Monday, 10 May, 2021
کرپشن کے سوا اپوزیشن سے بات کرنے کیلئے تیار ہوں، عمران خان

کرپشن کے سوا اپوزیشن سے بات کرنے کیلئے تیار ہوں، عمران خان

اسلام آباد ۔ وزیر اعظم  نے کہا ہے کہ این آراواورکرپشن کےسوا حکومت اپوزیشن سےبات کرنے کے لیے تیارہے۔ میڈیا کے مطابق سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے  کہا کہ استعفی دینا اپوزیشن کا حق ہے۔ اگر اپوزیشن نے استعفے دیئے تو حکومت خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخابات کروادے گی۔

اس سوال پر کہ اپوزیش پُر اعتماد نظر آتی ہے وزیراعظم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ اعتماد تو میرا بھی بڑھ رہا ہے۔ اپوزیشن کے اعتماد کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ باہر سے لوگ ان سے ملے ہوئے ہیں جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں این آر او نہیں دوں گا یہ ملک کے ساتھ غداری ہوگی۔ جنرل مشرف نے نوازشریف اور زرداری کو این آراودے کر ملک کے ساتھ بڑی غداری کی تھی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پارلیمانی ڈیموکریسی کیسے چلے گی جب قیادت ہی پر کرپشن کے الزامات ہیں۔ اپوزیشن کا مطالبہ صرف نیب کو ختم کرناہے۔ اگر میں آج یہ کردوں یہ تمام تحریکیں ختم کردیں گے۔ لیکن میں ایسا بالکل نہیں کروں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی نہیں سوچا اسٹبلشمنٹ آج کیا کررہی ہے۔ لائن بڑی واضح ہے، اسٹیٹس کو کا جو حصہ ہیں وہ نہیں چاہیں گے کہ اسٹیٹس کو ٹوٹے۔ پنجاب میں اربوں روپے کی ریاستی اراضی  پر چالیس لوگوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ اوپر سے نیچے تک ان کے مفادات ملے ہوئے ہیں۔ پنجاب میں ہاتھ ڈال چکے ہیں، پنجاب میں ان کی جڑیں ہیں کسی کونہیں چھوڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سول ملٹری تعلقات اس وقت ملک میں بہترین سطح پر ہے۔ تمام ادارے ایک پیج پر ہیں۔ کورونا وائرس کے باعث بلدیاتی انتخابات میں تاخیر ہورہی ہے ۔ آئندہ سال اپریل میں یابعد میں بہرحال ہم بلدیاتی انتخابات کرادیں گے۔

کورونا سے متعلق صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن عوام کی جانوں سے کھیل رہی ہے۔ کورونا تیزی سے بڑھ رہاہے سب کو سوچنا چاہئے۔ امریکا میں تین ہزار اموات روزانہ ہورہی ہیں۔ انگلینڈ،اٹلی میں لاک ڈاؤن ہے۔ ہم اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی پرہی پہلے مرحلے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں ہم لاک ڈاؤن کرکے پورا ملک بند نہیں کرسکتے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے مجھ پر کوئی دباؤنہیں ڈالا گیا  سارے یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ مجھ پر دباؤنہیں ڈالا جاسکتا۔ یہ جمہوریت ہے ایسا کوئی دباؤ نہیں ہوسکتا۔

سینیئر صحافیوں سے گفتگو میں وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ اقتدارمیں آنے کے بعد ہم سے بڑی غلطی آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی ہوئی۔ ہمیں فوری طور پر آئی ایم ایف کے پاس جاناچاہئے تھا جوہم نہیں گئے۔ پاور سیکٹر،پی آئی اے ، اسٹیل ملز سمیت پبلک سیکٹر میں ہمیں فوری اصلاحات کرنی چاہئے تھیں ہم نے دیر کردی۔ فوری اصلاحات نہ کرنے سے ملک کو نقصان ہوا۔

عمران خان نے بتایا کہ ہم نے طویل المیعاد منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ پانی کے ذخیر ے نہیں تھے ،پچاس سال بعد مہمند اوربھاشاڈیم بنارہے ہیں۔ماحول کو صاف کررہے ہیں یورو فائیو لے کر آرہے ہیں۔کلین انرجی، ماڈل سٹی بنارہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے بجلی کے ریٹ بڑھانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تمام تعلیمی ادارے بند کئے ہیں دینی مدارس کے لئے بھی یہی پالیسی ہے۔ اگردینی مدارس کھلے ہیں تومیں اسے چیک کروں گا کہ ایسا کیسے ہورہاہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  4911
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت کو پی ڈی ایم سے کوئی خطرہ نہیں، اپوزیشن کی پوری تحریک این آر او کیلئے ہے جو نہیں دوں گا۔ میڈیا کے مطابق پارٹی ترجمانوں کے اجلاس کی صدارت کے دوران وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کو
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا ورچوئل اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف، پاکستان پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار
آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) نے حکومت مخالف نیا اتحاد بنا لیا. جنوری 2021ء میں حکومت مخالف لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم کے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اپوزیشن نے حکومت مخالف الائنس کے نام پر مشاورت کے بعد اسے
پاکستان میں صبح تقریباً ساڑھے نو بجے شروع ہونے والا سورج گرہن اپنے عروج پر پہنچنے کے بعد، بتدریج اپنے اختتام کی طرف بڑھتے ہوئے اب (دوپہر 1 بج کر 10 منٹ تک) مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے اور سورج اپنی معمول کی چمک پر واپس آچکا۔

مقبول ترین
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ملک کے 16شہروں میں کورونا کیسز کی شرح بہت زیادہ ہے، جہاں سول اداروں کی مدد کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کردی گئی ہے۔ راولپنڈی میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار
یران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’ان پر پاسداران انقلاب کی کارروائیوں کی حمایت کے لیے سفارت کاری کی قربانی دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔‘ عرب نیوز کے مطابق محمد جواد ظریف کے لندن میں ایران نیشنل ٹی وی چینل کو تین گھنٹے طویل انٹرویو میں ایرانی
قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے پر کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے لاہور کے مرکزی دھرنے سمیت ملک بھر میں احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ میڈیا کے مطابق حکومت کی جانب سے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق قرارداد
عوامی نیشنل پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کے نتیجے میں اتحاد ٹوٹ گیا اور اے این پی رہنماؤں نے پی ڈی ایم کے تمام عہدے چھوڑ دیے۔ پشاور میں اے این پی کی مرکزی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں