Monday, 10 May, 2021
دنیا کو تنگ کرنے والا خود تنگ آگیا
 
دنیا کو تنگ کرنے والا خود تنگ آگیا
 

اس وقت امریکی حکومت کو ایسے سخت اور دشوار حالات کا سامنا ہے جس کی نظیر ماضی میں جلدی نظر نہیں آتی۔ جارج فلوئڈ کے بہیمانہ قتل کے بعد امریکہ میں جاری نسل پرستی کے خلاف ملک گیر مظاہروں کی لہر دوڑ گئی اور مجموعی طور پر ہر روز لاکھوں کی تعداد میں امریکی شہری سڑکوں پر نکل کر نسل پرستی کے اور ظلم و تشدد کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ امریکی جریدے ایٹلانٹک نے امریکہ کی حالیہ صورتحال کا موازنہ تیونس جیسے بعض بحران زدہ ممالک سے کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے زوال کی جانب گامزن ہے۔


کارٹون
دنیا کو تنگ کرنے والا خود تنگ آگیا
صدر ٹرمپ اور کورونا
رمضان المبارک میں اشیاء خورد نوش کی قیمتوں میں اضافہ
صدر ٹرمپ نے ڈبلیو ایچ او کی امداد روک دی
سماجی فاصلہ رکھیں
شوگر مافیا اور حکومت آمنے سامنے
کورونا، اپنے حصے کا کام کریں
اس سے آگے کوئی گریڈ نہیں ہے، گومل یونیورسٹی ۔۔۔۔ بشکریہ: ابو شان
’’بھارت اپنی ہی چال میں خود پھنس گیا‘‘
مذاکرات
بچے اسکول اور سیکیورٹی
سیکیورٹی سسٹم
سیاستدان اور گھریلو مسائل
کمیشن مافیا
پاکستانی سیاستدان اور عوام
سموگ کے فائدے
مقبول ترین
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ملک کے 16شہروں میں کورونا کیسز کی شرح بہت زیادہ ہے، جہاں سول اداروں کی مدد کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کردی گئی ہے۔ راولپنڈی میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار
یران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’ان پر پاسداران انقلاب کی کارروائیوں کی حمایت کے لیے سفارت کاری کی قربانی دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔‘ عرب نیوز کے مطابق محمد جواد ظریف کے لندن میں ایران نیشنل ٹی وی چینل کو تین گھنٹے طویل انٹرویو میں ایرانی
قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے پر کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے لاہور کے مرکزی دھرنے سمیت ملک بھر میں احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ میڈیا کے مطابق حکومت کی جانب سے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق قرارداد
عوامی نیشنل پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کے نتیجے میں اتحاد ٹوٹ گیا اور اے این پی رہنماؤں نے پی ڈی ایم کے تمام عہدے چھوڑ دیے۔ پشاور میں اے این پی کی مرکزی

کرونا وائرس اور احتیاتی تدابیر
کوہاٹ سے پہلے وہ قبائلی علاقے میں قیام پذیر تھے ان کا خاندان زراعت اور مال مویشی کی تجارت سے وابستہ تھا کوہاٹ کا یہ مقام جس کو جرم کہا جاتا ہے اس وقت چند گاؤں پر مشتمل تھا اور آج آبادی کے لحاظ سے بڑھ کر وہ ایک بڑا علاقہ بن چکا ہے
اس بات کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ زندگی مکافات عمل ہے۔ کچھ لوگ اپنا کیا اسی دنیا میں کاٹ لیتے ہیں اور کچھ لوگ آخرت میں۔ مگر کوئی اس سے بچ نہیں سکتا یہ بات تو واضح ہے اسے کسی بھی صورت میں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
آن لائن ایجوکیشن سسٹم تقریباً پوری دنیا میں رائج ہے ۔پاکستان میں بھی دو بڑی یونیورسٹیاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اورورچوئل یونیورسٹی اس وقت ہزاروں اسٹوڈنٹ کو آن لائن ایجوکیشن فراہم کر رہی ہیں۔

کیا ملک میں کرفیو نافذ ہونا چاہیے؟
نتائج ملاحظہ کریں
پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں