Thursday, 20 January, 2022
لاشوں کا کاروبار، کمزور انجن ٹرین، گاڑی اور جہاز میرے یار

لاشوں کا کاروبار، کمزور انجن ٹرین، گاڑی اور جہاز میرے یار
تحریر: رضوان علی شاہ

میرے بچپن میں میرے والد صاحب بیرون ملک ملازمت کرتے تھے. اچھا کھاتے پیتے تھے لیکن وہ ایک کمی ہوتی ہے نا کہ کب ابو آئیں گے اور کب ان کو لینے ایئرپورٹ جائیں گے، وہ ہمیشہ رہتی تھی. اور جب ان کو لینے ائیر پورٹ جاتے تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا تھا.

شاید کل بھی کوئی کسی کو لینے کراچی ائیر پورٹ آیا تھا. شاید میری طرح کے کسی 8، 9 سال کے بچے کی بھی خواہش تھی کہ وہ اپنے ابو کے ساتھ عید منائے. لیکن ہوا کیا. لاشہ دیکھنے تو نہیں آیا تھا وہ...! 
مسئلہ یہ نہیں کہ وہ بچہ اپنے باپ کے ساتھ عید منانا چاہتا تھا. مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک کے نظام کے جو باپ پچھلے 72 سال سے اس ملک کے اداروں کو کھوکھلا کر رہے ہیں ان کا لاشہ کیوں نہیں آتا؟؟؟ وہ کیوں کرپشن کا پیسہ ہڑپ کے امریکہ، انگلینڈ اور دبئی شفٹ ہو جاتے ہیں؟؟
لاہور سے کراچی جانے والا طیارہ متعدد افراد کو لے کر زمیں بوس ہو گیا،. پورا میڈیا پاگل ہو گیا کہ اتنی اموات ہوئیں، اتنے بچ گئے وغیرہ. سوال تو یہ ہے یہ رونے پیٹنے کے علاوہ کب تک یہ سلسلہ چلے گا. کب تک ہم ہر واقعے کے بعد روئیں گے اور آگے بڑھ جائیں گے؟؟ کیا ایسے واقعات ہماری زندگی میں صرف ایک دن ہی ہمارے احساسات کو ہلا سکتے ہیں. کیوں نہیں تمام ائیر لائنز، تمام ٹرینوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے فٹنس ٹیسٹ کئے جاتے اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا کہ یہ سب قابل استعمال اور قابل اعتبار ہیں بھی یا نہیں؟؟ یا ہم ایک بد تہزیب قوم کی طرح بین کر کے آگے بڑھ جائیں گے. مسئلہ یہاں آج کے دن ضائع ہونے والی ان انسانی جانوں کا نہیں ہے. مسئلہ یہاں حویلیاں طیارہ حادثہ، بھوجا ائیر لائن حادثہ، ائیر بلیو حادثہ، رحیم یار خان ٹرین حادثہ اور  لوکل ٹرانسپورٹ سمیت ان تمام ان فٹ انجنوں کا ہے جو شاید جھلسی ہوئی لاشوں کا کاروبار کرنے کے لئے ہم نے رکھ چھوڑے ہیں.
سی ای او پی آئی اے ارشد ملک صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے جہاز ماضی کے مقابلے میں زیادہ فٹ ہیں. تو حضور کس ماضی کی بات کر رہے ہیں؟؟ زرداری دور کی یا نواز شریف دور کی؟؟
آپ انٹرنیشنل معیار کو کیوں نہیں مقصد بناتے. اداروں کو منافع اگر لوگوں کی لاشوں پر کھیل کر کرنا ہے تو پھر معذرت کہ آپ اپنی نوکری بچا رہے ہیں، ادارے یا ملک نہیں.
میں نے بطور رپورٹر سی ای او پی آئی اے ارشد ملک صاحب کی ان کے چارج سنبھالنے کے اوائل کے دنوں میں پریس کانفرنس کور کر رکھی ہیں. یہ مجھے تب کافی معقول آدمی لگے. چونکہ ان کا ائیر فورس کا پس منظر بھی ہے تو میرے لئے اور زیادہ قابل عزت ہو گئے. لیکن اس سانحے کے بعد یہ لگتا ہے کہ ہمیں بلا وجہ لوگوں سے امیدیں لگانے کی عادت پڑ گئی ہے.
خطرہ تو اس سے بھی بڑا ہے. خطرہ تو یہ بھی ہے کہ اگر یہ ملک ایسے ہی خراب انجن پر چلتا رہا تو ایسے کب تک پرواز کرے گا. یاد رکھیے گا ہم سب اس طیارے کے مسافر ہیں لیکن اپنی جڑیں خود ہی کھوکھلی کر رہے ہیں.
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے
انجام گلستاں کیا ہو گا
اللہ پاک اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں مقام عطاء فرمائے. اللہ پاک تمام زخمیوں کو شفا عطاء فرمائے اور جاں بحق اور زخمی افراد کے لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے. آمین
لیکن ہم نے بطور قوم اپنا رویہ نہ بدلا اور حکومتوں سے تمام طیارے، ٹرینوں اور لوکل ٹرانسپورٹ کے شفاف فٹنس ٹیسٹ کا مطالبہ پرزور انداز میں نہ کیا تو شاید خدانخواستہ ہم ایک بار پھر بیٹھ کر افسوس سے ہاتھ ملتے رہ جائیں.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  26206
کوڈ
 
   
مقبول ترین
نیشنل اسمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز (ایس ایم ای ڈی اے) پالیسی کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ صدی میں ایک مرتبہ ایسی صورتحال ہوتی ہے، عالمی مالیاتی ادارے (ڈبلیو ایچ او) سمیت دیگر اداروں نے تسلیم کیا
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سانحہ مری کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں 15 افسران کو معطل کرکے انضباطی کارروائی کا حکم جاری کردیا۔ میڈیا کے مطابق سانحہ مری کی تحقیقاتی کمیٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار
وزیراعظم عمران خان نے سانحہ مری میں متعدد افراد کی اموات پر تحقیقات کا حکم دے دیا۔ میڈیا کے مطابق مری اور گلیات میں شدید برفباری اور ٹریفک جام کے باعث سردی سے ٹھٹھر کر مرنے والے افراد کی تعداد 21 ہوچکی ہے
مری میں برفباری میں پھنسے 21 سیاح شدید سردی سے ٹھٹھر کر جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ وزیرداخلہ شیخ رشید نے فوج اور سول آرمڈ فورسز کو طلب کرلیا ہے۔ملک کے پُرفضا مقام مری میں شدید برف باری کے باعث ہزاروں سیاح پھنس کر رہ گئے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں