Sunday, 14 April, 2024
عمران خان سمیت پی ٹی آئی اراکین کا قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان

عمران خان سمیت پی ٹی آئی اراکین کا قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان

اسلام آباد - چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سمیت پی ٹی آئی اراکین نے قومی اسمبلی سے استعفے دینے کا فیصلہ کرلیا۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس ہوا جس میں 122 ایم این ایز شریک ہوئے۔ اجلاس میں قومی اسمبلی سے استعفوں کے آپشن پر غور کیا گیا۔ عمران خان نے استعفوں کی تجویز پر ارکان قومی اسمبلی سے رائے لی۔

اجلاس کے شرکاء نے عمران خان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی قیادت کے ساتھ کھڑے رہنے کی یقین دہانی کرائی۔ پارٹی ارکان نے کہا کہ استعفوں سے متعلق عمران خان جو فیصلہ کریں گے قبول ہوگا۔

پارٹی ارکان نے کہا کہ جو بھی وزیراعظم حکومت سے باہر نکلتا ہے تو اس پر کرپشن کے الزامات لگتے ہیں، الحمد اللہ عمران خان پر کوئی کرپشن کے الزامات نہیں ہیں، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔

پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کی استعفوں کے آپشن پر منقسم رائے سامنے آئی۔ اکثریتی ارکان نے اسمبلیوں سے مستعفی نہ ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ استعفے دینے کی بجائے پارلیمنٹ میں جمہوری لڑائی لڑی جائے۔

میڈیا کے مطابق فواد چوہدری، حماد اظہر، شیخ رشید، علی اعوان مستعفی ہونے کے حق میں ہیں۔ شاہ محمود قریشی، فیصل جاوید، فخر امام سمیت اکثریتی ارکان  مستعفی نہ ہونے کے حق میں ہیں۔

بحث کے بعد پارٹی نے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اختیار عمران خان کو دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جب حکم کریں گے استعفے جمع کرادیں گے۔ مشاورت کے بعد عمران خان نے کہا کہ میرا یہی فیصلہ ہے کہ ہم اسمبلی سے استعفے دیں گے، میں ان چوروں کے ساتھ اسمبلی میں نہیں بیٹھوں گا، مجھے اکیلے بھی استعفی دینا پڑا تو میں استعفی دوں گا۔

عمران خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف پر 16 ارب اور 8 ارب روپے کے کرپشن کیسز ہیں، اسے جو بھی وزیراعظم سلیکٹ اور الیکٹ کرتا ہے اس سے بڑی ملک کی توہین نہیں ہو سکتی ، ہم قومی اسمبلی سے استعفے دے رہے ہیں۔

اس فیصلے کے بعد شاہ محمود قریشی، قائم مقام اسپیکر قاسم سوری، فرخ حبیب ، شفقت محمود، مراد سعید، عالیہ حمزہ، ایم این اے شاہد خان نے اپنے اپنے استعفے دے دیے۔ پی ٹی آئی ارکان نے استعفے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل عامر کیانی کے پاس جمع کروادیے۔ اب تک 125 ارکان کے استعفے آچکے ہیں۔

قبل ازیں عمران خان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تو صحافی نے سوال کیا کہ کل کے عوامی احتجاج پر کیا کہتے ہیں؟۔ عمران خان نے جواب دیا کہ عزت دینے والا اللہ ہے۔

گزشتہ روز وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے پر پی ٹی آئی چیئرمین کی کال پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور حامیوں نے ملک گیر احتجاج کیا، جس میں مظاہرین نے اپوزیشن اور امریکا کے خلاف شدید نعرے بازی کی جبکہ اپنے قائد سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  55043
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ 18 جنوری کی صبح پاکستان نے ایران میں موجود دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر مؤثر حملہ کیا، پاکستان نے حملہ آور ڈرونز، راکٹس اور دیگر ہتھیاروں سے کارروائی کی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ سانحہ 9 مئی پر لیفٹیننٹ جنرل سمیت 3 اعلیٰ فوجی افسران کو نوکری سے برطرف کردیا گیا ہے جبکہ سازش میں ملوث منصوبہ سازوں کو کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹرریشن اتھارٹی (نادرا) کے چیئرمین طارق ملک نے استعفیٰ دے دیا۔ میڈیا کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات میں چیئرمین نادرا نے استعفیٰ پیش کیا۔
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہمارے احتجاجی مظاہرے کے بعد عدلیہ کی کارکردگی بہتر ہوئی۔ جمعیت علمائے اسلام اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم

مقبول ترین
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ 18 جنوری کی صبح پاکستان نے ایران میں موجود دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر مؤثر حملہ کیا، پاکستان نے حملہ آور ڈرونز، راکٹس اور دیگر ہتھیاروں سے کارروائی کی۔
پاکستان نے ایران میزائل حملے کا بھرپور جواب دیتے ہوئے ایران میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا
سینیٹ میں سینیٹر رضا ربانی نے آفیشل سیکرٹ (ترمیمی) بل 2023 پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس کا مسودہ پھاڑ دیا اور کہا کہ یہ بل اتنا سادہ نہیں جتنا نظر آرہا ہے، آج صبح ہی میں نے 8 ترامیم تجویز کیں ہیں۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات منفرد اور مضبوط ہیں جس نے تمام چیلنجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی مضبوطی کو ثابت کیا ہے۔ پیپلزلبریشن آرمی اور پاکستان آرمی ایک دوسرے کے بھائی ہیں

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں