Monday, 27 June, 2022
بجٹ 23-2022: ملکی دفاع کے لیے ایک ہزار 523 ارب روپے مختص

بجٹ 23-2022: ملکی دفاع کے لیے ایک ہزار 523 ارب روپے مختص

اسلام آباد - مالی سال 23-2022 کے لیے بجٹ میں ملکی دفاع کے لیے ایک ہزار 523 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے مالی سال 23-2022 کے لیے 95 کھرب روپے کے حجم کا بجٹ پیش کیا۔

ملکی دفاع کے لیے مختص بجٹ کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے مفتاح اسمٰعیل نے بتایا کہ مالی سال 23-2022 کے بجٹ میں دفاع کے لیے ایک ہزار 523 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ نے ایوان میں بجٹ تقریر کے دوران بتایا کہ دفاع پر ایک ہزار 450 ارب اخراجات آئیں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر کے دوران دیگر اخراجات کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 23-2022 کے بجٹ میں کل اخراجات کا تخمینہ 9ہزار 502 ارب روپے ہے جس میں قرضوں کی ادائیگی کی مد میں 3ہزار 144ارب روپے رکھے گئے ہیں جب کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے 800ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

مفتاح اسمٰعیل نے عوامی فلاحی اقدامات پر روشنی ڈالنے ہوئے بتایا کہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 364 ارب روپے رکھے گئے ہیں جب کہ ایک کروڑ طلبہ کو بے نظیر اسکالرشپ دی جائے گی، تعلیم کے لیے 109ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ 40ہزار روپے ماہانہ سے کم آمدن والوں کو ماہانہ 2 ہزار روپے دیے جائیں گے۔

وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر کے دوران بتایا کہ رواں مالی سال ڈیٹ سروسنگ کی مد میں 3 ہزار 144 ارب خرچ ہونگے جب کہ پبلک سروس ڈیولپمنٹ پرگرام پر اخراجات 5 سو 50 ارب ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر [email protected] پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  48014
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
قومی اسمبلی نے انتخابات ترمیمی بل 2022ء کے ذریعے سابق حکومت کی الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق ترامیم ختم کرنے کی منظوری دے دی۔ میڈیا کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں
وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان کے عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 5 ارب روپے کے امدادی پیکیج کی منظوری دے دی۔ میڈیا کے مطابق وزیر اعظم نے افغانستان کے لیے قائم ایپیکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر خزانہ شوکت ترین، آرمی
کلرسیداں میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں سینیٹ الیکشن کے کرپٹ نظام کی سپورٹ کررہی ہیں، مولانا فضل الرحمان اس نظام کے سب سے بڑے بینیفشری اور کرپشن کے بادشاہ ہیں، یاد رکھیں اگر اوپن بیلٹنگ نہ ہوئی

مقبول ترین
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین اور سعودی عرب کب تک ہماری مدد کرتے رہیں گے؟ ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا، آئی ایم ایف سے تمام شرائط طے ہوگئیں اگر کوئی نئی شرط نہ آئی تو معاہدہ جلد ہوجائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز سے خطاب کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ موجودہ صورتحال میں
پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال 21 جون کو عالمی یومِ ہائیڈروگرافی منایا جاتا ہے جس کا مقصد ہائیڈروگرافی اور سمندروں سے متعلق معلومات میں اضافہ اور اس کے کردار کے حوالے سے آگہی پیدا کرنا ہے۔ عالمی ادارہ برائے
وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ امید ہے آئی ایم ایف پروگرام ایک آدھ دن میں بحال ہو جائے گا۔ اسلام آباد میں سینیٹ کی فنانس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد وزیر خزانہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پاکستان
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے صدر ڈاکٹر مارکس نے کہا ہے کہ فی الحال پاکستان کو گرے لسٹ سے نہیں نکالا جا رہا، اسلام آباد نے 34 نکات پر مشتمل 2 ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل کر لیا ہے۔ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ جائزہ ٹیم کی رپورٹ کے بعد کیا جائے گا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں