Friday, 18 October, 2019
اقوام متحدہ نے سعودی ولی عہد کو خاشقجی قتل کا ذمہ دار قرار دے دیا

اقوام متحدہ نے سعودی ولی عہد کو خاشقجی قتل کا ذمہ دار قرار دے دیا

جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق اقوام متحدہ کی تشکیل کردہ ٹیم کی جانب سے جاری کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور دیگر سینئر سعودی عہدیدار صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔

برطانوی خبررساں ادارے ' رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے ارسال کی گئی 100 صفحات پر مبنی رپورٹ پر ریاض کی جانب سے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا لیکن سعودی عرب نے صحافی کے قتل میں ولی عہد کے ملوث ہونے کے امکان کو مسترد کیا ہے۔

ماورائے عدالت قتل سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر اور تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ اگنیس کیلامارڈ نے مختلف ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد جب تک یہ ثابت نہیں کردیتے کہ وہ جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ دار نہیں، سعودی عرب پر عائد کی گئی پابندیوں میں توسیع کرتے ہوئے ولی عہد اور ان کے ذاتی اثاثوں کو بھی پابندی کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

اگنیس کیلامارڈ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ جمال خاشقجی دانستہ، منصوبہ بندی کے تحت ماورائے عدالت قتل کا شکار ہوئے ہیں عالمی انسانی حقوق کے قانون کے تحت جس کا ذمہ دار سعودی عرب ہے۔ رواں برس کے آغاز میں اگنیس کیلامارڈ نے فرانزک اور قانونی ماہرین پر مشتمل ٹیم کے ہمراہ ترکی کا دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ انہوں نے ترک حکام سے شواہد حاصل کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ' قابل اعتماد شواہد موجود ہیں جو اعلیٰ سطح کے سعودی حکام سمیت ولی عہد کی قتل کی شمولیت سے متعلق مزید تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں'۔

اگنیس کیلامارڈ نے مزید کہا کہ ' انسانی حقوق کی ٹیم کی انکوائری سے ظاہر ہوتا ہے کہ ولی عہد کے ذمہ دار ہونے سے ٹھوس اور قابل اعتماد شواہد موجود ہیں جو مزید تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں'۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے عالمی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ماہر اگنیس کیلامارڈ کی جانب سے یہ رپورٹ 26 جون کو پیش کی جائے گی۔ خیال رہے کہ انسانی حقوق کونسل کے 47 رکن ممالک میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔

جمال خاشقجی کا قتل: کب کیا ہوا؟
سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک برس سے امریکا میں مقیم تھے۔

تاہم 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔

صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا۔

تاہم ترک حکام نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔ سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔

تاہم 12 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے 5 شاہی خاندان کے افراد گزشتہ ہفتے سے غائب ہیں۔

اس کے بعد جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے براہِ راست ملاقات بھی کی تھی۔ 17 اکتوبر کو جمال خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا۔

دریں اثنا 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کردیا گیا۔

علاوہ ازیں امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل طاقتور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر ہوا۔

مزید برآں گزشتہ سال دسمبر میں امریکی سینیٹ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے سے متعلق قرارداد منظور کی جس میں سعودی حکومت سے جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ داران کا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ نے جمال خاشقجی کے قتل کی تفتیش کے لیے 3 رکنی ٹیم تشکیل دی تھی اور اس ٹیم کی سربراہ نے جمال خاشقجی کے قتل کے الزام میں گرفتار مشتبہ ملزمان کی خفیہ سماعت کو عالمی معیار کے خلاف قرار دیتے ہوئے اوپن ٹرائل کا مطالبہ کیا تھا۔

دوسری جانب سعودی ولی عہد، جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے اپنے خلاف الزامات کو مسترد کرچکے ہیں، انہوں نے کئی بار ان الزامات کو سیاسی اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں خاشقجی کے قتل کا مقدمہ زیر سماعت ہے تاہم اس کی زیادہ تفصیلات میڈیا کو میسر نہیں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  18920
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ وہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں کیونکہ یہ واقعہ ان کے دورِ اقتدار میں ہوا ہے۔ ’دی کراؤن پرنس آف سعودیہ عربیہ‘ کے نام سے بننے والی دستاویزی فلم کے پری ویو
امریکا نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں فوجیں بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع ’پینٹاگون‘ کے صدر دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا کہ امریکی صدر نے سعودی عرب میں اضافی فوجی
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی تیل تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ جنگ نہ کرنے عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی کبھی امریکا نے سعودی عرب سے اس کی حفاظت کرنے کا وعدہ نہیں کیا۔ برطانوی خبر
سعودی فرماں روا شاہ سلمان نے خطے میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر امریکی فوجی دستوں کی سعودی عرب میں تعیناتی کی اجازت دے دی۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خلیجی ریاستوں کو درپیش

مقبول ترین
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو’ڈیزل‘ کے بغیر چل رہی ہے اگر فضل الرحمان کے لوگ میرٹ پر ہوئے تو انہیں بھی قرضے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کے لیے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کا افتتاح کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اورتین گورنرز نے شرکت کی۔ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ نوکریاں حکومت نہیں نجی سیکٹر دیتا ہے یہ نہیں کہ ہر شخص سرکاری نوکر ی ڈھونڈے ، حکومت تو 400 محکمے ختم کررہی ہے مگرلوگوں کا اس بات پر زور ہے کہ حکومت نوکریاں دے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پاکستان اور

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں