Wednesday, 16 June, 2021
سعودی عرب کا "علامتی تعداد" کو حج کی اجازت دینے پر غور

سعودی عرب کا
فائل فوٹو

ریاض۔ سعودی حکومت نے کورونا وائرس وبا کی وجہ سے رواں برس حاجیوں کی تعداد کو نہایت مختصر ترین رکھنے پر غور شروع کردیا ہے۔  تمام ممالک کے حج کوٹہ کو 20 فیصد تک کرنے کا امکان ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کی حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہونے کے بعد رواں برس حج میں عازمین کی تعداد کو بڑے پیمانے پر کم کرنے کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے۔ 

حج کے معاملات سے جڑے ذرائع کا کہنا تھا کہ حکام رواں برس صرف علامتی تعداد کو حج کی اجازت دینے پر غور کر رہے ہیں جبکہ بزرگوں پر پابندی اور صحت کے حوالے سے سختی کی جائے گی۔رپورٹ کے مطابق بعض حکام کا مشورہ ہے کہ حج کو منسوخ کردیا جائے جبکہ بعض حلقوں کی جانب سے تمام ممالک کو معمول کے کوٹے سے 20 فیصد کی اجازت دینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق رواں برس جولائی کے آخر میں حج انتظامات سے متعلق اجلاس میں سعودی حکام نے عازمین کی تعداد مختصر کرنے پر غور کیا، صرف علامتی تعداد کو مناسک حج ادا کرنے کی اجازت دی جائے گی تاکہ فریضہ بھی ادا ہوجائے اور کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کا خدشہ بھی کم سے کم ہو۔

علاوہ ازیں بزرگ عازمین حج پر مکمل پابندی اور صحت کے حوالے سے سخت اقدامات پر بھی گفت وشنید کی گئی تاہم ابھی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے جس کا اعلان خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز خود کریں گے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ تمام ممالک کے حج کے کوٹے سے صرف 20 فیصد کی اجازت دی جائے تاہم اس طرح سعودی معیشت بھی پڑے گا۔

خیال رہے کہ ہر سال دنیا بھر سے لگ بھگ 25 لاکھ مسلمان حج کی سعادت حاصل کرنے سعودی عرب آتے ہیں جس سے معیشت میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے تاہم سعودی حکومت کے اعلیٰ حکام نے معیشت کے بجائے صحت اور عوام کی جانوں کو ترجیح دینا کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سے قبل یہ اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں تھیں کہ خدا ںخواستہ حج کو دیگر مماک کے لیے منسوخ کردیا جائے گا اورصرف چند مقامی افراد یہ فریضہ تمام عالم اسلام کی جانب سے ادا کریں گے تاہم ایسی اطلاعات کو رد کردیا گیا ہے اور ممکن ہے حج کے لیے تمام ممالک سے مختصر تعداد کو اجازت دی جائے گی تاکہ ہر ملک کا فریضہ ادا ہوجائے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے مارچ میں غیر ملکی پروازوں پر پابندی عائد کی تھی اور ملک میں کرفیو نافذ کردیا تھا جس میں بعد ازاں نرمی کی گئی تھی، لیکن گزشتہ ہفتے ایک مرتبہ پھر جدہ میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے، کئی دنوں تک کرفیو کے نفاذ کے بعد مقامات مقدسہ کو کھول دیا گیا ہے تاہم جدہ میں تاحال کرفیو نافذ ہے ایسی صورت حال کے باعث سعودی عرب نے دو ماہ قبل مسلمانوں سے حج کی تیاریاں مؤخر کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  89659
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات جانے کے لیے اسرائیلی پروازوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ غیر ملکی خبررساں ادارے (رائٹرز) کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور وائٹ ہاوس کے سینیئر ایڈوائزر جیراڈ کشنر اور سعودی حکام
انصار اللہ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے شمال میں میزائل حملہ کیا ہے جبکہ سعودی ذرائع کا کہنا ہے کہ دارالحکومت ریاض میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔
سعودی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال مملکت میں مقیم افرادہی حج کی سعادت حاصل کرسکیں گے۔ سعودی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق کورونا وائرس کے باعث حج کے شرکاءکی تعداد کو محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، رواں سال سعودی شہری اور اقامہ ہولڈر ہی حج ادا کرسکیں گے ۔
گلف نیوز کے مطابق سعودی حکومت کورونا وائرس کے تیزی سے بڑھتے کیسز کے باعث رواں سال حج منسوخ کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کررہی ہے، سعودی وارت حج و عمرہ کے سینئیر افسر کے مطابق معاملے کا انتہائی سنجیدگی اور باریک بینی

مقبول ترین
مقبوضہ بیت المقدس پر اسرائیلی جارحیت کے بعد غزہ کی جانب سے یروشلم پر راکٹ حملے کیے گئے ہیں جس کے جواب میں اسرائیل نے بھی غزہ پر فضائی حملہ کردیا، نتیجے میں تین بچوں سمیت 9 فلسطینی شہید ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے
سعودی عرب اور ایران کے درمیان عوامی سطح پر پہلی بار بات چیت کی تہران نے تصدیق کی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ خلیج فارس خطے
پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے عیدالفطر کے احترام میں تین روزہ فائر بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا ہے کہ ہم ان تمام کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں جو تشدد میں کمی لانے کا باعث
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ملک کے 16شہروں میں کورونا کیسز کی شرح بہت زیادہ ہے، جہاں سول اداروں کی مدد کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کردی گئی ہے۔ راولپنڈی میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں