Monday, 10 May, 2021
حزب اللہ کا عروج اور اسرائیل کا زوال

حزب اللہ کا عروج اور اسرائیل کا زوال
فائل فوٹو

محمد علی اعجازی

 *قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّـٰى*

*بے شک وہ کامیاب ہوا جو پاک ہو گیا۔*
دنیا میں لوگ کامیابی حاصل کرنے کےلیے ہر مشکل کو گلے لگانے کےلیے تیار بیٹھے ہیں کامیاب ہونا اور ترقی کی راہوں پر گامزن ہونا ہر ایک کی دلی تمناء ہے اب کامیابی کے معیارات مختلف ہیں اس حساب سے اسکی راہ بھی مختلف ہوتی ہے کسی کا معیار حکومت ہے، کسی کا دولت جمع کرنا اور کسی کا علمی میدان جیت جانا ہے وغیرہ ۔
اس ہدف کے پیش نظر فقط دور حاضر میں نہیں بلکہ صدیوں پرانا دستور ہے کہ حکومت و بادشاہت کے حصول کےلیے ناقابل تصور فعل انجام دیتے اور دولت جمع کرنے کےلیے تلخیوں کیساتھ جاملنا تو بہت ہی آسان بلکہ بھائی اپنے ہی سگے بھائی کی جان تک لینے میں دریغ نہیں کرتا
مگر اللہ پاک نے کامیابی کےلیے سبب اور راز تزکیہ کو قرار دیا یعنی انسان اگر کامیاب ہونا چاہتا ہے تو خون کی حولی کھیلنے کی ضرورت نہیں اور نہ کسی جرم کا مرتکب ہونے کی بھی ضرورت ہے بلکہ اسکا سادہ، آسان اور مصاب ترین راستہ تزکیہ نفس ہے ۔
مگر سنت الہی کے مقابلے میں قانون شیطان تزکیہ نہیں بلکہ بلندی، طاقت اور زورگوئی ہے جیسے فرعون نے اپنے پیروکاروں کو کہا کہ 
*وَقَدْ أَفْلَحَ الْيَوْمَ مَنِ اسْتَعْلَىٰ*
اور  بتحقیق آج وہ جیت گیا جو غالب رہا۔
 یعنی آج کامیابی اور عروج اسکا مقدر بنے گا جس نے بلندی حاصل کی۔
مگر قانون الہی پر عمل کرتے ہوئے خون کے سمندر میں علم حق لہرانے والے حسین ابن علی علیہ السلام فاتح قرار پائے اسی روش اور قربانیوں سے درس لینے کا ہی نتیجہ ہے کہ حزب اللہ دنیا کے سپر پاور کے حمایت یافتہ اسرائیل کی ناک زمین پر رگڑوانے میں کامیاب ہوا ۔
حزب اللہ نے درس کربلاء اور قانون الہی کو اپنا مشعل راہ قرار دیا اسکی بہت ساری مثالیں موجود ہیں مضمون کے بساط کے مطابق انتہائی اختصار کیساتھ کچھ کی طرف اشارہ کروں گا ۔
1۔ سنت الہی کا پابند اور روش رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم کو نمونہ عمل بنا کر میدان جنگ میں اترنا لبنانی مجاہدوں کے ماتھے پر کامیابی کی بندیاں ثابت ہوئی ۔
رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم نے تعلیمات الہی سے مسلح ہو کر سرکش کفار و مشرکین کو ایک خدا کے سامنے سجدہ ریز کروادیا ۔
اسی طرح حزب اللہ نے  لباس تقوی کو سپر بنا کر اسرائیل جیسے فرعون صفت مغرور حکومت کو مختصر مدت میں شکست کا لقمہ کھلا کر سالوں پرانے غرور و گھمنڈ کو مٹی میں ملا دیا۔
حزب اللہ سنت الہی کے تمام ارکان پر کماحقہ عمل پیرا ہے جسکا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حزب اللہ کے افواج میں سے کسی مجاہد پر نماز شب کی قضاء نہیں ہے۔


2۔ *جزبہ شھادت و شوق شھادت*

جس طرح معرکہ کربلاء میں انصار حسینی( ع) پورے جزبہ ایمانی سے لبریز تھے مجاہدین کے شانہ بشانہ مستورات کی تشویق شھادت قابل دید تھی 
کوئی اپنے جوان بیٹے کی تیاری میں مدد کرہی ہے تو کوئی اپنے شش ماہ شیر خوار کو جزبہ شھادت کی لوریاں سنارہی ہے۔
اسی لیے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب کہا کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے  محرم و صفر کی قربانی کا صدقہ ہے تبھی تو ایک 'خاتون زینبی' کا جگر گرما دینے والی صدا آج بھی ایران کی فضاؤں میں گونج رہی ہے، جب شوہر سمیت چار بیٹوں کی شھادت پر تعزیت پیش کی تو کہنے لگی "مجھے تعزیت نہیں مبارکبادی دی جیۓ میں ہی وہ خوش قسمت خاتوں ہوں جس نے  راہ خدا میں پانچ عظیم ہستیوں کو قربان گاہ تک پہنچایا ہے 
یہی جزبہ لبنان کی سر زمیں پر دیکھنے کو ملتا ہے جب کوئی ماں کیسامنے جوان بیٹے کا جنازہ حاضر کرے تو رونا، پیٹنا تو دور کی بات پھولوں کے گلدستے ہاتھوں میں لیے خوش آمد کررہی ہوتی ہے یہ عظیم معجزے سے کم نہیں اور تو اور مقاوتی ایک زخمی مجاہد کیساتھ ایسا واقعہ پیش آیا جس نے لبنانی مستورات کے دلوں کو اور زیادہ مشن زینبی (ع) کا دیوانہ بنادیا واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک مجاہد کو اپنے پیروں سے محروم ہونا پڑا تو اسکی منگیتر نے اپنے والدین سے کہا "میری شادی جلدی کرادو کیونکہ میں حضرت زینب (س) کے حضور شرمندہ نہیں ہونا چاہتی، مجھے سپاہ زینب(س) کی خدمت کرنی ہے" ۔۔! ایسا منظر پیش کرنے کی طاقت کسی اور ملت کے پاس ہے۔۔۔۔؟!

*3۔ غریبوں اور نادار بندوں کا ہاتھ* *تھامنا*

حزب اللہ کی تحریک میں عدالت علی علیہ السلام کی رنگ موجود رہی ہے۔
حزب اللہ فقد جوانوں یا مسلمانوں پر مشتمل نہیں ہے بلکہ تمام صنفِ بشر اور تمام مسلکوں کے افراد پر مشتمل تنظیم ہے ۔ جس میں کسی اقلیت کیساتھ نا انصافی کی گنجائش دور دور تک نہیں ہے۔
جسکی بہترین مثال حزب اللہ کے بانی حضرت موسی الصدر (رحمۃ اللہ علیہ) کے زمانے میں ایک عیسائی دوکاندار شکایت لیکر پہنچا کہ میرے ساتھ ظلم ہورہا ہے کوئی میری دوکان کی طرف رخ نہیں کرتا تو شھید موسی الصدر (قدس سرہ) خود محبت کے پیروں پر چلتے ہوئے اسکی دکان پر تشریف لایے اور آئس کریم کھا کر نہ فقط اس کا ہاتھ تھاما بلکہ پورے خطے کے عیسائی برادری کا دل جیتا جس کا نتیجہ ہر بار الیکشن کے دوران دیکھنے کو ملتا ہے کہ آج بھی حزب اللہ زیادہ تر مسیحی حلقوں میں بھاری  اکثریت سے کامیابی سے ہمکنار ہورہی ہے ۔
4۔ *ولایت فقیہ کی سرپرستی* 
حزب اللہ کے عروج کا نمایاں سبب ولایت فقیہ کے ماتحت باقاعدگی سے محو سفر ہونا ہے یہ بات بارہا حزب اللہ کے سرپرست حسن نصراللہ نے اعلانا کہا ہے اور 33 روزہ جنگ کے دوران بھی دیکھنے کو ملتی ہے کہ حزب اللہ لبنان  انقلاب اسلامی اور رہبر کبیر سید علی خامنہ ای کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور انہیں کی سرپرستی میں بلندیوں کو چھورہی ہے 
جیساکہ اسلامی تحریک مزاحمت کے سربراہ جنرل حجہ الاسلام والمسلمین '' اکرم الکعبی'' نے حزب اللہ کی کامیابی کی تیرہویں سالگرہ کے موقع پر اپنے بیان میں ایسے راز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے مجاہدین کے درمیان کسی قسم کا کوئی توازن اور تقابل نہیں تھا اسلئے کہ دشمن امریکہ اور یورپ کی پیشرفتہ ترین ٹیکنالوجی سے لیس تھا اور اسکے مقابلے میں حزب اللہ کے مجاہد خالی ہاتھ کوہ و دشت میں محاصرہ  میں تھے ۔ اسکے باوجود حسن نصراللہ بڑے اطمینان سے فتح کی خوشخبری سنا رہےتھے  تو میں نے ایک ملاقات  کہ جس مین عماد مغنیہ بھی موجود تھے، کے دوران یہ سوال پوچھ لیا کہ آپ نے  اتنے اطمینان کے ساتھ فتح کی بشارت دی!؟تو سید نے جواب میں کہا کہ ہم بری طرح محاصرے میں تھے دشمن نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا تھا اس وقت رہبر انقلاب اسلامی کی طرف سے پیغام ملا کہ کامیابی حزب اللہ کے  قدم چومے گی اور کہا کہ مجھے امام خامنہ ای کی ہر بات پر مکمل یقین تھا  اور میں انہیں کے توسط سے فتح سے پہلے خوشخبری دے رہا تھا 
اور جب فتح ملی تب بھی سید مقاومت نے علی الاعلان کہا کہ امام خامنہ ای کے حکم کے مطابق عمل کیا تو کامیابی ہمیں نصیب ہوگئی۔
5۔ *دعا و توسل*
حزب اللہ اپنی کوشش و استقامت کے ساتھ ساتھ دعا وتوسل سے بھی متمسک رہی  جیساکہ کچھ عرصہ قبل شائع ہونے والے انٹرویو میں شھید اسلام، ناصرملت، مالک اشتر امام خامنہ ای شھید قاسم سلیمانی (اعلی اللہ مقامہ) فرماتے ہیں کہ مجھے جنگی صورت حال امام تک پہنچانے کے لیے ایران آنا جانا پڑتا تھا اور حالات بیان کرتے ہوئے میں نے بتایا کہ اب مکمل چاروں طرف سے ہمیں دشمن نے گھیر لیا ہے تو رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای نے لبنانی مجاہدین اور عوام کے نام پیغام بھیجا اور تاکید کیساتھ کہا کہ تمام مجاہدین سے کہیں دعائے جوشن صغیر پڑھیں اور فر مایا کہ یقینا اللہ کی نصرت آپ کی نصیب  میں ہوگی۔ جب یہ پیغام مجاہدین تک پہنچایا تو دعائے جوشن صغیر کی تلاوت بڑے شوق سے کی جانے لگی حتی سرکاری ٹیلی وژن پر بھی نشر کرنے کا سلسلہ جاری ہوا اور انقلاب اسلامی کے  نور سے  بالآخر دنیا کے نقشہ پر ایک اور حسینی لشکر کے روپ میں حزب اللہ نمودار ہوا جو کہ امام راحل (رحمت اللہ علیہ) کے اس فرمان کا مصداق اتم اور عملی صورت بھی بنی، کہ آپ نے انقلاب اسلامی کے متعلق فر مایا تھا کہ'' *انقلاب ما انفجار نور بود*''
اسکے مقابلے میں اسرائیل کا وجود ظلم و زیادتی اور نا جائز اصولوں پر استوار تھا اور صیہونی کارندے اپنے زور بازو و طاقت کے بل بوتے اور تعلیمات قرآن کے خلاف فرعونی اصولوں کے ذریعے کامیابی کا خواب دیکھنے لگے تھے تو موسی وقت نے عصاء ایمانی اور قانون الہی کے ذریعے فرعون وقت کو شکست دے دی نہ فقط شکست دے کر صدر اسلام کی فتح مبین کی یاد تازہ کردی بلکہ رہبر کبیر نے واضح لفظوں میں کہا کہ آئندہ 25سالوں کے دورانیہ میں دنیا کا نقشہ وجود اسرائیل سے پاک ہوگا جوکہ 21 سال پانچ ماہ،کچھ دن رہ گئے ہیں ۔ 
اور ہمارا ایمان ہے کہ جب میرے رہبر نے کہا ہے کہ اسرائیل مٹے گا تو مٹے گا
اور انقلاب اسلامی روز بروز عروج کی طرف بڑھے  گا اور وارث انقلاب کے ہاتھوں معراج کو پہنچے گا اور جو جو ثانی نوح کے سایے تلے کشتی انقلاب میں سوار ہوگا وہ یقینا ناجی قرار پائے گا اور جو جوکشتی میں سوار ہونے سے منہ پھیر لے گا تو اسے  عذاب الہی کے طوفانی موجوں کی نذر ہونے سے کوئی نہیں بچاسکے گا

*فانوس بن کے جسکی حفاظت ہوا کرے*

*وہ شمع کیا بھجے جسے روشن خدا کرے*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

درج بالا مضمون "مقابلہ مقالہ نویسی" یوم القدس کے حوالے سے منعقد کردہ، محمد علی حجازی کا موصول ہوا جو نویں جماعت کے طالب علم ہیں۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  37502
کوڈ
 
   
مقبول ترین
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ملک کے 16شہروں میں کورونا کیسز کی شرح بہت زیادہ ہے، جہاں سول اداروں کی مدد کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کردی گئی ہے۔ راولپنڈی میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار
یران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’ان پر پاسداران انقلاب کی کارروائیوں کی حمایت کے لیے سفارت کاری کی قربانی دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔‘ عرب نیوز کے مطابق محمد جواد ظریف کے لندن میں ایران نیشنل ٹی وی چینل کو تین گھنٹے طویل انٹرویو میں ایرانی
قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے پر کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے لاہور کے مرکزی دھرنے سمیت ملک بھر میں احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ میڈیا کے مطابق حکومت کی جانب سے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق قرارداد
عوامی نیشنل پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کے نتیجے میں اتحاد ٹوٹ گیا اور اے این پی رہنماؤں نے پی ڈی ایم کے تمام عہدے چھوڑ دیے۔ پشاور میں اے این پی کی مرکزی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں