Tuesday, 26 May, 2026
افغانستان ميں تمام عورتوں کیلئے برقعہ پہننا لازمی قرار

افغانستان ميں تمام عورتوں کیلئے برقعہ پہننا لازمی قرار

کابل - افغان طالبان نے ملک ميں عورتوں کے ليے برقعہ پہننا لازمی قرار دے ديا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والی خواتين کے قريبی مرد، رشتہ داروں کو قيد اور نوکريوں سے برطرف کيا جا سکتا ہے۔

افغان طالبان کے سپريم ليڈر ہیبت اللہ اخوند زادہ کی جانب سے حکم نامہ جاری کیا گیا، یہ حکمنامہ کابل میں ایک تقریب میں جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ ملک ميں تمام خواتین کے ليے برقعہ پہننا لازمی ہو گيا ہے۔

جاری کیے گئے مسودے کے تحت عورتوں کو چادر اوڑھنی چاہيے جو روايات کے مطابق ہے اور احترام کا تقاضہ کرتی ہے۔ جو لڑکياں کم عمر ہيں، انہيں آنکھوں کے سوا اپنا چہرہ مکمل طور پر ڈھکنا لازمی ہے، جيسا کہ شريعہ ميں بيان کيا گيا ہے۔ يوں نامحرم مردوں سے ملتے وقت ان مردوں کے ذہنوں ميں غلط خيالات نہيں آئيں گے۔

طالبان کی متعلقہ وزارت نے حکمنامے کی تفصيلات بيان کرتے وقت کہا کہ اس پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت ميں خواتين کے والد يا قريبی رشتہ دار کو پکڑا اور قيد کيا جا سکتا ہے۔ اگر وہ سرکاری ملازمت کرتے ہيں تو انہيں نوکری سے فارغ بھی کيا جا سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  96658
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران نے کبھی بھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکی میڈیا کی جانب سے ایرانی موقف کو غلط رنگ میں پیش کیا جا رہا ہے، جس کی وہ سختی سے تردید کرتے ہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیاں نے امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، تاہم انہیں غیرمناسب قرار دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ اختیار نہیں دے سکتا کہ وہ جنگ کے خاتمے کا وقت مقرر کریں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ انہوں نے روس اور پاکستان کے رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے خطے میں امن کے لیے ایران کے عزم کا دوبارہ اعادہ کیا ہے، اس جنگ کو صہیونی حکومت اور امریکا واسرائیل نے بھڑکایا ہے، اس کو ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں