Saturday, 20 August, 2022
چولستان میں سسکتی انسانیت

چولستان میں سسکتی انسانیت
عارف سعید بخاری کا کالم

 

چولستان میں خشک سالی نے زندگی کو معدوم کرکے رکھ دیا ہے ۔66 لاکھ ایکٹرپر مشتمل یہ علاقہ رواں ماہ سے بارشیں نہ ہونے کی بناء پر پانی کی شدید قلت سے دوچار ہے ۔یہاں چرند ،پرند ،جانور اور انسان پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ 95 فیصد ٹوبے خشک ہو چکے ۔دوردراز علاقوں میں جانوروں کا چارہ تک دستیاب نہیں ۔انسانی ضرورت کی خوراک اوردیگر اشیاء کی قلت بھی نازک صورت اختیار کر چکی ہے ۔پیدا شدہ صورت حال کے پیش نظر بیسیوں خاندان دیگر علاقوں کو نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں ۔سبزہ نام کی کوئی چیز باقی نہیں ، خودرو جڑی بوٹیاںبھی سوکھنے لگی ہیں۔ یہی صورتحال برقرار رہی توعلاقے میں قحط سالی بڑے گھمبیر مسائل پیدا کر دے گی ۔ تھر کا علاقہ بھی اسی قسم کی سنگین صورتحال سے دوچارہے۔ تھر کا ریگستان اپنی جگہ حکومت کا نوحہ بیان کر رہا ہے۔ یہ علاقہ سندھ کا حصہ ہے، اس پر15سال پیپلز پارٹی کی حکومت رہی ۔وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تھر کے مسائل حل کرنے کی سعی کریں ۔موجودہ خشک سالی قحط سالی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

ادھر چولستان کا علاقہ پنجاب میں واقع ہے ،بہاول نگر سے یہ2 گھنٹے جبکہ بہاولپور سے 4گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے ۔سچ تو یہ ہے کہ پون صدی سے چولستان کے لوگ اور یہاں کی فصلیں بارش کے آسرے پر ہی زندہ اور آباد ہیں ۔چولستان کے ساتھ ساتھ تھر میں سسکتی انسانیت دھرتی پر بسنے والے انسانوں سے مدد کی طلبگار ہے ۔المیہ یہ ہے کہ اس قدر تباہی و بربادی کے باوجود ماضی کے حکمرانوں نے ان علاقوں کے پریشان حال عوام کی حالت زار پرتوجہ نہ دی ۔ہر حکومت نے اپنے اپنے ادوار میں ملک میں ڈیمز سمیت بے شمار منصوبوں کا اعلان کیا ۔جن میں سے اکثر منصوبے محض اعلانات تک ہی محدود رہے ۔ہر حکومت نے اپنے مخصوص مقاصد کے تحت جان بوجھ کر صحرائے چولستان کو نظر اندازکیا ،یہ اںآج تک کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہ کیا جا سکتا ۔جس سے پیاسے لوگوں اور جانوروں کی پیاس بجھ سکے ۔چولستان کا علاقہ بنیادی انسانی ضرورت پانی سے بھی محروم چلا آرہا ہے ۔یہاں لوگوں کی زندگیوں کا دارو مدار فقط بارشی پانی پر ہے جو ٹوبوں میں ذخیرہ کیا جاتا ہے ۔چولستان میں صحت عامہ اور پینے کے پانی کی فراہمی کا معاملہ کوئی آسان کام نہیں ،لیکن جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں دنیا میں کوئی چیز اب نا ممکن نہیں رہی ۔اس قوم کی بدقسمتی ہے کہ سیاسی قائدین عوام کے مسائل پو توجہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ۔ان لوگوں کی جدوجہد کا مرکز و محور محض'' کرسی'' کا حصول ہے ۔ مخصوص خاندانوں نے ملک کو اپنی وراثتی جاگیر سمجھ رکھا ہے ۔باری کی سیاست نے ملک کو مسائل کی آماجگاہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔ سیاستدانوں کو اپنی اولادوں کے مستقبل کی فکر کھائے جا رہا ہے۔ 

وفاق مسلسل اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر رہا ہے ،جنوبی پنجاب کی انتظامیہ ہویاپنجاب کی وزارت اعلیٰ ،کابینہ کے اراکین ہوں یا کوئی اور ذمہ دار افراد، سبھی لوگ سیاست میں الجھے ہیں ۔ان کی سیاست عوام کی خدمت سے کوسوں دور ہے ۔۔ صوبے میں سیاسی بحران کے باوجود وزیر اعلیٰ پنجاب نے چولستان کی موجودہ صورتحال کا نوٹس لیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں واٹر باؤزرز کے ذریعے پانی کی فراہمی کا سلسلہ شروع کروا دیا ہے ۔اس سلسلے میں جنوبی پنجاب اتھارٹی کی طرف سے ''کنٹرول روم'' قائم کر دئیے گئے ہیں۔متعدد ''ٹوبوں ''میں باؤزر کے ذریعے پانی چھوڑنے کا کام جاری ہے۔

ان اقدامات سے جہاں لوگوں کو ریلیف ملے گا وہاں جنگلی حیات کو بھی بچانے میں مدد ملے گی ۔حکومت نے لائیو سٹاک ،محکمہ انہار اور محکمہ زراعت کے ذمہ داران سے بھی رپورٹس طلب کر لی ہیں اور تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر معاملات سے نمبٹنے کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں ۔چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے لوکل واٹرسٹوریج بھی بھرنے کا کام شروع کر رکھا ہے ۔ کسی بھی مسئلے میں خوش کن اعلانات سے قوم کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا ۔ضرور ت اس امر کی ہے کہ دیگر تمام تر سیاسی معاملات کو پس پشت ڈال کر چولستان پر توجہ دی جائے ۔ سیاستدانوںکو عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کیلئے جلسے ،جلوسوں اور دھرنوں کی سیاست سے ہٹ کر عوام کے مسائل کو حل کرنے کی سیاست پر دھیان دینا چاہئے جبکہ سیاستدان اپنی تمام تر توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر صرف کر رہے ہیں ۔ہمارے کتنے سیاستدان چولستان کے مسائل جاننے کیلئے ان علاقوں میں گئے ۔شاہد کسی ایک بھی لیڈر کو اللہ یہ توفیق نہیں بخشی کے وہ ان پسماندہ علاقوں میں حالات کا جائزہ لینے کیلئے جاتا ۔ رعایا کے مسائل حل کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے ۔ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کرنے والے عمران خان اور نہ ہی وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو اپنے تین سالہ دور میں ان مسائل کو حل کرنے کا خیال آیا ۔

عمران خان نے بھی سارا وقت چوروں اور لٹیروں کو پکڑنے اور ان سے لوٹی گئی دولت واپس لانے کے ایک ہی ایجنڈے پر اپنا وقت ضائع کیا ۔انہیں اس مشن میں کوئی خاطر خواہ کامیابی بھی نصیب نہ ہو سکی ۔حکومتیں تبدیل کرنے والی قوتوں نے انہیں مقررہ مدت سے پہلے ہی گھر بھجوا دیا ۔اور اب بھی ان کی ساری توجہ مقتدر قوتوں کو اپنی عوامی طاقت دکھانے پر مرکوز ہے ۔ہم اگر جلسے جلوسوں پر وقت ضائع کرنے کا سلسلہ ترک کرکے ملک و ملت کی حالت بہتر بنانے پر اپنی توانائیاں صرف کرتے تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ۔چولستان کے لوگ ہماری مدد کے منتظر ہیں ۔ہمیں سب کاموںکو ترک کرکے ان لوگوں کے مسائل پر توجہ دینا ہو گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  11121
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
آج آفس سے گھر آیا تو ٹی وی پر افواج پاکستان کے ترجمان کی پریس کانفرنس جاری تھی اور بار بار ٹی وی اسکرین پر یہ ٹکر چل رہا تھا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔۔۔۔۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
پاکستان میں ایک بہت ہی مرغوب اور من بھاتاکھاجاہے:''سازش''۔ یہ ایسی چیونگم ہے جسے سبھی شوق سے چباتے ہیں۔ اس کے کئی فلیورزہیں۔ امریکی سازش، بھارتی سازش، یہودی سازش،یورپی سازش وغیرہ۔سازشی تھیوری کے بغیر
ہم جیسے لوگوں نے بھی عمران خان کی پوری تقریر سننے کی اذیت برداشت کی لیکن اس پہاڑ سے بھی آخر میں کاغذ کے ایک ٹکڑے کی صورت میں ایک چوہا ہی نکلا۔ وہ کبھی کاغذ کو جیب سے نکالتے اور کبھی واپس رکھتے۔
میں نہیں مانتا جب لوگ کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی پہچان اس کا حسن جھرنیں آبشاریں اور آسمان کو چھوتی بلند و بالا چوٹیاں ہیں گلگت بلتستان کا حسن تو سید مہدی تھے یہ بلند چوٹیاں تو ان کے پاؤں کی دھول بھی نہ ہیں وہ نہ رہے تو جی بی کے جھرنے ترنم کیسے بپا کر سکتے ہیں یہ گھاٹیاں

مقبول ترین
ملک بھر میں چودہ اگست کا آغاز ہوتے ہی 75 ویں آزادی کا جشن بھرپور عقیدت اور احترام سے منانے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور فضا قومی نعروں اور ملی نغموں سے گونج اٹھی ہے۔
لاہور کے نیشنل ہاکی اسٹیٹڈیم میں ’حقیقی آزادی‘ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں امریکا اور برطانیہ کو زیادہ تر پاکستانیوں سے بہتر جانتا ہوں، میں کسی ملک کا دشمن نہیں، امریکا سے دوستی چاہتا ہوں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں ایک بار پھر میثاق معیشت کی پیش کش کردی۔ قوم سے خطاب میں شہباز شریف کا کہنا تھاکہ آج محض ایک مبارکباد کافی نہیں، ہم ہرسال دھوم دھام سے یوم آزادی مناتےہیں، لاکھوں قربانیوں کے بعد پاکستان حاصل کیا گیا اور حققت یہ ہےکہ 75برس سے ان دنوں کو منایا ہے
سانحہ لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثہ و شہداء سے متعلق سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈے کی تحقیقات کے معاملے پر جوائنٹ انکوائری ٹیم کا دائرہ کار بڑھا کر انٹیلجنس ایجینسز کے دو افسران بھی ٹیم میں شامل کر لیے گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں