Tuesday, 26 May, 2026
افغانستان میں مسجد کے اندر زوردار دھماکا: 50 نمازی شہید

افغانستان میں مسجد کے اندر زوردار دھماکا: 50 نمازی شہید

کابل - افغان دارالحکومت کی ایک مسجد میں زوردار دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 50 نمازی شہید اور 20 زخمی ہوگئے۔  عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مسجد خلیفہ آغا گل جان میں اُس وقت دھماکا ہوگیا جب وہاں نماز جمعہ ادا کی جارہی تھی اور سیکڑوں نمازی شریک تھے۔

دھماکا اتنا زوردار تھا کہ مسجد کے دروازے اور شیشے ٹوٹ گئے جب کہ آس پاس کی عمارتوں کے کھڑکیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ دھماکے کے بعد بھگدڑ مچ گئی اور ہر طرف آہ و بکا کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

ریسکیو ادارے نے امدادی کاموں کے دوران 30 سے زائد افراد کو اسپتال منتقل کیا جن میں سے 50 کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی گئی ہے جب کہ 20 شدید زخمی ہیں جن میں سے 6 کی حالت نازک ہے۔

دھماکے کے بعد طالبان اہلکاروں نے جائے وقوعہ کا محاصرہ کرلیا۔ تاحال دھماکے کی نوعیت کا تعین نہیں ہوسکا ہے۔ اس حوالے سے طالبان سیکیورٹی فورسز تفتیش کر رہی ہیں۔

تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم گزشتہ برس اگست کے وسط میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مساجد اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری داعش قبول کرتی آئی ہے۔

گزشتہ روز بھی افغانستان کے صوبے بلخ میں 2 مختلف مقامت پر بم دھماکے ہوئے تھے جس میں مجموعی طور پر 11 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوگئے تھے جب کہ گزشتہ جمعے کو بھی قندوز کی مسجد میں بم دھماکے میں 33 افراد شہید ہوگئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  73808
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے چہلم کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران اپنے قائد اور دیگر شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لینے کے لیے پُرعزم ہے۔ سرکاری ٹی وی پر پڑھے گئے اپنے تحریری بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ اس جنگ میں دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا گیا ہے اور حتمی فتح ایران ہی کی ہے۔
ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور میناب اسکول کے بچوں کے چہلم کے موقع پر تہران سمیت ملک بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ جمعرات کی صبح شروع ہونے والی مرکزی ریلی تہران کے جمہوری اسکوائر سے اس مقام تک نکالی گئی جہاں آیت اللہ خامنہ ای نے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی افواج ہر لمحہ الرٹ ہیں اور ان کی "انگلیاں اب بھی ٹریگر پر" موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ لبنان پر جاری وحشیانہ اسرائیلی حملے حالیہ جنگ بندی کے معاہدے اور پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے متوقع مذاکرات کو بے معنی بنا سکتے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے ردعمل میں ایران نے تزویراتی طور پر اہم ترین تجارتی راستہ "آبنائے ہرمز" ایک بار پھر بند کر دیا ہے۔ خلیج میں موجود متعدد بین الاقوامی آئل ٹینکرز اور مال بردار جہازوں کو ایرانی بحریہ کی جانب سے ہنگامی پیغامات موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں، جن میں انہیں پیش قدمی سے روک دیا گیا ہے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں