Thursday, 20 January, 2022
بڑھتی مہنگائی اور پریشان حال عوام

بڑھتی مہنگائی اور پریشان حال عوام
شمائلہ شاہین


پاکستان میں مہنگائی کا جن پچھلے کئی سالوں سے آزادہےاورہرگزرتےدن کےساتھ پہلےسےزیادہ طاقتورہوتاجارہاہے۔ہرآنےوالی حکومت اسے قابوکرنےمیں ناکام رہی ہے، یہی وجہ ہےآج کل جسےدیکھووہی مہنگائی کاروناروتانظرآتاہے،ہر شے کی قیمت آسمان سے باتیں کرتی نظرآتی ہے۔ اقتدار میں آنے سے قبل ہر سیاسی جماعت عوام کے سامنے بلندوبانگ دعوے کرتی ہے اور اپنی چکنی چپڑی باتوں سے عوام کو سبز باغ بھی دیکھاتی ہے، لیکن اقتدار میں آتے ہی سبھی وعدے بھلا دیے جاتے ہیں۔
ایک جانب حکومت پٹرولیم مصنوعات اوراشیاءخوردونوش کی قیمتیں  خود بڑھاتی ہے تو دوسری جانب ان اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر نوٹس بھی لیتی نظر آتی ہے اگر عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہو جائیں تب بھی پاکستان میں ان اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہی کیا جاتا ہے۔ہر شے کی قیمت روپوں میں بڑھائی جاتی ہیں جبکہ سستی پیسوں کے حساب سے  کی جاتی ہے۔ کچھ دن قبل حکومت وقت نے عوام کو سستا پٹرول فراہم کرنے کی نوید سنائی لیکن جلد ہی اس خوش خبری کو بھی کسی کی نظر لگ گئی۔ پہلے تو شہروں میں پٹرول کی قلت پیدا ہوئی لیکن بجٹ کی منظوری کے بعد پٹرول کی قیمت میں ہی اضافہ ہو گیا۔ 
مختلف حکومتوں نے اپنے اپنے دوراقتدارمیں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے پریشان حال عوام کو ریلیف دینے کےلیے، اتوار بازار، سستے بازار اور یوٹیلیٹی اسٹورز قائم کیے۔ عوام کو ریلیف  دینے کے لیے یوٹیلیٹی اسٹورزکا قیام ایک خوش آئند فیصلہ تھا لیکن ان اسٹورز کا قیام صرف شہروں تک محدود رہایوں دیہات میں بسنے والی اکثریتی آبادی اس ریلیف سےمحروم ہے۔اوران ااسٹورز پر اشیائے خوردونوش کو سستے داموں فروخت کیا جاتا تھا۔لیکن گزرتے وقت کے ساتھ یوٹیلیٹی اسٹورز بھی معاشی بحران کا شکار ہونے لگے۔ ان اسٹورز پر چند اشیاءایسی ہیں جوکم قیمت پر فروخت ہورہی ہیں لیکن ان کی کوالٹی بہت بری ہےاس بڑھتی ہوئی مہنگائی کی ایک بڑی وجہ ذخیرہ اندوزی بھی ہے۔ کرونا وباء کی وجہ سے ملک میں لگائے جانے والا لاک ڈاون  بھی مہنگائی میں اضافہ کاسبب بن رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کے ختم ہوتے ہی عوام کو ایک بار پھر سے مہنگائی کے طوفان سے مقابلہ کرنا ہوگا۔کورونا وباء کی وجہ سے بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوا ہےاوربیروزگاری،مہنگائی میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی جرائم میں اضافہ کا بھی باعث بن رہی ہے۔اس مہنگائی کی وجہ سے دیہاڑی دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے خودکشی کی شرح میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، اس مہنگائی کی وجہ سے والدین اپنی بچوں کولوگوں کے گھروں میں کام کروانے پر مجبور ہے  حکومت عوام کو صبروتحمل کا درس دیتی نظر آتی ہے،اور مدینے کی ریاست بنانے کا دعویٰ کرتی ہے، مدینہ کی ریاست  تووہ تھی جس میں حضرت عمرفاروقؓ نے اپنی تنخواہ ایک مزدورکی اجرت کے مساوی رکھی جس پر آپ ؓسے پوچھا گیا کیا اتنی کم آمدنی میں آپؓ کا گزاراہو جائے گا آپؓ نے کہا اگر میرا اس میں گزارا نہ ہوا تو میں مزدور کی اجرت بڑھا دوں گا۔ محترم وزیراعظم صاحب کا ااپنا گزارہ دو لاکھ میں نہیں  ہوتا لیکن غریب عوام کو صبر و تحمل اور بردباری کا درس دیتے ہیں، حکومت محض بلندوبانگ دعوے کرتی ہے، لیکن عملاًکوئی کام کرتی دیکھائی  نہیں دیتی۔  بڑھتی ہوئی مہنگائی پر نوٹس بھی لیے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجودشرح مہنگائی میں کمی کے بجائے اضافہ ہی دیکھنے میں آتا ہے۔نون لیگ کی حکومت کے وقت موجودہ حکومت نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری پر عوام کو سول نافرمانی پر اکسایا تھا اور طویل دھرنا دیا تھا ،جسکی وجہ سے ملکی معشیت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا تھا ۔اور خود اقتدار میں آنے کے بعد کمزور معشیت کا روناروتے نظر آئے۔اور مہنگائی میں  اضافہ ہی کرتے چلے گئےیہاں تک کے سال میں دو بار بجٹ پیش کیا گیا لیکن عوام کو کوئی ریلیف نہ دیا جاسکا امسال بھی بجٹ پیش ہوا تو عوام کو ریلیف سے محروم ہی رکھا گیا اگرچہ عوام نے موجودہ حکومت سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں،حکومت کوچاہئے کہ عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرے،اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  87319
کوڈ
 
   
مقبول ترین
نیشنل اسمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز (ایس ایم ای ڈی اے) پالیسی کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ صدی میں ایک مرتبہ ایسی صورتحال ہوتی ہے، عالمی مالیاتی ادارے (ڈبلیو ایچ او) سمیت دیگر اداروں نے تسلیم کیا
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے سانحہ مری کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں 15 افسران کو معطل کرکے انضباطی کارروائی کا حکم جاری کردیا۔ میڈیا کے مطابق سانحہ مری کی تحقیقاتی کمیٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار
وزیراعظم عمران خان نے سانحہ مری میں متعدد افراد کی اموات پر تحقیقات کا حکم دے دیا۔ میڈیا کے مطابق مری اور گلیات میں شدید برفباری اور ٹریفک جام کے باعث سردی سے ٹھٹھر کر مرنے والے افراد کی تعداد 21 ہوچکی ہے
مری میں برفباری میں پھنسے 21 سیاح شدید سردی سے ٹھٹھر کر جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ وزیرداخلہ شیخ رشید نے فوج اور سول آرمڈ فورسز کو طلب کرلیا ہے۔ملک کے پُرفضا مقام مری میں شدید برف باری کے باعث ہزاروں سیاح پھنس کر رہ گئے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں