Friday, 09 December, 2022
برطانوی وزیراعظم کی دوڑ میں بھارتی نژاد رشی سوناک بھی شامل

برطانوی وزیراعظم کی دوڑ میں بھارتی نژاد رشی سوناک بھی شامل

 لندن - برطانیہ کے سابق وزیر خزانہ بھارتی نژاد رشی سوناک بھی وزارت عظمیٰ کا امیدوار بننے کی دوڑ میں شامل ہو گئے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ میں گزشتہ 3 برسوں میں 3 وزرائے اعظم تبدیل ہوچکے ہیں اور لزٹرس تو محض 45 دن بعد مستعفی ہوگئیں جس کے بعد نئے وزیر اعظم کے لیے امیدواروں کے نام سامنے آنا شروع ہوگئے۔

کووڈ پابندیوں کی خلاف ورزی اور اسے چھپانے کی کوشش پر اقتدار سے ہاتھ دھونے والے سابق وزیراعظم بورس جانسن بھی میدان میں اترنے کو تیار ہیں جب کہ کابینہ کی خاتون رکن پینی مورڈانٹ نے بھی حصہ لینے کا اعلان کردیا۔

بھارتی نژاد رشی سوناک نے بھی وزیراعظم کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کا اعلان کرتے ہوئے ٹوری پارٹی کے ایم پی ٹوبیاز اِل ووڈ نے ٹویٹ کیا کہ وہ پارٹی کے 100 ویں رُکن ہیں جو رشی سوناک کی حمایت کرنے میں آگے آئے۔

دوسری جانب وزیر دفاع ٹام ٹوگنڈاٹ نے سابق وزیراعظم بورس جانسن کو ڈھکے چھپے الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ اس دوڑ سے باہر رہیں لبتہ انھوں نے رشی سوناک کی پُر زور حمایت کی۔

تاحال رشی سونک نے وزیراعظم کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا بذات خود اعلان نہیں کیا لیکن اس کے باوجود اب تک 100 ارکان ان کی حمایت کرچکے ہیں۔

خیال رہے کہ 2016 میں بریگزٹ ریفرنڈم میں یورپی یونین سے انخلا کے خلاف اُس وقت کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے استعفیٰ دیدیا تھا جس کے بعد یہ منصب تھریسامے کے حصے میں آیا اور وہ 3 سال تک بریگزٹ ڈیل کے لیے کام کرتی رہیں لیکن کسی نتیجے پر پہنچ نہ سکیں اور مستعفی ہوگئیں۔

تھریسامے کے بریگزٹ ڈیل پر ناکامی کے بعد بورس جانسن وزیراعظم بنے اور انھوں نے یہ معرکہ سر بھی کیا تاہم کورونا پابندیوں کی خلاف ورزی اور پھر اسے چھپانے کی کوشش میں جھوٹ بولنے پر عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا۔

بورس جانسن کے بعد لز ٹرس وزیراعظم بنیں لیکن معاشی اصلاحات اور انتخابی مہم میں کیے گئے وعدے پورا نہ کرپانے کے باعث صرف 45 دن بعد ہی مستعفی ہوگئیں جس کے باعث ایک بار پھر برطانیہ میں وزارت عظمیٰ کے لیے دنگل سج رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر [email protected] پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  7290
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم مختصر علالت کے بعد 96 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں نے ان کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا جس کے بعد رائل فیملی کے افراد نے بکنگم پیلس میں آنے شروع کردیا تھا۔
یوکرین جنگ کے ردِعمل میں یورپی ممالک اٹلی، ڈنمارک، سویڈن اور اسپین نے کُل 73 روسی سفارتکاروں کو ملک سے بےدخل کردیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے اس اقدام پر کریملن کے ترجمان ڈمتری
وینیزویلا کے وزیر خارجہ خورخے اریزا (Jorge Arreaza) نے امریکی پابندیوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آئل ٹینکروں کے وینزنیلا میں داخلے سے متعلق امریکی اقدامات پوری قوم پر حملہ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ وینزویلا نے تیل لوڈ کرنے کے لئے آئل ٹینکروں کے وینزویلا میں داخلے پر پابندی سے متعلق امریکی اقدام کو
نیوزی لینڈ کی حکومت نے ملک کو کورونا وائرس سے پاک قرار دیتے ہوئے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیوزی لینڈ میں کورونا کی وبا ختم ہوگئی، تمام مریض صحت یاب ہوگئے ہیں، وہاں 17 روز سے کوئی نیا کیس

مقبول ترین
صدر مملکت عارف علوی نے اہم تقرریوں سے متعلق سمری پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد جنرل عاصم منیر نئے آرمی چیف اور جنرل ساحر شمشاد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر ہوگئے ہیں۔
سینئر صحافی اور اینکرپرسن ارشد شریف کی نماز جنازہ فیصل مسجد میں ادا کردی گئی ۔ نماز جنازہ خطیب فیصل مسجد پروفیسر ڈاکٹر قاری محمد الیاس نے پڑھائی، سیاسی، سماجی رہنمائوں، صحافی برادری سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
سینئر صحافی ارشد شریف کی موت گولیاں لگنے کے بعد دس سے تیس منٹ کے اندر واقع ہوئی۔ ارشد شریف کی پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی، ارشد شریف کی لاش کا اندرونی و بیرونی تفصیلی معائنہ کیا گیا، ارشد شریف کے جسم کے مختلف اعضا کے نمونے لئے گئے۔
پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ آئی ایس پی آر کی نیوز کانفرنس سے دھچکا پہنچا، ہم اداروں کی نیوز کانفرنس کا جواب نہیں دے سکتے۔ لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں اسد عمر، فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی اور ڈاکٹر شیری مزاری

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں