Wednesday, 18 September, 2019
سعودی عرب نے امریکہ کو اثاثے فروخت کرنے کی دھمکی دے دی

سعودی عرب نے امریکہ کو اثاثے فروخت کرنے کی دھمکی دے دی

ریاض ۔ سعودی حکومت نے اوباما انتظامیہ کو دھمکی دی ہے کہ اگر سعودی عرب کو گیارہ ستمبر کے حملوں کا ذمہ دار قرار دینے کیلئے قانون سازی کی گئی تو سعودی عرب امریکا میں موجود اپنے اربوں ڈالر کے اثاثے فروخت کر دے گا۔ سعودی عرب اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 

امریکی کانگریس کی جانب سے سعودی عرب کیخلاف ممکنہ قانون سازی کے خدشے پر سعودی حکومت شدید رد عمل دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق گزشتہ کئی ہفتوں سے اوباما انتظامیہ کانگریس کے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن ارکان کو قائل کرنے میں مصروف ہے کہ وہ کانگریس میں اس قسم کے بل کو روکنے کی کوشش کریں۔ 

اس کے علاوہ کچھ عرصے سے سعودی عرب کے حوالے سے امریکی دفتر خارجہ اور وزارت دفاع کے حکام اور کانگریس کے درمیان بھی بہت لے دے ہو رہی ہے۔ خارجہ اور دفاعی امور کے سینئر حکام نے دونوں جماعتوں کے اراکین سینیٹ کو خبرادر کیا ہے کہ اگر سعودی عرب کے خلاف کسی قسم کی قانون سازی ہوتی ہے تو امریکہ کے لیے سفارتی اور معاشی حوالے سے اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ 

سعودی حکومت کی جانب سے یہ پیغام ذاتی طور پر وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اس وقت پہنچایا تھا جب وہ گزشتہ ماہ واشنگٹن گئے تھے۔ انھوں نے کانگریس کے ارکان کو بتایا تھا کہ اگر سعودی عرب کو محسوس ہوا کہ کسی نئے قانون کے تحت امریکہ میں موجود سعودی اثاثوں کو منجمند کیا جا سکتا ہے تو سعودی عرب یہ اثاثے فروخت کرنے پر مجبور ہو جائیگا۔ 

اس وقت امریکہ میں سعودی عرب کے 750 ارب ڈالر امریکی خزانے کی سکیوریٹیز کی شکل میں موجود ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اس قسم کا کوئی قدم نہیں اٹھائیگا کیونکہ ایسا کرنا اس کے لیے آسان نہیں ہوگا کیونکہ اس سے سعودی عرب کی اپنی معشیت بہت خراب ہو جائے گی، تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب کی جانب سے امریکہ کو اس قسم کی دھمکی سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور تناؤ کی کیفیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 

اوباما انتظامیہ کا موقف ہے کہ اس قسم کی قانون سازی سے ان امریکیوں کو خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے جو ملک سے باہر ہیں۔ اسی لیے سرکاری حکام بڑی شد و مد سے کانگریس کے ارکان کو سعودی عرب کے خلاف کوئی بِل پاس کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اوباما انتظامیہ کی جانب سے یہ پسِ پردہ کوششیں اتنی زیادہ ہوئی ہیں کہ کچھ ارکان اور گیارہ ستمبر کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اوباما انتظامیہ پر خاصے برہمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ 

اس حلقے کا خیال ہے کہ اوباما انتظامیہ مسلسل سعودی عرب کی حمایت کر رہی ہے حالانکہ ان کے خیال میں گیارہ ستمبر کے دہشتگردی کے حملوں میں کچھ سعودی حکام نے کراد ر ادا کیا تھا۔ 

یاد رہے کہ سعودی حکام ایک عرصے سے اس الزام سے انکار کرتے آ رہے ہیں کہ گیارہ ستمبر کے حملوں میں سعودی عرب کا کوئی کردار تھا۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  41346
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی تیل تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ جنگ نہ کرنے عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی کبھی امریکا نے سعودی عرب سے اس کی حفاظت کرنے کا وعدہ نہیں کیا۔ برطانوی خبر
سعودی فرماں روا شاہ سلمان نے خطے میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر امریکی فوجی دستوں کی سعودی عرب میں تعیناتی کی اجازت دے دی۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خلیجی ریاستوں کو درپیش
جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق اقوام متحدہ کی تشکیل کردہ ٹیم کی جانب سے جاری کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور دیگر سینئر سعودی عہدیدار صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔
لندن ۔ ایک برطانوی تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ امریکہ اورسعودی عرب کی جانب سے شام میں حکومت مخالف مسلح گروہوں کو فراہم کیا جانے والا اسلحہ عموماً شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ہاتھوں میں گیا۔

مقبول ترین
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی تیل تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ جنگ نہ کرنے عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی کبھی امریکا نے سعودی عرب سے اس کی حفاظت کرنے کا وعدہ نہیں کیا۔ برطانوی خبر
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ احتساب کا عمل سیاسی مداخلت سے آزاد ہے لہذا کوئی ڈیل نہیں ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان سے بابر اعوان نے ملاقات کی جس میں حکومت کے آئینی اور قانونی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا
وفاقی حکومت کی معاشی ٹیم نے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) اور اسٹیٹ لائف انشورنس کی نجکاری کا اشارہ دے دیا۔ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی
خیبر پختون خوا میں فائرنگ سے پاک فوج کے 4 جوان شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق مغربی سرحد پر دو واقعات میں پاک فوج کے 4 جوان شہید ہوگئے۔ شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں