Monday, 27 September, 2021
افغانستان صورتحال کا الزام پاکستان پر دھرنا ناانصافی ہے، عمران

افغانستان صورتحال کا الزام پاکستان پر دھرنا ناانصافی ہے، عمران

اسلام آباد - وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب لاکھوں امریکی و نیٹو فوجی افغانستان میں تھے تب طالبان سے مذاکرات کرنے چاہیے تھے اب جب طالبان کو افغانستان میں فتح نظر آرہی ہے تو وہ ہماری بات کیوں سنیں گے۔ تاشقند میں وسطی اور جنوبی ایشیا رابطہ ممالک کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے تو وزیراعظم عمران خان نے انہیں فوری جواب دیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغان صورتحال کا پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانا بہت ناانصافی ہے، جب پاکستان پر الزامات لگائے جاتے ہیں تو مجھے اس پر بہت مایوسی ہوتی ہے۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے افغان امن عمل کے لیے سنجید ہ کوششیں کیں، افغانستان میں بدامنی کے لیے پاکستان پر الزامات لگانا غیر منصفانہ ہے، گزشتہ 15 سال میں پاکستان نے70 ہزارافراد کی قربانی دی، افغانستان میں امن سب ہمسایہ ممالک کے مفاد میں ہے، افغانستان وسطی اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان پل ہے، افغانستان میں امن خطے میں امن کیلیے ضروری ہے، خدشہ ہے افغانستان میں بدامنی سے مہاجرین کی ایک نئی لہر آئے گی۔

 

عمران خان کا کہنا تھا کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کےلیے ہر ممکن کوشش کی، افغان امن عمل میں افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر پاکستان ہی لے کر آیا، امریکا افغانستان میں فوجی حل کی کوشش کرتا رہا جو ممکن نہیں تھا، پاکستان نے روز اول سے کہا افغان مسئلے کا حل عسکری نہیں مذاکرات ہے، اب طالبان امریکا کی بات کیوں مانیں گے جب افغانستان سے فوجیوں کا انخلا ہورہا ہے۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ جب لاکھوں امریکی و نیٹو فوجی افغانستان میں موجود تھے اس وقت طالبان سے مذاکرات کرنے چاہیے تھے، اب جب انخلا کی تاریخ دے دی گئی اور چند ہزار امریکی فوجی رہ گئے ہیں تو اب طالبان کیوں سمجھوتہ کریں گے، وہ ہماری بات کیوں سنیں گے جب انہیں فتح دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ازبکستان، تاجکستان اور پاکستان کے لیے مل کر بیٹھنے اور افغانستان کے پرامن حل اور سیاسی تصفیے میں مدد کا وقت ہے۔ یہ ہمارے مفاد میں ہے۔

 

عمران خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اوربھارت کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ ہے، مسئلہ کشمیر کے حل سے پورے خطے میں رابطے کھل جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوادر پورٹ پر معاشی سرگرمیاں مارچ 2019 سے شروع ہوئیں، یہ منصوبہ  بی آر آئی کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، اور پورا خطہ اس سے مستفید ہوگا، جس کے لئے خطے میں امن و سلامتی سب سے اہم ہے۔

 

علاوہ ازیں سنٹرل اینڈ ساؤتھ ایشیا کانفرنس کے بعد وزیراعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی کی وفود کے ہمراہ ملاقات اور مذاکرات ہوئے۔ پاکستان وفد کی قیادت وزیراعظم عمران خان اور افغان وفد کی قیادت صدر اشرف غنی نے کی۔ ملاقات میں افغان امن عمل اور خطے کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  89615
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
افغانستان میں قیام امن اور خطے میں تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے پاکستان، امریکا، افغانستان اور ازبکستان پر مشتمل سفارتی پلیٹ فارم قائم کردیا گیا۔ امریکی دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق سفارتی پلیٹ فارم کا قیام تاشقند میں جاری سنٹرل اینڈ ساؤتھ ایشیا کانفرنس کے موقع پر عمل میں آیا۔
انسانی حقوق کے رہنما ال شارپٹن نے جارج فلائیڈ کی یادگاری تقریب سے خطاب میں کہا کہ اپنے گھٹنے سیاہ فاموں کی گردنوں سے ہٹاؤ۔ تبدیلی آنے تک احتجاج جاری رہے گا۔
سابق امریکی صدر براک اوباما نے امریکا میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے معاملے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ جارج فلائیڈ کی موت نے امریکا میں منظم نسلی امتیاز کو نمایاں کیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کے علاج کیلئے ہائیڈروکسی کلوروکوئین کو دوبارہ مفید قرار دے دیا البتہ ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابھی تک ایسی کوئی دوا سامنے نہیں آئی جس کی مدد سے کرونا کی وبا کا شکار ہونے والے افراد کی جانیں بچائی جا سکیں۔

مقبول ترین
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے بعد انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان بھی منسوخ ہوگیا۔ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی جانب سے سیکیورٹی وجوہات کو جواز بناکر اچانک دورہ پاکستان ختم کردیا گیا تھا اور اب آئندہ ماہ انگلینڈ کی میزبانی کی امیدوں پر بھی پانی پھر گیا۔
طالبان نے کابل فتح کرنے کے چار دن بعد افغانستان میں اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان کردیا۔ روسی نیوز چینل ’’آر ٹی‘‘ کی انگریزی ویب سائٹ کے مطابق افغانستان میں اسلامی حکومت یعنی امارتِ اسلامی قائم کرنے کا اعلان، افغان طالبان کے ترجمان
افغانستان کی حکومت نے طالبان کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈٰیا کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی اپنی ٹیم کے ہمراہ ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ خبریں ہیں کہ ملک چھوڑنے سے قبل صدر اشرف غنی نے امریکی
افغانستان میں طالبان تیزی سے شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے لگے،19 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا، ہرات کے بعد قندھار اور لشکر گاہ کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا ،ہرات میں طالبان سے بر سرپیکار ملیشیا کمانڈر اسماعیل خان، گورنر ہرات اور صوبائی پولیس چیف کو طالبان نے گرفتار کر لیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں