Thursday, 22 August, 2019
’’سعودی عرب میں امریکی فوج کی تعیناتی کی اجازت‘‘

’’سعودی عرب میں امریکی فوج کی تعیناتی کی اجازت‘‘

ریاض / واشنگٹن ۔ سعودی فرماں روا شاہ سلمان نے خطے میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر امریکی فوجی دستوں کی سعودی عرب میں تعیناتی کی اجازت دے دی۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خلیجی ریاستوں کو درپیش سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے خطے کے تحفظ اور پائیدار امن کے لیے امریکی فوجیوں کی آمد اور تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی جانب سے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے جاری بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور امریکا طویل عرصے سے قائم مستحکم تعلقات کو خطے میں جنگ کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے استعمال کریں گے۔

امریکی افواج سعودی عرب میں پہلے بھی کئی بار تعینات رہی ہیں اور 2003 میں عراق جنگ ختم ہونے پر سعودی عرب سے روانہ ہوگئی تھیں۔ اس کے بعد سعودی عرب میں امریکی افواج کی تعیناتی کا اب یہ پہلا موقع ہوگا۔

دوسری جانب امریکی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی دستے، جنگی ساز و سامان اور وسائل سعودی عرب بھیجے جائیں گے جو مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خطرات اور امن دشمنوں کو مذموم اقدامات سے باز رکھیں گے تاکہ خطے کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایک ماہ قبل خلیج عمان میں امریکا کے لیے تیل لے جانے والے سعودی بحری جہازوں اور سعودی آئل پمپنگ اسٹیشن پر حملوں کے بعد امریکا اور سعودی عرب کے درمیان اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی تعاون پر اتفاق کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ عالمی جوہری معاہدے سے امریکا کی دستبرداری کے بعد پیدا ہونے والا تناؤ گھمبیر صورت اختیار کر گیا ہے اور مشرق وسطیٰ کے پانیوں پر جنگ کا سا سما ہے جہاں ایک جانب امریکی جنگی بیڑہ لڑاکا طیاروں سے لیس کھڑا ہے تو دوسری جانب ایران کے انقلاب پاسداران کی کشتیاں، ہیلی کاپٹر اور ڈرون کی نقل وحرکت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  57543
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ متنازعہ علاقہ ہے، سلامتی کونسل نے فیصلہ سنا دیا، پاکستان کی خصوصی درخواست پر بلائے گئے اجلاس میں مستقل اور غیر مستقل اراکین نے کشمیر کی موجودہ صورتحال کو تشویش ناک قرار دیا اور مسئلے
جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق اقوام متحدہ کی تشکیل کردہ ٹیم کی جانب سے جاری کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور دیگر سینئر سعودی عہدیدار صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔
فرانس کے جنوبی شہر مارسیلی میں واقع مسجد ’السنہ‘ کے امام مسجد کوعدالت نے لوگوں میں اشتعال انگیزی پھیلانے اور شدت پسندانہ نظریات کی حوصلہ افزائی کرنے کا مرتکب قرار دیا۔
لندن ۔ ایک برطانوی تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ امریکہ اورسعودی عرب کی جانب سے شام میں حکومت مخالف مسلح گروہوں کو فراہم کیا جانے والا اسلحہ عموماً شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ہاتھوں میں گیا۔

مقبول ترین
ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان آرمی کے زبردست سپہ سالار ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید 3 سال کیلئے آرمی چیف مقرر کیا تھا۔ اس حوالے سے پاکستان کے دیرینہ دوست
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سفاک مودی سرکار تمام انسانی و بین الاقوامی قوانین و ضوابط روند رہی ہے اور کشمیریوں کو نشانہ ستم بنانے کی تیاریوں میں ہے۔ میڈیا کے مطابق تحریک انصاف نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے اور اہل کشمیر
پاک فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اور سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا منہ توڑ جواب دیا جس کے نتیجے میں ایک افسر سمیت 6 بھارتی فوجی ہلاک اور 2 بنکرز تباہ ہوگئے۔
پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ میڈیا کے مطابق آئندہ ماہ جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن اجلاس بلانے کیلئے وزارت خارجہ نے تیاری شروع کر دی ہے اور اس سلسلے میں سابق سیکرٹری

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں