Sunday, 18 February, 2018
’’انجیلا مرکل چوتھی بار جرمنی کی چانسلر منتخب‘‘

’’انجیلا مرکل چوتھی بار جرمنی کی چانسلر منتخب‘‘

برلن ۔ انجیلا مرکل انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے چوتھی بار جرمنی کی چانسلر منتخب ہوگئیں۔ میڈیا کے مطابق جرمنی میں ہونے والے فیڈرل الیکشن میں انجیلا مرکل کی سیاسی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین(سی ڈی یو) اور اس کی اتحادی جماعت کرسچین سوشل یونین نے مجموعی طور پر 32.5 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایگزٹ پول کے مطابق سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے 20 فیصد جب کہ مسلم مخالف دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹو فار جرمنی نے 13.5 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ ان انتخابات میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی مقبولیت میں سب سے زیادہ کمی واقع ہوئی حالانکہ وہ گزشتہ حکومت میں حکمراں جماعت کے ساتھ اتحادی تھی تاہم اب اسے اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنا ہوگا۔

انتخابات سے قبل توقع کی جارہی تھی کہ الٹرنیٹو فار جرمنی کو زیادہ ووٹ نہیں ملیں گے البتہ وہ تیسری بڑی جماعت بن کر ابھری جس کا مطلب یہ ہے کہ جرمن پارلیمنٹ میں اسے بھی پہلی بار نشست ملے گی۔ انتخابات کے حتمی نتائج آنے کے بعد انجیلا مرکل کو حکومت قائم کرنے کے لیے نئے اتحادیوں کی تلاش ہوگی اور اتحادی حکومت قائم ہونے میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔

وائس آف جرمنی کے مطابق کوئی نیا تجربہ نہیں، جرمنی سیاسی طور پر بھی ان انتخابات کے بعد ویسا ہی رہے گا، جیسا یہ پہلے تھا۔ ملک میں سیاسی، سماجی اور اقتصادی سطح پر سکون ہی رہے گا۔ ہلچل کہیں اور ہے، رجب طیب ایردوآن کے ترکی میں ہے، ٹرمپ کے آنے سے امریکا میں ہے، روس میں ہے اور یورپی یونین سے علیحدگی کی وجہ سے برطانیہ میں ہے۔ دہشت گردی اور عوامیت پسندی پھیل رہی ہے لیکن جرمنی میں پارلیمانی انتخابات نفسیاتی طور پر سکون کا باعث بنے ہیں۔

اب مزید چار برس تک انگیلا میرکل کی حکومت ہو گی۔ اس پروٹسٹنٹ مسیحی خاتون کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جو کام شروع کرتی ہیں، اسے ختم کر کے ہی دم لیتی ہیں۔ یہ جرمنی کی سب سے طویل مدت صدارت والی پہلی خاتون چانسلر ہونے کی وجہ سے پہلے ہی تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ انہیں کس کارنامے کی بنیاد پر تاریخ میں یاد رکھا جائے گا؟

سن دو ہزار پندرہ میں میرکل نے ایک ملین سے زائد مہاجرین کے لیے ملکی سرحدیں کھول کر سب کو حیران کر دیا تھا۔ عوامی جذبات اور غصے کے دوران بھی وہ اپنی پالیسی پر عمل پیرا رہیں۔ اپنے حلیفوں کے تمام تر دباؤ کے باجود انہوں نے مہاجرین کو قبول کرنے کی کوئی بالائی حد مقرر کرنے سے انکار کر دیا۔ اب انہیں اس مسئلے کو منظم طریقے سے حل کرنا ہوگا۔ جن مہاجرین کو سیاسی پناہ دی گئی ہے، ان کو معاشرے میں بہتر طریقے سے ضم کرنا اور جن کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں، انہیں واپس ان کے آبائی ملکوں میں بھیجنا ہوگا۔ یہ ایک طویل منصوبہ ثابت ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ انجیلا مرکل 2005 سے اب تک جرمنی کی چانسلر کے عہدے پر فائز ہیں اور انہیں دنیا کی طاقتور ترین خاتون کی فہرست میں بھی شامل کیا جاچکا ہے۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  35509
کوڈ
 
   
مزید خبریں
پال ریان نے امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر کا عہدہ سنبھال لیا اور امریکا کی تاریخ کے سب سے کم عمر اسپیکر بن گئے۔ پال ریان نے ایوان نمائندگان میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا جس کے بعد سابق اسپیکر نینسی پلوسی نے انھیں روایتی موگری پیش کی
عراق میں یزیدی فرقے کے گم شدہ افراد اور داعش کے ہاتھوں یرغمال افراد کی تلاش میں سرگرم ادارے کی جانب سے بتایا گیا ہے دولت اسلامی’’داعش‘‘ کے ہاں اب بھی یزیدی فرقے کی تین ہزار خواتین قید ہیں۔ میڈیا کے مطابق عراق کی دھوک گورنری
کیتھولک عیسائیوں کے پیشوا پوپ فرانسس نے پادریوں کی جانب سے بچوں سے زیادتی پر معذرت کی ہے،انہوں نے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ،چرچ بچوں کے تحفظ کیلئے زیادہ سخت اقدامات کرے۔
موجودہ صدر حامد کرزئی دو مرتبہ صدر منتخب ہو چکے ہیں اور آئینی تقاضوں کے مطابق تیسری مرتبہ امیدوار نہیں ہو سکتے تھے۔ طالبان نے کئی ہفتے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ افغان شہری انتخابی مراکز کا رخ نہ کریں اور انتخابی عمل کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور حملے کیے جائیں گے۔

مقبول ترین
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے منظم کیمپ پاکستان میں نہیں،افغانستان میں ان کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔ نجرمنی کے شہر میونخ میں میں عالمی سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان فخر
سابق صدر اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سابق ایس ایس پی راؤ انوار سے متعلق ریمارکس گفتگو کی روانی کے دوران ان کی زبان سے سہواً ادا ہوئے۔
سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ لودھراں کے عوام نے ثابت کردیا کہ فیصلے امپائر کی انگلی نہیں عوام کے انگوٹھے کرتے ہیں۔ مخالفین نے جھوٹ بولنے اور بہتان تراشی کے سواء کچھ نہیں کیا، الیکشن کے بعد آپ لوگوں کو کچھ بڑے فیصلے کرنے ہیں،
انسداد دہشتگردی عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزم عمران کوزینب کو اغوا کرنے، زیادتی کرنے اور قتل کرنے پر سزائے موت کا حکم سنا دیااور دفعہ 780 کے تحت بدفعلی پر سزائے موت اور 10 روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے،جبکہ لاش کو گندگی میں چھپانے پر 7 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ کی سزاسنا ئی ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں