Saturday, 30 May, 2026
فوجی عدالتوں میں ٹرائلز انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہوگی، اقوام متحدہ

فوجی عدالتوں میں ٹرائلز انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہوگی، اقوام متحدہ

 نیویارک - اقوام متحدہ (یو این) کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے 9 مئی کو توڑ پھوڑ میں ملوث شہریوں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلانے کے حکومت پاکستان کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا کہ ’’پاکستان کا فوجی عدالتوں کو بحال اور اسے سیاسی کارکنان کیخلاف استعمال کرنے کا منصوبہ افسوسناک و پریشان کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کی موجود صورت حال میرے لیے گہری تشویش کا باعث ہے، جہاں ان دنوں قانون کی حکمرانی کو شدید خطرات لاحق ہیں‘۔

وولکر نے کہا کہ تشدد کے حالیہ واقعات کے بعد بڑے پیمانے پر سیاسی کارکنان اور شہریوں کی گرفتاری پریشان کن اور غیر منصفانہ ہے کیونکہ یہ ذاتی دلچسپی کی بنیاد پر ہورہا ہے اور اس کے بعد پاکستان کی حکومت نے عام شہریوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ عام شہریوں اور سیاسی کارکنان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات بین الاقوامی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ نو مئی کے احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں، زخمیوں کے فوری علاج کا بندوبست کیا جائے اور اس سارے واقعے کی غیرجانبدارانہ و شفاف تحقیقات کو بھی یقینی بنایا جائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خوش حالی انسانی حقوق، جمہوری عمل اور قانون کی حکمرانی سے ہی وابستہ ہے۔

واضح رہے کہ 9 مئی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے مبینہ کرپشن کیس میں گرفتار ہونے پر پی ٹی آئی کے کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد نے ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے کیے اور عسکری تنصیبات پر حملے کیے تھے، جس کے بعد حکومت نے ملوث افراد کے خلاف ملٹری اور سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  81297
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکہ کی 'سو فیصد کامیابی' قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جنگ بندی کے نتیجے میں ایران کے یورینیم ذخائر کو اب مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے گا۔ انہوں نے اس اہم سفارتی پیش رفت میں چین کے کلیدی کردار کا بھی اعتراف کیا، جس نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد فراہم کی۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ آج رات تاریخ کا ایک ایسا باب بند ہو سکتا ہے جسے دوبارہ کبھی واپس نہیں لایا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود ایسا نہیں چاہتے لیکن حالات بتاتے ہیں کہ ایسا ہونے کا قوی امکان ہے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں