Sunday, 17 May, 2026
ایران پر 3 بار حملے کا منصوبہ بنایا، سابق اسرائیلی آرمی چیف

ایران پر 3 بار حملے کا منصوبہ بنایا، سابق اسرائیلی آرمی چیف


تل ابیب - سابق اسرائیلی فوج کے سربراہ نے انکشاف کیا کہ گزشتہ سال ایران پر 3 بار حملوں کے تین منصوبے بنائے تھے۔ اسرائیلی فوج کے سبکدوش ہونے والے چیف آف اسٹاف جنرل اویو کوچاوی نے انکشاف کیا ہے کہ فوج نے گزشتہ ایک سال کے دوران ایران پر حملوں کے تین منصوبے بنائے تھے۔

اسٹاف جنرل اویو کوچاوی نے بتایا کہ یہ منصوبے جوہری پروگرام کے متعلق نہیں تھے بلکہ جوابی حملے کے طور پر تھے، حملوں کا مقصد جوہری تنصیبات اور جوہری تنصیبات کو مدد کرنے والے منصوبوں کو تباہ کرنا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی بڑی جنگ میں داخل ہونے کی بات آتی ہے تو اضافی فوجی مقامات اور اثاثے اہداف کی فہرست میں شامل کیے جائیں گے، ان کا یہ بیان اسی کے مطابق ہے جو اسرائیلی نشریاتی ادارے نے کوچاوی کی آخری تقریر کے بارے میں عربی میں شائع کیا تھا۔

عہدے سے سبکدوش ہونے سے پہلے میڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے مزید کہا کہ آج ایران کے پاس چار جوہری بم بنانے کے لیے کافی افزودہ مواد موجود ہے، تین 20 فیصد کی سطح پر اور ایک 60 فیصد کی سطح پر ہے۔

انہوں نے حزب اللہ کو خبردار کیا کہ فوج نے اس کے لیے جارحانہ منصوبے بھی تیار کر لیے ہیں، اگر اس نے صورت حال کو مزید خراب کرنے کا فیصلہ کیا تو ان منصوبوں پر عمل کیا جائے گا۔

جنرل کوچاوی نے مزید کہا کہ ہم دو اہم چیزوں پر کام کر رہے ہیں، پہلا ایرانی میزائلوں کا پتہ لگانا تاکہ عمل درآمد کے دن ہم ان میں سے زیادہ سے زیادہ پر حملہ کریں، دوسرا ان میزائلوں کو بے اثر کرنے کے لیے فضائی دفاعی نظام قائم کرنا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  79800
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ "جہنم کی آگ" نازل ہونے سے پہلے ایران کے پاس اب صرف 48 گھنٹے باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران کو نیا معاہدہ کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 10 دن کی مہلت دی گئی تھی، جس کا وقت اب تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب لاکھوں امریکی و نیٹو فوجی افغانستان میں تھے تب طالبان سے مذاکرات کرنے چاہیے تھے اب جب طالبان کو افغانستان میں فتح نظر آرہی ہے تو وہ ہماری بات کیوں سنیں گے۔ تاشقند میں وسطی اور جنوبی ایشیا رابطہ ممالک کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں