Wednesday, 18 September, 2019
امریکہ: منظور شدہ بل میں پاکستان کے70 کروڑ ڈالر شامل

امریکہ: منظور شدہ بل میں پاکستان کے70 کروڑ ڈالر شامل

واشنگٹن ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 700 ارب ڈالر کے دفاعی بل پر دستخط کردیئے، جس میں افغانستان میں امریکی فوجی آپریشن کی حمایت پر پاکستان کو 70 کروڑ ڈالر بھی دیئے جائیں گے۔

امریکی صدر نے گذشتہ روز ملک کے وسیع دفاعی پالیسی کے بل پر دستخط کیے، جس میں شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے میزائل ڈیفنس پروگرامز پر اضافی اخراجات کی منظوری شامل ہے۔

امریکی کانگریس کی جانب سے گزشتہ ماہ نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن ایکٹ 2018 کو منظور کیا گیا تھا، ساتھ ہی کولیشن سپورٹ فنڈ (سی ایس ایف) کی مد میں پاکستان کو 70 کروڑ ڈالر دینے کی بھی منظوری دی گئی تھی تاہم اس امداد کی آدھی رقم مشروط ہے اور یہ اس وقت جاری کی جائے گی جب امریکی سیکریٹری دفاع اس بات کی منظوری دیں گے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف واضح اقدامات کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی سیکریٹری دفاع ایسٹن کارٹر اور جیمز میٹس نے گزشتہ دو بجٹس میں انتظامیہ کو پاکستان کی امداد روکنے کے لیے اس طرح کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔

گذشتہ روز دستخط کیے جانے والے بل جو اب قانونی شکل اختیار کرگیا ہے، اس میں کانگریس کی جانب سے پابندیاں بھی شامل ہیں جبکہ اب تک اس بات کا بھی کوئی اشارہ نہیں ہے کہ امریکا کے سیکریٹری جیمز میٹس پاکستان کو درکار سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں یا نہیں۔

قانون میں پینٹاگون کو واشنگٹن کے سیکیورٹی مشاورت کی ضرورت ہے کہ وہ اس بات کا یقین کرسکے کہ پاکستان اس رقم کو دہشت گرد گروپوں کی مدد کے لیے استعمال تو نہیں کر رہا۔

بل کے پہلے ورژن میں سیکریٹری دفاع سے پوچھا گیا تھا کہ وہ واضح کریں کہ پاکستان نے اپنی وابستگی ظاہر کرتے ہوئے حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ کو پاکستانی علاقوں کو محفوظ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کرنے سے روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے۔

تاہم جب امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ نے نیشن ڈیفنس اتھارائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) 2018 کا مشترکہ ورژن جاری کیا تو اس میں انہوں نے اس فہرست سے لشکر طیبہ کا نام خارج کردیا تھا اور صرف حقانی نیٹ ورک پر توجہ مرکوز کردی تھی۔

یہ پہلا اشارہ تھا کہ اگر اسلام آباد، کابل میں مدد کرنے پر راضی ہوتا ہے تو امریکا، پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات میں لچک دکھا سکتا ہے۔

موجودہ قانون کے مطابق امریکی سیکریٹری اس بات کا اعلان کریں کہ افغان سرحد پر دہشت گردوں کی نقل و حمل محدود کرنے کے لیے پاکستان، افغانستان کے ساتھ کر رہا ہے اور حقانی نیٹ ورک کے سینئر اور رہنماؤں اور کارندوں کو گرفتار کرنے کے لیے بھی پیش رفت کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ورژن میں لشکر طیبہ کے لیے بھی اسی طرح کا اعلان کا کیا گیا تھا لیکن موجودہ قانون میں ایسا نہیں ہے۔

این ڈی اے اے 2018 میں پاکستان میں موجود مسیحی، ہندو، احمدیوں، سندھیوں، ہزارہ اور بلوچوں سمیت مختلف سیاسی و مذہبی گروہوں کے خلاف مبینہ سازش پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

قانون میں اس بات پر زور دیا گیا کہ امریکی سیکریٹری دفاع اس بات کو یقینی بنائیں کہ امریکا کی جانب سے دی گئی کسی بھی امداد کو پاکستان ان اقلیتی گروپوں کو تنگ کرنے کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  21272
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ متنازعہ علاقہ ہے، سلامتی کونسل نے فیصلہ سنا دیا، پاکستان کی خصوصی درخواست پر بلائے گئے اجلاس میں مستقل اور غیر مستقل اراکین نے کشمیر کی موجودہ صورتحال کو تشویش ناک قرار دیا اور مسئلے
عالمی بینک کے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (اکسڈ) نے ریکوڈک ہرجانہ کیس میں پاکستان پر تقریباً 6 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا۔ پاکستان کو ہرجانے کی رقم چلی اور کینیڈا کی مائننگ کمپنی ٹیتھیان کو ادا کرنا ہوگی۔
فرانس کے جنوبی شہر مارسیلی میں واقع مسجد ’السنہ‘ کے امام مسجد کوعدالت نے لوگوں میں اشتعال انگیزی پھیلانے اور شدت پسندانہ نظریات کی حوصلہ افزائی کرنے کا مرتکب قرار دیا۔
لندن ۔ ایک برطانوی تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ امریکہ اورسعودی عرب کی جانب سے شام میں حکومت مخالف مسلح گروہوں کو فراہم کیا جانے والا اسلحہ عموماً شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ہاتھوں میں گیا۔

مقبول ترین
قومی احتساب بیورو نے پیپلزپارٹی کے اہم رہنما خورشید شاہ کو اسلام آباد سے گرفتار کرلیا۔ ترجمان نیب کے مطابق پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کو گرفتار کرلیا گیا، خورشید شاہ کو سرکاری پلاٹوں پر قبضے، آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام میں گرفتار
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی تیل تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ جنگ نہ کرنے عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی کبھی امریکا نے سعودی عرب سے اس کی حفاظت کرنے کا وعدہ نہیں کیا۔ برطانوی خبر
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ احتساب کا عمل سیاسی مداخلت سے آزاد ہے لہذا کوئی ڈیل نہیں ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان سے بابر اعوان نے ملاقات کی جس میں حکومت کے آئینی اور قانونی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا
وفاقی حکومت کی معاشی ٹیم نے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) اور اسٹیٹ لائف انشورنس کی نجکاری کا اشارہ دے دیا۔ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں