Thursday, 14 December, 2017
’’انجیلا مرکل چوتھی بار جرمنی کی چانسلر منتخب‘‘

’’انجیلا مرکل چوتھی بار جرمنی کی چانسلر منتخب‘‘

برلن ۔ انجیلا مرکل انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے چوتھی بار جرمنی کی چانسلر منتخب ہوگئیں۔ میڈیا کے مطابق جرمنی میں ہونے والے فیڈرل الیکشن میں انجیلا مرکل کی سیاسی جماعت کرسچین ڈیموکریٹک یونین(سی ڈی یو) اور اس کی اتحادی جماعت کرسچین سوشل یونین نے مجموعی طور پر 32.5 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایگزٹ پول کے مطابق سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے 20 فیصد جب کہ مسلم مخالف دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹو فار جرمنی نے 13.5 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ ان انتخابات میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی مقبولیت میں سب سے زیادہ کمی واقع ہوئی حالانکہ وہ گزشتہ حکومت میں حکمراں جماعت کے ساتھ اتحادی تھی تاہم اب اسے اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنا ہوگا۔

انتخابات سے قبل توقع کی جارہی تھی کہ الٹرنیٹو فار جرمنی کو زیادہ ووٹ نہیں ملیں گے البتہ وہ تیسری بڑی جماعت بن کر ابھری جس کا مطلب یہ ہے کہ جرمن پارلیمنٹ میں اسے بھی پہلی بار نشست ملے گی۔ انتخابات کے حتمی نتائج آنے کے بعد انجیلا مرکل کو حکومت قائم کرنے کے لیے نئے اتحادیوں کی تلاش ہوگی اور اتحادی حکومت قائم ہونے میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔

وائس آف جرمنی کے مطابق کوئی نیا تجربہ نہیں، جرمنی سیاسی طور پر بھی ان انتخابات کے بعد ویسا ہی رہے گا، جیسا یہ پہلے تھا۔ ملک میں سیاسی، سماجی اور اقتصادی سطح پر سکون ہی رہے گا۔ ہلچل کہیں اور ہے، رجب طیب ایردوآن کے ترکی میں ہے، ٹرمپ کے آنے سے امریکا میں ہے، روس میں ہے اور یورپی یونین سے علیحدگی کی وجہ سے برطانیہ میں ہے۔ دہشت گردی اور عوامیت پسندی پھیل رہی ہے لیکن جرمنی میں پارلیمانی انتخابات نفسیاتی طور پر سکون کا باعث بنے ہیں۔

اب مزید چار برس تک انگیلا میرکل کی حکومت ہو گی۔ اس پروٹسٹنٹ مسیحی خاتون کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جو کام شروع کرتی ہیں، اسے ختم کر کے ہی دم لیتی ہیں۔ یہ جرمنی کی سب سے طویل مدت صدارت والی پہلی خاتون چانسلر ہونے کی وجہ سے پہلے ہی تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ انہیں کس کارنامے کی بنیاد پر تاریخ میں یاد رکھا جائے گا؟

سن دو ہزار پندرہ میں میرکل نے ایک ملین سے زائد مہاجرین کے لیے ملکی سرحدیں کھول کر سب کو حیران کر دیا تھا۔ عوامی جذبات اور غصے کے دوران بھی وہ اپنی پالیسی پر عمل پیرا رہیں۔ اپنے حلیفوں کے تمام تر دباؤ کے باجود انہوں نے مہاجرین کو قبول کرنے کی کوئی بالائی حد مقرر کرنے سے انکار کر دیا۔ اب انہیں اس مسئلے کو منظم طریقے سے حل کرنا ہوگا۔ جن مہاجرین کو سیاسی پناہ دی گئی ہے، ان کو معاشرے میں بہتر طریقے سے ضم کرنا اور جن کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں، انہیں واپس ان کے آبائی ملکوں میں بھیجنا ہوگا۔ یہ ایک طویل منصوبہ ثابت ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ انجیلا مرکل 2005 سے اب تک جرمنی کی چانسلر کے عہدے پر فائز ہیں اور انہیں دنیا کی طاقتور ترین خاتون کی فہرست میں بھی شامل کیا جاچکا ہے۔

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  91892
کوڈ
 
   
مزید خبریں
پال ریان نے امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر کا عہدہ سنبھال لیا اور امریکا کی تاریخ کے سب سے کم عمر اسپیکر بن گئے۔ پال ریان نے ایوان نمائندگان میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا جس کے بعد سابق اسپیکر نینسی پلوسی نے انھیں روایتی موگری پیش کی
عراق میں یزیدی فرقے کے گم شدہ افراد اور داعش کے ہاتھوں یرغمال افراد کی تلاش میں سرگرم ادارے کی جانب سے بتایا گیا ہے دولت اسلامی’’داعش‘‘ کے ہاں اب بھی یزیدی فرقے کی تین ہزار خواتین قید ہیں۔ میڈیا کے مطابق عراق کی دھوک گورنری
کیتھولک عیسائیوں کے پیشوا پوپ فرانسس نے پادریوں کی جانب سے بچوں سے زیادتی پر معذرت کی ہے،انہوں نے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ،چرچ بچوں کے تحفظ کیلئے زیادہ سخت اقدامات کرے۔
موجودہ صدر حامد کرزئی دو مرتبہ صدر منتخب ہو چکے ہیں اور آئینی تقاضوں کے مطابق تیسری مرتبہ امیدوار نہیں ہو سکتے تھے۔ طالبان نے کئی ہفتے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ افغان شہری انتخابی مراکز کا رخ نہ کریں اور انتخابی عمل کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور حملے کیے جائیں گے۔

مقبول ترین
راولپنڈی۔ پاک فوج فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے حق میں ہے جب کہ قیام امن کے لئے قبائلی عوام کی قربانیاں رنگ لارہی ہیں، ان خیالات کا اظہار پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے قبائلی عمائدین اور یوتھ جرگہ کے
بغداد۔ عراق میں داعش کو شکست دینے کے بعد امریکی فوج سمیت دیگرممالک کی افواج کی موجودگی کے سخت مخالف ہیں، ان خیالات کا اظہار تحریک عصائب اہل الحق کے سربراہ نے شیخ قیس خزعلی نے ذرائع ابلاغ
پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ حکومت ناموس رسالت سے متعلق قوانین میں تبدیلی سے باز رہے۔ ختم نبوت اور ناموس رسالت ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے۔ حکومت نے الیکشن قوانین کی آڑ میں ختم نبوت کے معاملہ میں چھیڑ چھاڑ کی
اسسٹنٹ کمشنر کھاریاں اویس منظور تارڑنے کہا ہے کہ شمسہ ویلفیئر فاونڈیشن جس اچھے ، منفرد اور منظم انداز میں خواتین کی پسماندگی اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئےجو کام کررہی ہےوہ قابل تحسین ہے۔ شمسہ ویلفیئر فاونڈیشن جیسے ادارے ہمارے ملک کے لئے بہت بڑی نعمت ہیں۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں