Friday, 09 December, 2022
آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے دھچکا پہنچا، تحریک انصاف

آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے دھچکا پہنچا، تحریک انصاف

 

 لاہور - پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ آئی ایس پی آر کی نیوز کانفرنس سے دھچکا پہنچا، ہم اداروں کی نیوز کانفرنس کا جواب نہیں دے سکتے۔ لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں اسد عمر، فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی اور ڈاکٹر شیری مزاری نے پاک فوج کے ترجمان اور ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیا۔

فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کو خطرات تھے اور وہ چھپے ہوئے نہیں، انہیں خیبرپختونخوا حکومت نے بیرون ملک نہیں بھیجا۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ آئی ایس پی آر کی نیوز کانفرنس سے دھچکا پہنچا، ہم اداروں کی نیوز کانفرنس کا جواب نہیں دے سکتے، عزت اور احترام کا رشتہ برقرار رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’صدر مملکت کو ہم نے خط لکھا آپ سائفر کی تحقیقات کروائیں، آپ تحقیات کیوں نہیں کروا رہے، بھارتی وزیر دفاع نے پریس کانفرنس کی کہ ہم پاکستان سے ملحقہ کشمیر اور گلگت بلتستان لیں گے،پاکستان کی فوج کی عزت ضروری ہے وہیں پاکستان کے سیاست دانوں کی عزت بھی ضروری ہے‘۔

’فوج پر تنقید عمران خان کا آئینی حق ہے‘
پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر نے کہا کہ فوج آئینی کردار میں رہنا چاہتی ہے یہ اچھی بات ہے،عمران خان نے کبھی چھپ کر انڈیا کے وزیر اعظم سے بات نہیں کی اور نہ عمران خان نے کبھی واشنگٹن اور لندن جا کر فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان فوج کے کچھ فیصلوں پر تنقید کرتے ہیں، یہ انکا آئینی حق ہے، انہوں نے کبھی ایسی بات نہیں کی جس سے ارادہ کمزور ہو۔ اسد عمر نے مزید کہا کہ آج پریس کانفرنس میں یہ کہا گیا کہ انہیں لانگ مارچ سے کوئی مسئلہ نہیں، یہ اچھی بات ہے۔

سائفر اہم نہیں تھا تو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کیوں طلب کیا گیا:
پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فیصل واؤڈا کی پریس کانفرنس سے لوگوں میں خوف پیدا کرنے کے لیے ایک ناکام کوشش کی گئی،سرکاری ٹی وی نے کوریج دی، پول کھل گیا اس کے پیچھے کون سی قوت تھی۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام اس دن شروع ہوا جب تحریک عدم اعتماد کی تیاری شروع کی گئی،عدم استحکام ہم نے نہیں کیا، ہم اسکا حل پیش کر رہے ہیں،ہم کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کروائے جائیں، جب ہم سے سائفر کے بارے میں بات کی گئی تو کہا گیا کہ اسکا ڈیمارچ دینا چاہیے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر سائفر اتنا اہم نہیں تھا تو اس معاملے پر قومی سلامتی کا اجلاس کیوں طلب کیا گیا اور اس حوالے سے فیصلے کیوں کیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مارچ پر امن، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہوگا۔

قتل سے تین منٹ پہلے میری ارشد شریف سے بات ہوئی:
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیری مزاری نے کہا ہے کہ قتل سے تین منٹ پہلے میری ارشد شریف سے بات ہوئی وہ وطن واپس آنا چاہتا تھا۔ شیری مزاری نے کہا کہ ارشد سے آخری میسج پر بات ہوئی اُس نے پاکستان آنے کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بھی جواب دیا تھا کہ انہوں نے میرے سر کی قیمت مقرر کردی ہے اس لیے میں چھپ رہا ہوں۔

شیری مزاری نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ارشد کو خطرہ نہیں تھا اگر ایسا ہوتا تو وہ مجھے ضرور بتاتا، صحافی کا قاتل وہی ہے جس نے اُسے قتل کی دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ حامد میر کو گولیاں لگنے پر جو کمیشن بنایا اُس کی رپورٹ آج تک سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے غلط کہا کہ ارشد شریف کو خطرہ نہیں تھا، میرے پاس میسیجز ہیں اور کالز ہیں، چھبیس اگست کو ارشد شریف کو ٹوئٹر پر میسج دیا اور اپنے ساتھ پیش آنے والے حالات و ملنے والی دھمکیوں سے آگاہ کیا تھا۔

شیری مزاری نے کہا کہ ارشد شریف کے حوالے سے کئی ثبوت موجود ہیں کہ اُسے کس نے دھمکیاں دیں، پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ سب کو بات کرنے کا حق ہے لیکن مجھے علم نہیں کہ میں بھی اٹھا لی جاؤں۔ انہوں نے کہا کہ ایم آئی سکس کے ڈائریکٹر کو کبھی پریس کانفرنس کرتے نہیں دیکھا، جمہوری ملک کے ادارے کے لوگ پریس کانفرنس کرتے ہیں لیکن سیاستدانوں کو بھی حق دیں وہ بات کریں، ہم قوم کی نمائندگی کرتے ہیں ہمیں بھی بچ بچا کر بات کرنا پڑتی ہے اگر وہ تنقید کریں گے تو ہمیں بھی وہ حق دیں جو آئین میں لکھا ہوا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر [email protected] پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  53092
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ سائفر اور ارشد شریف کے حوالے سے جڑے واقعات کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہے، تاکہ قوم سچ جان سکے، ہم کمزور ہو سکتے ہیں،ہم سے غلطی ہوسکتی ہے لیکن ہم غدار یا سازشی نہیں ہوسکتے۔
ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا ہے کہ آرمی چیف کو تاحیات توسیع کی پیش کش کی گئی۔ آپ کا سپہ سالار غدار ہے تو آج بھی اس سے چھپ کر کیوں ملتے ہیں؟۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد فیصلے کو عدالت میں چیلنج کردیا۔ میڈیا کے مطابق عمران خان کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے، جس میں کہا گیا ہے
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کی سینئر قیادت کو متنازع بنانے کی کوشش افسوسناک ہے۔

مقبول ترین
صدر مملکت عارف علوی نے اہم تقرریوں سے متعلق سمری پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد جنرل عاصم منیر نئے آرمی چیف اور جنرل ساحر شمشاد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر ہوگئے ہیں۔
سینئر صحافی اور اینکرپرسن ارشد شریف کی نماز جنازہ فیصل مسجد میں ادا کردی گئی ۔ نماز جنازہ خطیب فیصل مسجد پروفیسر ڈاکٹر قاری محمد الیاس نے پڑھائی، سیاسی، سماجی رہنمائوں، صحافی برادری سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
سینئر صحافی ارشد شریف کی موت گولیاں لگنے کے بعد دس سے تیس منٹ کے اندر واقع ہوئی۔ ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی، ارشد شریف کی لاش کا اندرونی و بیرونی تفصیلی معائنہ کیا گیا، ارشد شریف کے جسم کے مختلف اعضا کے نمونے لئے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ سائفر اور ارشد شریف کے حوالے سے جڑے واقعات کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہے، تاکہ قوم سچ جان سکے، ہم کمزور ہو سکتے ہیں،ہم سے غلطی ہوسکتی ہے لیکن ہم غدار یا سازشی نہیں ہوسکتے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں