Thursday, 02 April, 2020
فلموں میں جانوروں کی دل چسپ پرفارمنس !!

فلموں میں جانوروں کی دل چسپ پرفارمنس !!

پاکستان میں حالیہ دِنوں میں فلم میکنگ کی رفتار پچاس فی صد تسلی بخش قرار دی جا سکتی ہے اور اسے سو فی صد پر لانے کے لیے مزید محنت اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ایک اور خوش کن بات یہ بھی ہے کہ اب یہ فلمیں ٹیکنکلی یعنی فوٹو گرافی، ایڈیٹنگ ،ڈبنگ وغیرہ جیسے شعبوں میں انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ سے ہم آہنگ ہو رہی ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ فلم میکرز مقامی بوسیدہ لیبارٹریز پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی فلموں کا تکنیکی کام اور پرنٹ کی تیاری کے مراحل میں بیرون ممالک کی جدید اپ گریڈ لیبارٹریز سے استفادہ کر رہے ہیں۔ 

اس ساری تمہید کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان فلمی صنعت بتدریج پھر سے مثبت سمت میں پیشرفت کر رہی ہے، لیکن موضوعات کے معاملے میں فلم میکرز کچھ محدود سے ہو کر کام کر رہے ہیں۔ یا تو کامیڈی موضوعات پر فوکس کیا جا رہا ہے یا پھر سوشل سبجیکٹس فلم میکرز کی خاص ترجیح ہے۔ 

اس کے برعکس پچاس، ساٹھ ستر اور اسی کی دہائیوں میں فلم میکرز کا سبجیکٹس کے چنائو میں کینویس بہت وسیع اور لامحدود تھا،بہت سی مختلف جہتوں میں کام ہو رہا تھا ،سوشل ،کاسٹیوم، ایکشن، جاسوسی، ہارر، فکشن ، طلسماتی اور کامیڈی …یعنی اس عہد کے فلم میکر کو جو موضوع سمجھ میں آتا اس پر وہ بے دھڑک کام شروع کر دیا کرتے تھے۔ 

مثلاً ہدایت کار ظہو راجا کے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ اپنی کہانی میں جانوروں کو مرکزیت دی جائے۔ سو انہوں نے ایورنیو پکچرز کے لیے ’’باغی سردار‘‘ کے ٹائٹل سے ایک فلم تحریر کی اور ڈائریکشن کا شعبہ خود سنبھالا۔ بنیادی طور پر باغی سردار ایک مکمل کاسٹیوم فلم تھی، جس کا تھیم رستم و سہراب سےلیا گیا تھا، لیکن ساتھ ساتھ انہوں نے فلم کے ہیرو محمدعلی کے وفادار ساتھیوں کے طور پر ایک نہایت خُوب صورت’’ کُتا ‘‘جس کا نام رومن تھا۔ اور سفید رنگت کا حامل گھوڑا جس کا نام موتی تھا، کو بطور کہانی کے اہم کرداروں کی صورت پیش کیا۔ 

کہانی کے جس موڑ پر فلم کے ہیرو محمد علی کو کسی مشکل سے دوچار دکھایا گیا تو اس کے وفادار جانور رومن اور موتی گھوڑا بڑی محنت اور تگ ودو کے بعد اپنے مالک محمدعلی کو اس مشکل سے چھٹکارا پانے میں بھرپور معاونت کرتے دکھائے گئے۔ مثلاً دشمن فوجی ، فلم کے ہیرو محمد علی کو ہلاک کرنے کی غرض سے ایک گہرے کنویں میں پھینک دیتے ہیں۔ ایسے میں رومن کتا، اپنے ساتھی موتی گھوڑے کی پشت سے بندھا ہوا طویل رسہ کا دوسرا سرا کنوئیں میں ڈال دیتا ہے۔ 

جس کی مدد سے محمد علی کنویں سے باہر نکل آتے ہیں۔ یہ ایک طویل منظر تھا، جس میں گھوڑے اور کُتے کی کارکردگی قابل داد تھی۔ اسی طرح فلم کے ایک منظر میں رومن کتے کو کامیڈی کے لیے بھی ذہانت سے استعمال کیا گیا۔ منظر کچھ یوں تھا کہ کتا رومن…اداکارنذر کے پیچھے دوڑتا ہے تو نذر خوف زدہ ہو کر ایک پول پر چڑھ جاتے ہیں۔ لیکن نیچے سے رومن اس کا پاجامہ منہ میں دبا کر کھینچ لیتا ہے۔ اس وقت کے لحاظ سے یہ منظر فلم ویورز نے بہت انجوائے کیا۔ باغی سردار 1966کی ایک کام یاب فلم ثابت ہوئی۔

اگلے برس یعنی1967میں ہدایت کار منور رشدی کی کاسٹیوم تخلیق فلم ’’بہادر‘‘میں مسرت نذیر کے وفادار ساتھیوں کی صورت ایک بار پھر کُتے اور گھوڑے کو مرکزی کرداروں میں پیش کیا گیا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار یہ دونوں جانور محمدعلی کے خیر خواہ نہیں بلکہ بدخواہ تھے … تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مذکورہ فلم میں’’بہادر ‘‘کا ٹائٹل رول مسرت نذیر کر رہی تھیں، جب کہ محمد علی ایک ظالم وزیر اعظم کے منفی کردار میں فلم کا حصہ تھے۔ 

سو کتا اور گھوڑا مل کر فلم کے ایک منظر میں ظالم وزیر اعظم کو خوب زدو کوب کرتے ہیں۔ اس فلم کے حوالے سے کتے اور گھوڑے کے کرداروں کو عوامی حلقوں میں خوب سراہا گیا۔ 1968میں عکاس اسلم ڈار نے بہ حیثیت ہدایت کار اپنے کیریئر کا آغاز خالص جنگل مودی ’’دارا‘‘ سے کیا، جس کی تمام تر فلم بندی سندر بن میں کی گئی۔ 

اس فلم کی وساطت سے نصر اللہ بٹ کو بہ طور ’’دارا‘‘ متعارف کروایا گیا۔ دارا اسی ٹارزن طرز کا کردار تھا، جو خوف ناک جنگلوں میں پرورش پاتا ہے۔ جنگل کے جانور اس سے اس قدر مانوس ہو جاتے ہیں کہ بعض جانور اس کے اشاروں پر کام کرتے ہیں۔ بالخصوص ایک بندر جو اکثر دارا کے کندھے پر سوار عجیب عجیب شرارتیں کرتا ہے اور جب ’’دارا‘‘کا دشمنوں سے مقابلہ ہوتا ہے تو اس معرکے میں بھی دارا کا وفادار ساتھی بندر دشمنوں سے بھرپور انداز میں نبرد آزما ہوتا ہے۔ 

اس فلم کی وساطت سے جہاں نصر اللہ بٹ کو بہ طور ’’دارا‘‘ بے حد عوامی پذیرائی ملی، وہیں دارا کے وفادار ساتھی اس بندر کے کردار کو بھی سراہا گیا۔ 1973میں سید کمال کی ڈائریکشن میں بنائی گئی فلم ’’انسان اور گدھا‘‘ منظر عام پر آئی، تو فلم بینوں نے ایک گدھے کو مرکزی کردار میں دیکھا۔ دراصل ’’انسان اور گدھا‘‘ کرشن چندر کے افسانے گدھے کی سر گزشت سے ماخوذ تھی۔ فلم کی کہانی کے مطابق ایک گدھا اپنے رب سے دعا کرتا ہے کہ اسے انسان بنا دیا جائے تاکہ وہ انسانوں کی سی مہذب زندگی گزار سکے۔ 

اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتے ہیں اور وہ انسان بن جاتا ہے، لیکن انسان بننےکے بعددوسرے انسانوں کے غلط رویے اور شیطانی کرتوت اسے انسانیت سے متغیر کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے ایک قتل کیس میں سزا دلوا دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ اس کے لیے ناقابل برداشت ہوتا ہے اور وہ عین تختہ دار پر کھڑا ہو کر مالک دوجہاں سے التجا کرتا ہے، اسے پھر سے حیوان ؒبنادے۔ 

اس کی دعا قبول ہوتی ہے اور وہ پھر سے گدھا بن جاتا ہے۔ انسان اور گدھے کی یہ تمثیل ہمارے ہشت پہلو فن کار رنگیلا نے کمال مہارت سے نبھائی۔اس فلم میں غریب جانور ’’گدھے‘‘ پر فوکس کیا گیا اور اس دل چسپ تجربے کو فلمی حلقوں میں خاصی پذیرائی ملی ۔ ایس اے حافظ نے 1976میں جب ’’راجا جانی‘‘ بنائی تو کہانی کے مطابق ایک کُتے کو بھرپور کردار میں پیش کیا گیا۔ یہ کُتا بھولے بھالے راجا کا پروردہ ہوتا ہے۔ 

راجا کی معذور بہن شازیہ کی عصمت شہر کے بدقماش لوگوں سے بچاتا ہے اور فلم کے کلائمکس سین میں جب دو ہم شکل راجا اور جانی میں شناخت کرنے کا مرحلہ آتا ہے کہ دونوں میں جرائم پیشہ اسمگلر جانی کون ہے اور راجا کون؟ تو عدالت کے روبرو راجا کا وفادار یہ موتی کتا ہی جانی کو دیکھ کر زور سے غراتا ہے اور راجا کے قریب جا کر بیٹھ جاتا ہے۔ فلم کا ایک منظر کُتے کی پرفارمنس کے تناظر میں بہ طور خاص قابل ذکر ہے کہ جانی کے حکم پر جانی کے کچھ ساتھی راجا کے اس وفادار موتی کُتے کو ٹھکانے لگانے کی غرض سے اس پر فائر کرتے ہیں۔ 

کتا گرتا ہے اور دم سادھ کر یوں پڑ جاتا ہے کہ جیسے مر چکا ہو۔ جانی کے ساتھی مطمئن ہو کر واپس لوٹ جاتے ہیں اور موتی کچھ دیر بعد آنکھیں کھول کر دیکھتا ہے کہ یہ خطرہ ٹل گیا ہے، تو وہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اس طرح کی اور بھی کئی فلمیں ہیں، جن میں جانوروں سے فلموں کے ہدایت کاروں نے عمدہ کام لیا۔
بشکریہ جنگ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

فلموں میں جانوروں کی دل چسپ پرفارمنس !!
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  12908
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
کورونا وائرس سے بچنے کے لیے ہاتھ کس طرح دھوئیں۔ یونیسیف کی ” ہینڈ واش ڈانس “ ویڈیو وائرل ہوگئی
عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ چوہوں کو پکڑنا بلیوں کی فطرت ہے۔ حقیقت میں بلیاں چوہے پکڑنے کے معاملے میں کتوں سے کہیں زیادہ سست ہیں۔
ﺍﯾﮏ ﻃﻮﻃﺎ ﻃﻮﻃﯽ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﺍﯾﮏ ﻭﯾﺮﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﮨﻮﺍ ، ﻭﯾﺮﺍﻧﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻃﻮﻃﯽ ﻧﮯﻃﻮﻃﮯ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ” ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﮔﺎﺅﮞ ﮨﮯ، ?. “ﻃﻮﻃﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﺴﯽ ﺍﻟﻮ ﮐﺎ ﮔﺰﺭ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ “ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﻃﻮﻃﺎ ﻃﻮﻃﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ، ﻋﯿﻦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﮏ ﺍﻟّﻮ
یہ انوکھا واقعہ بھارت کے شہر بجنور میں پیش آیا۔ بارات تاخیر سے لانے پر دلہن کے رشتے داروں نے دلہا سمیت تمام باراتیوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر پولیس کے حوالے کر دیا جبکہ دلہن نے اپنا نیا جیون ساتھی ڈھونڈ لیا۔

مزید خبریں
نیویارک میں ایک کمپنی نے ایک ایسا کام کرنے کے لیے بازار میں بوتھ بنادیا ہے جس کا سن کر ہی انسان شرم سے پانی پانی ہو جائے۔ اس کمپنی نے مردوں کو خودلذتی کا موقع فراہم کرنے کے لیے بازار کے بیچ یہ بوتھ بنایا ہے

مقبول ترین
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ قطر نے عالمی وباء کورونا وائرس کے سبب ترقی یافتہ ممالک سے ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کو ری اسٹرکچر کرنے کی وزیراعظم عمران خان کی تجویز کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔
ملی یکجہتی کونسل کی تمام رکن جماعتوں کے قائدین، علماء کرام اور دینی راہنمائوں نے کرونا وائرس کے پھیلائو سے پیدا ہونے والی صورت حال پر مندرجہ ذیل اعلامیہ جاری کیا ہے: کرونا وائرس اس وقت تمام دنیا میں پھیل چکا ہے اور ساری انسانیت اس کی وجہ سے پریشانیوں اور مشکلات کا شکار ہے، اموات، تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہیں اوردنیا میں خوف کی ایک فضا قائم ہے۔
کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ملک بھر کے تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔اور دوسری جانب ایچ ای سی نے طلبہ کے وقت کے ضیاع کو بچانے کےلیے آن لائن ایجوکیشن سسٹم کو متارف کروایا ہےمگر طلبہ نے اس آن لائن سسٹم پر سخت رد عمل کا مظاہرہ کیاہے۔
ملک بھر میں کورونا وائرس کے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 252 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد2291 ہو گئی جبکہ اس وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 33 ہو چکی ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں