Wednesday, 22 January, 2020
فلموں میں جانوروں کی دل چسپ پرفارمنس !!

فلموں میں جانوروں کی دل چسپ پرفارمنس !!

پاکستان میں حالیہ دِنوں میں فلم میکنگ کی رفتار پچاس فی صد تسلی بخش قرار دی جا سکتی ہے اور اسے سو فی صد پر لانے کے لیے مزید محنت اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ایک اور خوش کن بات یہ بھی ہے کہ اب یہ فلمیں ٹیکنکلی یعنی فوٹو گرافی، ایڈیٹنگ ،ڈبنگ وغیرہ جیسے شعبوں میں انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ سے ہم آہنگ ہو رہی ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ فلم میکرز مقامی بوسیدہ لیبارٹریز پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی فلموں کا تکنیکی کام اور پرنٹ کی تیاری کے مراحل میں بیرون ممالک کی جدید اپ گریڈ لیبارٹریز سے استفادہ کر رہے ہیں۔ 

اس ساری تمہید کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان فلمی صنعت بتدریج پھر سے مثبت سمت میں پیشرفت کر رہی ہے، لیکن موضوعات کے معاملے میں فلم میکرز کچھ محدود سے ہو کر کام کر رہے ہیں۔ یا تو کامیڈی موضوعات پر فوکس کیا جا رہا ہے یا پھر سوشل سبجیکٹس فلم میکرز کی خاص ترجیح ہے۔ 

اس کے برعکس پچاس، ساٹھ ستر اور اسی کی دہائیوں میں فلم میکرز کا سبجیکٹس کے چنائو میں کینویس بہت وسیع اور لامحدود تھا،بہت سی مختلف جہتوں میں کام ہو رہا تھا ،سوشل ،کاسٹیوم، ایکشن، جاسوسی، ہارر، فکشن ، طلسماتی اور کامیڈی …یعنی اس عہد کے فلم میکر کو جو موضوع سمجھ میں آتا اس پر وہ بے دھڑک کام شروع کر دیا کرتے تھے۔ 

مثلاً ہدایت کار ظہو راجا کے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ اپنی کہانی میں جانوروں کو مرکزیت دی جائے۔ سو انہوں نے ایورنیو پکچرز کے لیے ’’باغی سردار‘‘ کے ٹائٹل سے ایک فلم تحریر کی اور ڈائریکشن کا شعبہ خود سنبھالا۔ بنیادی طور پر باغی سردار ایک مکمل کاسٹیوم فلم تھی، جس کا تھیم رستم و سہراب سےلیا گیا تھا، لیکن ساتھ ساتھ انہوں نے فلم کے ہیرو محمدعلی کے وفادار ساتھیوں کے طور پر ایک نہایت خُوب صورت’’ کُتا ‘‘جس کا نام رومن تھا۔ اور سفید رنگت کا حامل گھوڑا جس کا نام موتی تھا، کو بطور کہانی کے اہم کرداروں کی صورت پیش کیا۔ 

کہانی کے جس موڑ پر فلم کے ہیرو محمد علی کو کسی مشکل سے دوچار دکھایا گیا تو اس کے وفادار جانور رومن اور موتی گھوڑا بڑی محنت اور تگ ودو کے بعد اپنے مالک محمدعلی کو اس مشکل سے چھٹکارا پانے میں بھرپور معاونت کرتے دکھائے گئے۔ مثلاً دشمن فوجی ، فلم کے ہیرو محمد علی کو ہلاک کرنے کی غرض سے ایک گہرے کنویں میں پھینک دیتے ہیں۔ ایسے میں رومن کتا، اپنے ساتھی موتی گھوڑے کی پشت سے بندھا ہوا طویل رسہ کا دوسرا سرا کنوئیں میں ڈال دیتا ہے۔ 

جس کی مدد سے محمد علی کنویں سے باہر نکل آتے ہیں۔ یہ ایک طویل منظر تھا، جس میں گھوڑے اور کُتے کی کارکردگی قابل داد تھی۔ اسی طرح فلم کے ایک منظر میں رومن کتے کو کامیڈی کے لیے بھی ذہانت سے استعمال کیا گیا۔ منظر کچھ یوں تھا کہ کتا رومن…اداکارنذر کے پیچھے دوڑتا ہے تو نذر خوف زدہ ہو کر ایک پول پر چڑھ جاتے ہیں۔ لیکن نیچے سے رومن اس کا پاجامہ منہ میں دبا کر کھینچ لیتا ہے۔ اس وقت کے لحاظ سے یہ منظر فلم ویورز نے بہت انجوائے کیا۔ باغی سردار 1966کی ایک کام یاب فلم ثابت ہوئی۔

اگلے برس یعنی1967میں ہدایت کار منور رشدی کی کاسٹیوم تخلیق فلم ’’بہادر‘‘میں مسرت نذیر کے وفادار ساتھیوں کی صورت ایک بار پھر کُتے اور گھوڑے کو مرکزی کرداروں میں پیش کیا گیا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار یہ دونوں جانور محمدعلی کے خیر خواہ نہیں بلکہ بدخواہ تھے … تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مذکورہ فلم میں’’بہادر ‘‘کا ٹائٹل رول مسرت نذیر کر رہی تھیں، جب کہ محمد علی ایک ظالم وزیر اعظم کے منفی کردار میں فلم کا حصہ تھے۔ 

سو کتا اور گھوڑا مل کر فلم کے ایک منظر میں ظالم وزیر اعظم کو خوب زدو کوب کرتے ہیں۔ اس فلم کے حوالے سے کتے اور گھوڑے کے کرداروں کو عوامی حلقوں میں خوب سراہا گیا۔ 1968میں عکاس اسلم ڈار نے بہ حیثیت ہدایت کار اپنے کیریئر کا آغاز خالص جنگل مودی ’’دارا‘‘ سے کیا، جس کی تمام تر فلم بندی سندر بن میں کی گئی۔ 

اس فلم کی وساطت سے نصر اللہ بٹ کو بہ طور ’’دارا‘‘ متعارف کروایا گیا۔ دارا اسی ٹارزن طرز کا کردار تھا، جو خوف ناک جنگلوں میں پرورش پاتا ہے۔ جنگل کے جانور اس سے اس قدر مانوس ہو جاتے ہیں کہ بعض جانور اس کے اشاروں پر کام کرتے ہیں۔ بالخصوص ایک بندر جو اکثر دارا کے کندھے پر سوار عجیب عجیب شرارتیں کرتا ہے اور جب ’’دارا‘‘کا دشمنوں سے مقابلہ ہوتا ہے تو اس معرکے میں بھی دارا کا وفادار ساتھی بندر دشمنوں سے بھرپور انداز میں نبرد آزما ہوتا ہے۔ 

اس فلم کی وساطت سے جہاں نصر اللہ بٹ کو بہ طور ’’دارا‘‘ بے حد عوامی پذیرائی ملی، وہیں دارا کے وفادار ساتھی اس بندر کے کردار کو بھی سراہا گیا۔ 1973میں سید کمال کی ڈائریکشن میں بنائی گئی فلم ’’انسان اور گدھا‘‘ منظر عام پر آئی، تو فلم بینوں نے ایک گدھے کو مرکزی کردار میں دیکھا۔ دراصل ’’انسان اور گدھا‘‘ کرشن چندر کے افسانے گدھے کی سر گزشت سے ماخوذ تھی۔ فلم کی کہانی کے مطابق ایک گدھا اپنے رب سے دعا کرتا ہے کہ اسے انسان بنا دیا جائے تاکہ وہ انسانوں کی سی مہذب زندگی گزار سکے۔ 

اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتے ہیں اور وہ انسان بن جاتا ہے، لیکن انسان بننےکے بعددوسرے انسانوں کے غلط رویے اور شیطانی کرتوت اسے انسانیت سے متغیر کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے ایک قتل کیس میں سزا دلوا دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ اس کے لیے ناقابل برداشت ہوتا ہے اور وہ عین تختہ دار پر کھڑا ہو کر مالک دوجہاں سے التجا کرتا ہے، اسے پھر سے حیوان ؒبنادے۔ 

اس کی دعا قبول ہوتی ہے اور وہ پھر سے گدھا بن جاتا ہے۔ انسان اور گدھے کی یہ تمثیل ہمارے ہشت پہلو فن کار رنگیلا نے کمال مہارت سے نبھائی۔اس فلم میں غریب جانور ’’گدھے‘‘ پر فوکس کیا گیا اور اس دل چسپ تجربے کو فلمی حلقوں میں خاصی پذیرائی ملی ۔ ایس اے حافظ نے 1976میں جب ’’راجا جانی‘‘ بنائی تو کہانی کے مطابق ایک کُتے کو بھرپور کردار میں پیش کیا گیا۔ یہ کُتا بھولے بھالے راجا کا پروردہ ہوتا ہے۔ 

راجا کی معذور بہن شازیہ کی عصمت شہر کے بدقماش لوگوں سے بچاتا ہے اور فلم کے کلائمکس سین میں جب دو ہم شکل راجا اور جانی میں شناخت کرنے کا مرحلہ آتا ہے کہ دونوں میں جرائم پیشہ اسمگلر جانی کون ہے اور راجا کون؟ تو عدالت کے روبرو راجا کا وفادار یہ موتی کتا ہی جانی کو دیکھ کر زور سے غراتا ہے اور راجا کے قریب جا کر بیٹھ جاتا ہے۔ فلم کا ایک منظر کُتے کی پرفارمنس کے تناظر میں بہ طور خاص قابل ذکر ہے کہ جانی کے حکم پر جانی کے کچھ ساتھی راجا کے اس وفادار موتی کُتے کو ٹھکانے لگانے کی غرض سے اس پر فائر کرتے ہیں۔ 

کتا گرتا ہے اور دم سادھ کر یوں پڑ جاتا ہے کہ جیسے مر چکا ہو۔ جانی کے ساتھی مطمئن ہو کر واپس لوٹ جاتے ہیں اور موتی کچھ دیر بعد آنکھیں کھول کر دیکھتا ہے کہ یہ خطرہ ٹل گیا ہے، تو وہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اس طرح کی اور بھی کئی فلمیں ہیں، جن میں جانوروں سے فلموں کے ہدایت کاروں نے عمدہ کام لیا۔
بشکریہ جنگ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

فلموں میں جانوروں کی دل چسپ پرفارمنس !!
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  50666
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ﺍﯾﮏ ﻃﻮﻃﺎ ﻃﻮﻃﯽ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﺍﯾﮏ ﻭﯾﺮﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﮨﻮﺍ ، ﻭﯾﺮﺍﻧﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻃﻮﻃﯽ ﻧﮯﻃﻮﻃﮯ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ” ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﮔﺎﺅﮞ ﮨﮯ، ?. “ﻃﻮﻃﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﺴﯽ ﺍﻟﻮ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ “ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﻃﻮﻃﺎ ﻃﻮﻃﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ، ﻋﯿﻦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﮏ ﺍﻟّﻮ
یہ انوکھا واقعہ بھارت کے شہر بجنور میں پیش آیا۔ بارات تاخیر سے لانے پر دلہن کے رشتے داروں نے دلہا سمیت تمام باراتیوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر پولیس کے حوالے کر دیا جبکہ دلہن نے اپنا نیا جیون ساتھی ڈھونڈ لیا۔
لندن کے ایک کیفے نے گاہکوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے کافی کے کپ میں پینے والوں کی تصاویر بنانا شروع کردی ہے جس کے لیے وہ ’تھری ڈی پرنٹر‘ کا استعمال کرتے ہیں۔
بابا. پیڑے. والے کی پوتی کی شادی پر دلہا والوں نے ڈالروں. ریالوں اور ڈبہ بند موبائل فون کی بارش کردی لوگوں کےعلاوہ باراتیوں نےبھی خوب فائدہ اٹھایا اور جیبیں بھرلیں.س دوران دھکم پیل سے کئ لوگ ایک دوسرے سےدست گریبان کے واقعات بھی پیش آئے.اس موقعہ پر لوگ کھہ رہے تھے شادی ہو تو ایسی.

مزید خبریں
نیویارک میں ایک کمپنی نے ایک ایسا کام کرنے کے لیے بازار میں بوتھ بنادیا ہے جس کا سن کر ہی انسان شرم سے پانی پانی ہو جائے۔ اس کمپنی نے مردوں کو خودلذتی کا موقع فراہم کرنے کے لیے بازار کے بیچ یہ بوتھ بنایا ہے

مقبول ترین
ماں۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ آپ میرے اس عارضی دنیا میں واپس آنے کے لیے کتنی پرجوش تھیں۔۔۔۔۔یہ لیں، آج آپ کی دیرینہ خواہش پوری کیے دے رہی ہوں۔۔۔۔ارے دیرینہ یوں بولا ہے کہ جب سے میرا آپ کا ساتھ چھوٹا، وہ بندھن ٹوٹا جس نے مجھے آپ کی سانسوں کی ڈور سے باندھ رکھا تھا،تب سے محسوس ہونے لگا کہ اب مجھ میں کچھ باقی نہیں رہا۔
وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر اہم ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور اہم ایشوز پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔ ورلڈ اکنامک فورم کی سائیڈ لائنز پر ہونے والی اس اہم ملاقات میں امریکی
حکومت اور اپوزیشن نے نئے چیف الیکشن کمشنر کے لیے سکندر سلطان راجہ کے نام کا اعلان کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن ممبران و چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے چیئرپرسن شیریں مزاری کی زیر صدارت حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی
وزیراعظم عمران خان عالمی اقتصادی فورم (ورلڈ اکنامک فورم) کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس روانہ ہوگئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں