنگائی ہے،حفیظ شیخ کو ہٹانے کا مقصد یہ تھا کہ وزیراعظم صاحب کو غریبوں کی فکر رہتی ہے اور مہنگائی ہو گئی تھی ان کے مستقبل کا کوئی علم نہیں۔ غریب عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں، کل تک چیزیں فائنل ہو جائیں گی۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا، وفاقی کابینہ میں مزید تبدیلیوں کا امکان ہے۔  سینیٹر شبلی فراز، سینیٹر فیصل واوڈا اور تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما عثمان ڈار کی کابینہ میں واپسی ہوگی جبکہ مشیروں میں رد و بدل پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ شبلی فراز کو پٹرولیم کی وزارت ملنا کا امکان ہے۔ 

میڈیا کا کہنا ہےکہ وفاقی کابینہ میں اتحادی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کو بھی نمائندگی دینے پر مشاورت کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 11 دسمبر 2020ء  کو وزیراعظم نے وفاقی کابینہ میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے کچھ وزرا کے قلمدانوں میں ردو بدل کیا ہے اور شیخ رشید احمد کو وفاقی وزیر داخلہ کا قلمدن سونپ دیا ہے۔ وفاقی وزیر کے عہدے کا حلف اٹھانے والے ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کو وفاقی وزیر خزانہ کا قلمدان دیا گیا تھا۔

ان کے علاوہ جن وزرا کے قلمدان میں تبدیلیاں کی گئی ہیں ان میں موجودہ وزیر برائے انسداد منشیات اعظم سواتی کو وزیر ریلوے اور موجودہ وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کو وزیر انسداد منشیات کا عہدہ تفویض کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی 3 سال سے بھی کم مدت کے دوران وفاقی کابینہ میں تیسری مرتبہ بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ میں رواں برس اپریل میں تبدیلی کی گئی تھی جس کے تحت خسرو بختیار کو وفاقی فوڈ سیکیورٹی کی وزارت سے ہٹا کر اقتصادی امور، حماد اظہر کو اقتصادی امور کی جگہ وزارت صنعت جبکہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین فخر امام کو وزارت غذائی تحفظ دی گئی تھی۔

قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی تشکیل کے بعد سے لے کر گزشتہ برس اپریل تک وفاقی وزیر داخلہ کا قلمدان وزیراعظم عمران خان کے پاس ہی تھا تاہم 19 اپریل کو بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ سے وزیر امور پارلیمان کی وزارت لے کر انہیں وفاقی وزیر داخلہ مقرر کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کے تقرر سے قبل شہریار آفریدی وزیر مملکت برائے داخلہ کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں تاہم وفاقی وزیر کی تعیناتی کے بعد ان سے یہ عہدہ لے لیا گیا تھا۔

گزشتہ برس اپریل میں ہونے والی تبدیلیوں میں فواد چوہدری سے وزیرِ اطلاعات کا قلمدان لے کر وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی ذمہ داری غلام سرور خان سے وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم کا چارج واپس لے کر وزیر ہوابازی کا چارج دیا گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  40186
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیر اعظم عمران خان سے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز، وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد اور ڈیجیٹل میڈیا ونگ کے جنرل مینجر عمران غزالی نے ملاقات کی ہے۔ ترجمان وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق ملاقات کے دوران سینیٹر
وزیراعظم نے 178 ووٹ حاصل کر کے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا۔ عمران خان نے اس سے پہلے وزیراعظم بنتے وقت 176 ووٹ لیے تھے۔ غلام بی بی بھروانہ، عامر لیاقت اور باسط بخاری بھی قومی اسمبلی میں موجود تھے۔
کلرسیداں میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں سینیٹ الیکشن کے کرپٹ نظام کی سپورٹ کررہی ہیں، مولانا فضل الرحمان اس نظام کے سب سے بڑے بینیفشری اور کرپشن کے بادشاہ ہیں، یاد رکھیں اگر اوپن بیلٹنگ نہ ہوئی
وزیراعظم نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات کیلئے ابھی سے ریٹ لگنا شروع ہو چکے، معلوم ہے کونسا سیاسی لیڈر پیسے لگا رہا ہے، کرپشن کو روکنے کی ترامیم کے مخالف قوم کے سامنے بے نقاب ہوں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں سے گفتگو

مقبول ترین
عوامی نیشنل پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کے نتیجے میں اتحاد ٹوٹ گیا اور اے این پی رہنماؤں نے پی ڈی ایم کے تمام عہدے چھوڑ دیے۔ پشاور میں اے این پی کی مرکزی
لاہور میں موٹروے پر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزمان کو سزائے موت سنا دی گئی۔میڈیا کے مطابق چند روز قبل موٹروے زیادتی کیس کی سماعت مکمل ہوئی تھی، انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج ارشد حسین بھٹہ کیمپ جیل میں فیصلہ سنانے
مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں ہونے والے پی ڈی ایم کے اہم اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں میں استعفوں اور لانگ مارچ سے متعلق اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔ سربراہی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان
حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے مشترکہ امیدوار صادق سنجرانی سینیٹ چیئرمین جبکہ مرزا آفریدی ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں۔ صادق سنجرانی 48 ووٹ لےکر چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل یو سف

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں