Saturday, 28 March, 2026
عوام اور فوج میں دراڑیں کون ڈال رہا ہے؟

عوام اور فوج میں دراڑیں کون ڈال رہا ہے؟
متین فکری کا کالم


آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بالواسطہ طور پر ملک کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن عوام اور فوج کے درمیان دراڑیں ڈال رہا ہے لیکن فوج کو عوام کا اعتماد حاصل ہے اور وہ عوام کے تعاون سے اس صورت حال پر قابو پالیں گے۔ آرمی چیف کا یہ بیان سوچنے سمجھنے والوں کے لیے ایک تازیانے کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاک فوج جو ایک زمانے میں عوام کی آنکھ کا تارا تھی، آج اس کی مقبولیت میں کمی آئی ہے، جلسوں میں فوج کے خلاف نعرے لگ رہے ہیں، جرنیلوں کا نام لے کر انہیں گالیاں دی جارہی ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ جب میاں نواز شریف کو نااہل قرار دے کر انہیں اقتدار سے سبکدوش کیا گیا تھا تو اس وقت بھی حاضر سروس آرمی چیف کا نام لے کر اُسے اس واردات کا ذمے دار قرار دیا گیا تھا اور مسلم لیگ (ن) نے اس کے خلاف خوب ہنگامہ برپا کیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے احتجاج کچھ ایسا خلافِ واقعہ بھی نہ تھا۔ میاں نواز شریف کے خلاف جو کچھ ہوا وہ اس وقت کے آرمی چیف اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ تھا۔ جن لوگوں نے اس فیصلے پر خوشیاں منائیں، انہیں اندازہ نہ تھا کہ کل یہ وقت ان پر بھی آسکتا ہے۔ چناں چہ عمران خان جب اقتدار سے نکالے گئے تو پہلے انہوں نے اسے امریکی سازش قرار دے کر عوام کو امریکا کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی۔ جب وہ یہ چورن بیچ کر عوام کے محبوب لیڈر بن گئے تو اچانک انہوں نے پلٹا کھایا اور عوام کو بتایا کہ انہیں اقتدار سے ہٹانے کی سازش سابق آرمی چیف نے تیار کی تھی اور وہی چوروں اور ڈاکوئوں کے گروہ کو قوم پر پھر مسلط کرنے کے ذمے دار ہیں۔ یہ بات بھی کچھ ایسی خلافِ واقعہ نہ تھی۔ چناں چہ سوشل میڈیا جس پر تحریک انصاف کے لوگوں کی اجارہ داری تھی، آرمی چیف کے خلاف گالیوں سے بھر گیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ عمران خان اپنے سیاسی مخالفین سے کرپشن کا پیسہ اُگلوانے میں تو ناکام رہے تھے۔ البتہ وہ اپنے سیاسی مخالفین پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کا لیبل چسپاں کرنے میں ضرور کامیاب رہے تھے اور عوام تیرہ جماعتوں پر مشتمل پی ڈی ایم کی حکومت کو چوروں اور ڈاکوئوں کی حکومت ہی سمجھتے ہیں۔ چناں چہ سابق آرمی چیف کے خلاف عمران خان کا نیا بیانیہ خوب کامیاب رہا۔ اس سے فوج کی بہت سبکی ہوئی۔

اب عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں کے شدید ردعمل اور 9 مئی کو گھیرائو جلائو کے افسوسناک واقعات نے سارا منظرنامہ ہی بدل دیا ہے۔ عمران خان پہلے ان واقعات کی مذمت سے گریزاں تھے لیکن جب پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈائون شروع ہوا اور بلوائیوں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات چلانے کا اعلان کیا گیا تو خان صاحب کی عقل بھی ٹھکانے آگئی اور انہوں نے نہ صرف ان واقعات کی مذمت کی بلکہ ان سے لاتعلقی کا اظہار بھی کیا اور دوسری بار گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر انہوں نے کارکنوں کو واضح طور پر پیغام دیا کہ وہ احتجاج ضرور کریں لیکن پرامن رہیں اور قومی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی کوئی دہشت گرد تنظیم نہیں ہے اور نہ اس کے کارکنوں کو دہشت گرد قرار دیا جاسکتا ہے۔ ان کارکنوں کی بڑی تعداد پڑھے لکھے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ان نوجوانوں کو برگر فیملیز کے سپوت کہہ کر ان کا مذاق اُڑایا جاتا تھا۔ انہیں ملکی سیاست سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ یہ نوجوان اشرافیہ کے اس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو انتخابات کے موقع پر ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں پر بھی بہت کم جاتا تھا۔ یہ کریڈٹ بہرکیف عمران خان کو جاتا ہے کہ انہوں نے اس طبقے کو فعال کیا ہے اور اسے جمہوریت اور حقیقی آزادی کا خواب دکھایا ہے۔ اس بحث سے قطع نظر کہ یہ خواب سچا ہے یا جھوٹا لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس خواب نے سیاست میں غیر معمولی سرگرمی پیدا کردی ہے اور ان لوگوں کے چہرے بے نقاب کردیے ہیں جو ملک پر جمود طاری رکھنا چاہتے ہیں۔ نوجوانوں میں سیاسی شعور کا آنا اور ظالمانہ نظام کے خلاف میدان میں نکلنا ایک بہت بڑا انقلاب ہے جس کا رُخ تخریب کے بجائے تعمیر کی جانب پھیرا جاسکتا ہے۔

9 مئی کو گھیرائو جلائو کے جو واقعات ہوئے اگرچہ ان میں پی ٹی آئی کارکنوں کی شرکت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا لیکن یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ ان میں شرپسندوں کو پلانٹ کیا گیا تھا جنہوں نے تباہی پھیلانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ پھر سارا ملبہ پی ٹی آئی کارکنوں پر ڈال دیا گیا کیونکہ ان کے خلاف کارروائی مقصود تھی۔ فیس بک پر کئی دن تک ایک ویڈیو گردش کرتی رہی جس میں ایک لمبا تڑنگا آدمی منہ پر کپڑا باندھے ہوئے لوہے کے راڈ سے پرائیویٹ گاڑیوں کو توڑ رہا ہے اور پس منظر میں یہ آوازیں گونج رہی ہیں کہ یہ پولیس والا ہے اسے پکڑو، جانے نہ پائے لیکن کوئی اسے پکڑنے کی جرأت نہ کرسکا۔ یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا دور ہے اس میں کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔ اب جس بھونڈے اور پرتشدد انداز میں گرفتاریاں ہورہی ہیں، پی ٹی آئی کی ہامی خواتین کو بھی ظالمانہ طریقے سے پکڑا جارہا ہے حالانکہ وہ قوم کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے کے کارکنوں کو فری ہینڈ دے دیا گیا ہے۔ اس سے عوام میں مزید بے چینی پیدا ہورہی ہے، عوام دیکھ رہے ہیں کہ اس عمل میں اسٹیبلشمنٹ پوری طرح ملوث ہے اور عدالتیں انصاف دینے سے قاصر ہیں۔ ممتاز اینکر پرسن عمران ریاض کے معاملے میں لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو بار بار وارننگ دی لیکن وہ اسے عدالت میں پیش کرنے میں ناکام رہے۔ آخر میں انہوں نے یہ کہہ کر ہاتھ کھڑے کردیے کہ انہوں نے خفیہ ایجنسیوں سے بھی معلوم کرلیا ہے عمران ریاض ان کے پاس بھی نہیں ہے۔ تو کیا اسے زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا؟ عوام برملا کہہ رہے ہیں کہ وہ اب کبھی بازیاب نہ ہوسکے گا اور اس کا حشر ارشد شریف سے مختلف نہیں ہوگا۔ معروف اینکر پرسن آفتاب اقبال کو بھی اٹھایا گیا تھا لیکن ان کی قسمت اچھی تھی کہ انہیں پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا اب وہ اپنے ٹاک شو میں لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ کس ادارے نے انہیں پکڑا تھا انہیں کہاں رکھا گیا اور کیا پوچھا گیا۔

اس وقت سیاست میں شدید ہلچل برپا ہے، پی ٹی آئی میں شامل لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کروائی جارہی ہیں۔ ڈاکٹر شیریں مزاری کو چار بار گرفتار کیا گیا، بالآخر ان کے اعصاب جواب دے گئے اور پی ٹی آئی سے الگ ہونے اور سیاست کو خیر باد کہنے کا اعلان کردیا۔ اسد عمر ہوں، فواد چودھری ہوں یا پی ٹی آئی کے دوسرے بہت سے نامور لوگ، سب کی داستان یہی ہے۔ شاہ محمود قریشی عمران خان کا ساتھ چھوڑنے سے ہچکچا رہے ہیں اس لیے انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا ہے۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ وہ سرنڈر نہیں کردیتے۔ یہ سب کچھ عوام کی آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے اور جو ادارہ یہ کام کررہا ہے وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ عوام اور فوج کے درمیان دشمن دراڑیں ڈال رہا ہے تو ہمیں یہ دشمن باہر تلاش کرنے کے بجائے اپنے اندر تلاش کرنا چاہیے۔ یہ دشمن ہمارے اندر چھپا بیٹھا ہے اور ہم سے وہ کام کروارہا ہے جو ہمیں نہیں کرنے چاہئیں۔ ............... بشکریہ روزنامہ جسارت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  59521
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
ایران کیخلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کو مذہبی رنگ کون دے رہا ہے؟ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو جنگ کا اصل مقصد ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا قرار دیا تھا
مسلمانوں کو مغربی دنیا سے زخم کھاتے ہوئے ایک ہزار سال ہوگئے مگر آج بھی مسلمانوں کی عظیم اکثریت مغرب کے بارے میں ’’نیک خیالات‘‘ رکھتی ہے۔ چنانچہ ہمارا سیاسی نظام مغرب سے آیا ہوا ہے۔
جب دلیل کمزور ہو، ثبوت مفقود ہوں اور نیت میں کھوٹ ہو، تو شور شرابے کو دلیل بنا لیا جاتا ہے۔ یہی حال انڈین حکومت اور میڈیا کا ہے، جو پہلگام حملے کو لے کر ایک بار پھر پاکستان کے خلاف طبلِ جنگ بجانے لگے ہیں۔ حملہ ہوا
تحریک انصاف نے ریاست پر کاری وار کیا، خدا کرے وطن عزیز جانبر ہوجائے؟ایک بدقسمت دن، وطنی طول و عرض میں ہیبت ناک مناظردیکھنے کو ملے۔ تصور میں نہ تھا، قومی حُرمت، تقدس، وقار، عزت اور طاقت

مقبول ترین
عالمی میڈیا کے مطابق جنگ کے آغاز سے قبل اس آبی راستے سے روزانہ تقریباً 135 جہاز گزرتے تھے، لیکن یکم مارچ سے 25 مارچ تک یہاں سے صرف 116 جہاز گزرے۔ زیادہ تر جہاز چین، بھارت اور خلیجی ممالک سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ بعض ‘ڈارک فلیٹ’ کے جہاز بھی شامل تھے، جن پر مغربی پابندیاں عائد ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کا تعلق اعلیٰ سطح پر ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے جوڑا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی نائب صدر اور اسرائیلی
وزیراعظم نے کہا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے پیش کی گئی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کر دی گئی، جس میں پیٹرول کی قیمت 95 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 203 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز شامل تھی۔
اجلاس میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے اور معاشی و توانائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تیل و گیس کی عالمی قیمتوں کے اثرات اور مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں