Wednesday, 23 September, 2020
شام بحران؛ ایران، روس اور ترکی کے وزرائے خارجہ کے مابین مشاورت

شام بحران؛ ایران، روس اور ترکی کے وزرائے خارجہ کے مابین مشاورت

ایران، روس اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے شام کے بحران کے حل کے لئے تینوں ممالک کے درمیان اعلی سطح پر مستقل مشاورت اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔

تفصیلات کے مطابق اس بات پر اتفاق رائے ایران، روس اور ترکی کے وزرائے خارجہ کے درمیان شام کی تازہ ترین صورتحال سے متعلق ویڈیو کانفرنس میں کیا گیا۔ اس اجلاس میں شریک محمد جواد ظریف، مولود چاووش اوغلو اور سرگئی لاوروف نے ادلب کے علاقے کی تازہ ترین صورتحال، شام کی آئین ساز کمیٹی، کورونا وائرس کے بحران کے دوران یکطرفہ پابندیوں کی منسوخی کی ضرورت، پناہ گزینوں کی وطن واپسی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر بات چیت کی۔

اس موقع پر تینوں وزرائے خارجہ نے شام کی آزادی، قومی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کے ساتھ ہی شام کے بحران کے سیاسی تصفیہ اور حزب اختلاف سے دہشت گردوں کو الگ کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

اس کے علاوہ فریقین نے شام کے بحران  کے حل کے لئے تینوں ممالک کے مابین اعلی سطح پر مشاورت کے عمل کو جاری رکھنے اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر ایران کے وزیر خارجہ نے ادلب کی حالیہ صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حکومت کی خود مختاری ، علاقائی سالمیت  اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

جواد ظریف نے صیہونی حکومت اسرائیل کی شام کے خلاف جاری جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے اسے شام کی قومی خود مختاری کی خلاف ورزی، خطے میں امن و استحکام کے لئے خطرہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ۔

یاد رہے کہ اس سے قبل شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں ترکی اور روس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پا یا تھا۔ روس کے صدر ولادی یر پوتن اور ترکی کے صدر رجب طیب ارودغان نے جمعرات کو روس کے دارالحکومت ماسکو میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

اس سے قبل روس، ترکی اور ایران کے نے شام کی جغرافیائی وحدت برقرار رکھنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کی جغرافیائی سالمیت باالخصوص گولان ہائیٹس کو برقرار رہنا چاہیے۔

واضح رہے کہ گذشتہ تین ماہ کےدوران شمال مغربی شام میں ایک ملین شہری جنگ کی وجہ سے نقل مکانی پرمجبور ہوئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  14129
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
برطانیہ، فرانس، جرمنی اور روس نے امریکی اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ سیکیورٹی کونسل میں شکست کھانے کے بعد امریکا نے ایران پر یکطرفہ طور پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ میڈیا کے مطابق سلامتی کونسل میں شکست کے بعد امریکا کی
اقوام متحدہ نے غاصب صیہونی حکومت اسرائیل کی جانب سے شام پر ہونے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ ادلب میں ہونے والی جنگ بندی کا خیر مقدم کرتی ہے۔
ایران، روس اور چین کی 3 روزہ مشترکہ بحری مشقیں بحیرہ عمان اور بحر ہند میں جاری ہیں. عالمی ڈرائع ابلاغ ان مشقوں کی اہمیت کے پیش نظر ان کو وسیع پیمانے پر کوریج دے رہے ہیں. مبصرین ایران، روس اور چین کی مشترکہ مشقوں کو علاقے
غیرملکی خبررسا ں ادارے کے مطابق اس تجربے کی تفصیلات مبہم ہیں تاہم وزارت مواصلات کے مطابق عام صارفین کو کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہوئی۔اب ان نتائج کو صدر پوتن کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

مزید خبریں
چینی دفترخارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک تاریخی مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں پر امن طریقے

مقبول ترین
انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے مجرموں رحمان بھولا اور زبیر چریا کو 264 ، 264 بار سزائے موت سنادی ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کی سماعت ہوئی جس میں رحمان بولا، زبیر چریا اور رؤف صدیقی
ایران نے کہا ہے کہ امریکا نے روایتی غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یک طرفہ طور پر اقوام متحدہ کی پابندیاں بحال کیں جس پر اُسے فیصلہ کن جواب دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر حسن روحانی نے ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں
وزیراعظم نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش تھی، عدالتوں اور فوج کو بدنام نہیں ہونے دیں گے۔ پاکستان کی مسلح افواج قومی سلامتی کی ضامن ہیں۔ ن لیگ نے ایک بار پھر بھارتی ایجنڈے کو فروغ دیا۔
عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ پاک فوج کا ملک میں کسی بھی سیاسی عمل سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق نہیں ہے۔ میڈیا کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی پارلیمانی رہنماؤں سے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں