Thursday, 14 December, 2017
عالمی برادری کی یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کی مذمت

عالمی برادری کی یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کی مذمت

واشنگٹن ۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان،سعودی عرب، فلسطین، اردن، مراکش،ترکی، مصر اور عرب لیگ کے علاوہ یورپی یونین اور امریکی محکمہ خارجہ کے کئی عہدیداروں نے سفارتخانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کی مخالفت کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گرتیرس نے یروشلیم پر اسرائیلی حاکمیت کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے اقدام کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انتونیو گتریس نے اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یروشلم کے تنازع کو ہر صورت اسرائیل اور فلسطینیوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے میں روز اوّل سے مسلسل کسی بھی ایسے یکطرفہ حل کے خلاف بات کرتا رہا ہوں جس سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے امکانات کو زِک پہنچ سکتی ہے۔

نئے امریکی صدر سے بڑھتی ہوئی قربت کے باوجود سعودی عرب کی جانب سے جاری کیے گئے شاہی بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ 'بلاجواز اور غیر ذمہ دارانہ' ہے اور 'یہ فلسطینی عوام کے حقوق کے منافی' ہے۔ سعودی فرماں روا شاہ سلمان کا صدر ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران کہنا تھا کہ یہ ایک خطرناک اقدام ہوگا جس سے دنیا بھر میں اشتعال پھیلے گا۔

دوسری جانب ایران نے بھی صدر ٹرمپ کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے 'اسرائیل کے خلاف ایک اور انتفادہ شروع ہو سکتی ہے۔ یہ اشتعال انگیز اور غیر دانشمندانہ فیصلہ سخت اور پرتشدد ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔ ‘

متعدد عرب اور مسلم ممالک نے متوقع فیصلے کی مخالفت کی ہے، عراق کے وزیراعظم حیدرالعبادی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی فیصلے سے مشرق وسطیٰ کے استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر کے اس فیصلے پر کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے شرمناک اور ناقابل قبول اقدامات نے امن کی تمام کوششوں کو کمزور کر دیا ہے۔

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے دو ریاستی حل کی امید کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

حال ہی میں سعودی عرب میں اپنے استعفے کا اعلان کرنے کے بعد رواں ہفتے اسے واپس لینے والے لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری نے کہا کہ 'ہمارا ملک بھرپور طریقے سے فلسطینیوں کے ساتھ اپنے حمایت کا اعلان کرتا ہے اور ان کا علیحدہ ملک جس کا دارالحکومت یروشلم ہو، قائم کرنے کے مطالبے کا ساتھ دیتا ہے۔' امریکی فیصلے سے خطے میں خطرات کا اضافہ ہو گا۔

مصر نے امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے۔ مصر کے صدارتی محل سے جاری بیان کے مطابق صدر عبدالفتاح السیسی نے امریکی صدر ٹرمپ سے فون پر رابطہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس اقدام کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔

اردن نے ٹرمپ کے فیصلے کو بین الاقوامی اصول کے منافی قرار دیا ہے۔ ادرن کی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہےکہ امریکی صدر کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور وہاں اپنا سفارت خانہ منتقل کرنا بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔‘

ترکی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا  کہ ہم امریکی انتظامیہ کے اس غیر ذمہ دار بیان کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ بین الااقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے خلاف ہے۔' ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ بیت المقدس کا مسئلہ نہایت اہم ہے،  بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا نتیجہ انقرہ کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع ہونے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ادھرترکی کے دارالحکومت استنبول میں واقع امریکہ قونصل خانے کے باہر لوگوں نے مظاہرے کیے جبکہ تیونس میں تمام بڑی لیبر یونینز نے مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب فرانس اور جرمنی نے بھی امریکی سفارت خانے کی منتقلی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے،   یورپ کے دوسرے ممالک کی طرح جرمنی سے بھی امریکی فیصلے کی مذمت سامنے آئی ہے جب جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے ترجمان کے ذریعے پیغام جاری کیا جس میں انھوں نے واضح طور پر کہا کہ 'صدر ٹرمپ کے فیصلے کی قطعی حمایت نہیں کرتیں۔ یروشلم کے رتبے کے بارے میں فیصلہ صرف دو ریاستوں پر مبنی حل کے تحت ہو سکتا ہے۔ جبکہ جرمن وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاملہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان طے ہونا چاہئے۔

فرانسیسی صدر نے ٹرمپ کے اعلان کے رد عمل پر کہا کہ وہ امریکہ کے یکطرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے جس میں اس نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔ یہ فیصلہ افسوسناک ہے جس کو فرانس قبول نہیں کرتا اور یہ فیصلہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف جاتا ہے۔

یورپی یونین کی فارن پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مگیرینی نے صدر ٹرمپ کے اقدام پر’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا ہے. فیڈریشنیکا مگیرینی نے کہا کہ یروشلم کے بارے فریقین کی خواہشات کو پورا کیا جانا نہایت ضروری ہے اور مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہر صورت مذاکرات کا راستہ ڈھونڈنا چاہیے۔‘

برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔ ٹریزا مے کے ایک ترجمان کا کہنا تھا ’ہم امریکہ کے فیصلے سے متفق نہیں ہیں کہ وہ اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرے اور یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر نے بدھ کی رات وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ اقدام امریکہ کے بہترین مفاد اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیامِ امن کے لیے ضروری تھا۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  76750
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
عالمی پس منظر میں فوج کی ثالثی انتہائی ضروری تھی۔ پورے پاکستان میں مزہبی جماعتوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر پرتشدد کاراوائیوں اور سارے پاکستان میں طویل ترین دھرنوں کی وجہ سے عالمی برادری میں پاکستان
کاتالونیا کے آزادی ریفرنڈم میں 90 فیصد ووٹرز نے اسپین سے آزادی کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے ۔ ووٹرز ٹرن آؤٹ 42.3 فیصد رہا جبکہ اس دوران پرتشدد واقعات میں 800 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ جبکہ ہسپانوی وزیراعظم نے ریفرنڈم تسلیم کرنے سے ہی انکار کردیا ہے۔
عالمی عدالت انصاف کلبھوشن یادیو کی پھانسی کے معاملے میں بھارتی درخواست پر فیصلہ آج سنائے گی۔ میڈیا کے مطابق عالمی عدالت انصاف بھارت کی جانب سے کلبھوشن یادیو کی پھانسی روکنے کی درخواست پر آج دوپہر 3 بجے فیصلہ سنائے گی
عالمی عدالت انصاف بھارتی خفیہ ایجنسی را کے دہشتگرد کلبھوشن یادیو کے حوالے سے دائر بھارتی درخواست پر کل اپنا فیصلہ سنائے گی . کیس کا فیصلہ عالمی عدالت کے جج رونی ابراہم نیندر لینڈ کے مقامی وقت کے مطابق دن 12 بجے جبکہ پاکستانی معیاری وقت کے سہ پہر 3 بجے سنائیں گے۔

مزید خبریں
پال ریان نے امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر کا عہدہ سنبھال لیا اور امریکا کی تاریخ کے سب سے کم عمر اسپیکر بن گئے۔ پال ریان نے ایوان نمائندگان میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا جس کے بعد سابق اسپیکر نینسی پلوسی نے انھیں روایتی موگری پیش کی
عراق میں یزیدی فرقے کے گم شدہ افراد اور داعش کے ہاتھوں یرغمال افراد کی تلاش میں سرگرم ادارے کی جانب سے بتایا گیا ہے دولت اسلامی’’داعش‘‘ کے ہاں اب بھی یزیدی فرقے کی تین ہزار خواتین قید ہیں۔ میڈیا کے مطابق عراق کی دھوک گورنری
کیتھولک عیسائیوں کے پیشوا پوپ فرانسس نے پادریوں کی جانب سے بچوں سے زیادتی پر معذرت کی ہے،انہوں نے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ،چرچ بچوں کے تحفظ کیلئے زیادہ سخت اقدامات کرے۔
موجودہ صدر حامد کرزئی دو مرتبہ صدر منتخب ہو چکے ہیں اور آئینی تقاضوں کے مطابق تیسری مرتبہ امیدوار نہیں ہو سکتے تھے۔ طالبان نے کئی ہفتے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ افغان شہری انتخابی مراکز کا رخ نہ کریں اور انتخابی عمل کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور حملے کیے جائیں گے۔

مقبول ترین
راولپنڈی۔ پاک فوج فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے حق میں ہے جب کہ قیام امن کے لئے قبائلی عوام کی قربانیاں رنگ لارہی ہیں، ان خیالات کا اظہار پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے قبائلی عمائدین اور یوتھ جرگہ کے
بغداد۔ عراق میں داعش کو شکست دینے کے بعد امریکی فوج سمیت دیگرممالک کی افواج کی موجودگی کے سخت مخالف ہیں، ان خیالات کا اظہار تحریک عصائب اہل الحق کے سربراہ نے شیخ قیس خزعلی نے ذرائع ابلاغ
پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ حکومت ناموس رسالت سے متعلق قوانین میں تبدیلی سے باز رہے۔ ختم نبوت اور ناموس رسالت ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے۔ حکومت نے الیکشن قوانین کی آڑ میں ختم نبوت کے معاملہ میں چھیڑ چھاڑ کی
اسسٹنٹ کمشنر کھاریاں اویس منظور تارڑنے کہا ہے کہ شمسہ ویلفیئر فاونڈیشن جس اچھے ، منفرد اور منظم انداز میں خواتین کی پسماندگی اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئےجو کام کررہی ہےوہ قابل تحسین ہے۔ شمسہ ویلفیئر فاونڈیشن جیسے ادارے ہمارے ملک کے لئے بہت بڑی نعمت ہیں۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں